اہم خبریں
20 May, 2026
--:--:--

مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں، اہم اعلان چند گھنٹوں میں متوقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکہ مذاکرات

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
پاکستان ثالثی کے عمل میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ایرانی حکام نے امریکی تجاویز کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں ہو سکتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والے جواب کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ اسی دوران پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران پہنچے ہیں، جن کا ملک دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکی فریق کے مؤقف موصول ہو چکے ہیں اور ہم ان کا فی الحال جائزہ لے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

 پاکستانی وزیر داخلہ کی موجودگی امریکہ کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کو آسان بنانے کے لیے ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران کے مطالبات کو ایک بار پھر دہرایا، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل اور حتمی خاتمہ، بشمول لبنان، ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرے کا خاتمہ شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہفتے کے اندر دوسری مرتبہ ایران کے دورے پر پہنچے ہیں، جبکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور اسلام آباد جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کر رہا ہے۔ 

اس دوران محسن نقوی نے تہران میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔

ChatGPT Image 19 مايو 2026، 09 12 05 م
ایران نے امریکی مؤقف موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا جائزہ شروع کر دیا

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق محسن نقوی گزشتہ ہفتے بھی تہران گئے تھے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔ 

واشنگٹن اور تہران
کے درمیان
معاہدے کے
مسودے کو حتمی
شکل دی جا رہی ہے

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف ممکنہ طور پر کل ایران کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ معاہدے کے حتمی فارمولے کا اعلان کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ حج سیزن کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کا نیا دور بھی متوقع ہے۔
اس سے قبل العربیہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستان کو بعض اقتصادی نکات پر ’محدود امریکی لچک‘ سے آگاہ کیا گیا ہے، جن میں ایران پر پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے تاہم واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری مطالبات اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں دے گا۔
ذرائع کے مطابق ایران اب بھی مستقبل میں کسی ممکنہ حملے کی روک تھام سے متعلق امریکی ضمانتوں کو ناکافی سمجھتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو واشنگٹن فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

وینس، جنہوں نے اپریل میں پاکستان کا دورہ کر کے مذاکراتی وفد کی قیادت کی تھی، نے کہا کہ پیش رفت ہو رہی ہے لیکن ہم کام جاری رکھیں گے اور آخرکار یا تو معاہدہ ہو جائے گا یا نہیں ہوگا۔

ٹرمپ ایران معاہدہ
امریکہ نے جوہری مطالبات اور آبنائے ہرمز کی بحری سلامتی پر مؤقف سخت رکھا ہے

وینس کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران پر نئی کارروائی کا حکم دینے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم تہران کو معاہدے کے لیے دو یا تین دن کی مہلت دی گئی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام ترک کرے اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کی اجازت دے، جہاں سے دنیا کی تیل اور مائع گیس کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل ہوتی ہے۔

دوسری جانب ایران جنگی نقصانات کے ازالے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرے کے خاتمے، اور تمام محاذوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کر رہا ہے۔