سعودی عرب میں آج سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں مملکت میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے 21 قیراط سونے کی قیمت تقریباً 482.10 ریال فی گرام رہی۔
24 قیراط سونے کی فی گرام قیمت 550.97 ریال، 22 قیراط کی 505.06 ریال، 18 قیراط کی 413.23 ریال جبکہ 14 قیراط سونے کی قیمت 321.40 ریال ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار ’سعودی گولڈ‘ پلیٹ فارم کے مطابق جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں
عالمی سطح پر بھی جمعہ کے روز سونے کی قیمت ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی اور ہفتہ وار خسارے کی جانب بڑھتی دکھائی دی۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اسی دوران سرمایہ کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
گرین وچ وقت کے مطابق صبح 2:05 بجے اسپاٹ گولڈ مسلسل چوتھے سیشن میں کمی کے ساتھ 0.8 فیصد گر کر 4613.19 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جو 6 مئی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز سے اب تک سونے کی قیمت میں 2.1 فیصد کمی ہو چکی ہے۔
جون ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.4 فیصد گر کر 4619 ڈالر پر آگئے، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔
العربیہ کے مطابق مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر، جو کے سی ایم ٹریڈ سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ سونا ہر طرف سے دباؤ کا شکار ہے۔
ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث بانڈز کی ییلڈ اور امریکی ڈالر مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ شرح سود میں کمی سے متعلق مارکیٹ کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ تقریباً ایک سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جس سے سونا رکھنے کی متبادل لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔