اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

امریکہ میں اسرائیل مخالف رجحان تیز، رائے عامہ میں تاریخی تبدیلی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ اسرائیل تعلقات
امریکی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، اسرائیلی پالیسیوں اور غیر مشروط امریکی حمایت پر سوالات اٹھانے لگی

امریکہ میں اسرائیل کے حوالے سے عوامی رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
نئے سرویز کے مطابق امریکیوں کی بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں سے ناخوش ہے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر اعتماد بھی کم ہوا ہے۔
غزہ جنگ، ایران تنازع اور امریکی داخلی سیاست میں تبدیلی نے اسرائیل کی حمایت کو اہم سیاسی بحث بنا دیا ہے۔

امریکہ میں اسرائیل کے حوالے سے عوامی رائے تیزی سے منفی رخ اختیار کر رہی ہے۔ 

کئی دہائیوں تک امریکی عوام اور حکومت کی خصوصی حمایت حاصل کرنے والا اسرائیل اب ایسے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں امریکی معاشرے کے مختلف طبقات اس کی پالیسیوں اور غیر مشروط امریکی حمایت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

یہ تبدیلی مختلف عوامی سرویز میں نمایاں ہو رہی ہے، جن میں ایک اہم سروے ’پیو ریسرچ سینٹر‘ کا بھی ہے۔ 

سروے کے مطابق 60 فیصد سے زائد امریکی، اسرائیلی پالیسیوں سے ناخوش ہیں اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اسرائیل کو مسلسل اور غیر محدود امریکی حمایت کیوں دی جاتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رجحان اسرائیل کی ایک اہم اسٹریٹجک طاقت کو متاثر کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ تبدیلی خاص طور پر امریکہ کی نوجوان نسل میں زیادہ واضح ہے، حالانکہ اسرائیل نے اس رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیری مہمات بھی شروع کی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مقبولیت بھی امریکی عوام کے درمیان نمایاں حد تک کم ہوئی ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60 فیصد امریکی اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جبکہ نیتن یاہو پر اعتماد کھونے والوں کی 

شرح بھی نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے۔

ڈیموکریٹ ووٹرز اور ان کے حامی آزاد خیال امریکیوں میں اسرائیل سے عدم اطمینان کی شرح تقریباً 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ریپبلکن جماعت کے نوجوان ووٹرز میں بھی اسرائیل کے حوالے سے تنقیدی سوچ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

65456465 2
60 فیصد سے زائد امریکی اسرائیلی پالیسیوں پر منفی رائے رکھتے ہیں (فوٹو: المجلہ)

اس کے برعکس عمر رسیدہ ریپبلکن ووٹرز، سفید فام انجیلی عیسائیوں اور امریکی یہودیوں کی بڑی تعداد اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتی ہے۔

ڈیموکریٹس کے
ساتھ ریپبلکن
نوجوان ووٹرز میں
بھی اسرائیل سے
ناراضی بڑھی ہے

مختلف مذہبی اور سماجی گروہوں کے اعداد و شمار بھی امریکی معاشرے میں گہری تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
غیر مذہبی امریکیوں، مسلمان امریکیوں اور بعض دیگر گروہوں میں اسرائیل کے لیے حمایت انتہائی کم سطح تک پہنچ چکی ہے۔
اسی دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے عالمی معاملات سے نمٹنے کے انداز پر بھی امریکیوں کا اعتماد کم ہوا ہے، جبکہ اسرائیل سے متعلق فیصلوں کے معاملے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی اعتماد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکہ کے سیاسی منظرنامے میں بھی تبدیلی واضح ہو رہی ہے۔
کئی ڈیموکریٹ رہنما اب اسرائیل کو اسلحہ فروخت روکنے جیسے موضوعات کھل کر اٹھا رہے ہیں، جبکہ بعض امیدوار اپنی انتخابی مہمات اسرائیل سے فاصلہ رکھنے یا امریکی پالیسیوں پر نظرثانی کے نعرے کے ساتھ چلا رہے ہیں۔
غزہ جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کے کردار کو امریکی سیاست میں انتخابی بحث کا اہم موضوع بنایا جا رہا ہے۔

کئی ڈیموکریٹ رہنما اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ ریپبلکن جماعت کے اندر بھی ’امریکہ پہلے‘ نظریئے سے وابستہ حلقوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔

45564654
غزہ جنگ اور ایران کشیدگی نے امریکی سیاست میں اسرائیل کو بڑا انتخابی مسئلہ بنا دیا (فوٹو: المجلہ)

سابق امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن، بعض ریپبلکن سیاست دانوں اور قدامت پسند شخصیات نے بھی اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اس بدلتے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر میڈیا اور سفارتی مہمات پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ 

اسرائیلی حکومت نے بیرون ملک اپنی شبیہ بہتر بنانے اور عالمی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبوں، میڈیا اشتہارات، سفارتی پروگراموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر توجہ بڑھا دی ہے۔

مبصرین کے مطابق غزہ جنگ، ایران سے کشیدگی اور امریکی داخلی سیاست میں بدلتے رجحانات نے اسرائیل اور امریکہ کے روایتی تعلقات کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ آنے والے انتخابات اس تبدیلی کی سمت مزید واضح کر سکتے ہیں۔

بشکریہ: المجلہ