واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری نازک جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
امریکا نے ایران کے سامنے سخت شرائط رکھ دی ہیں، ایران نے شدید ردعمل کی دھمکی دی ہے جبکہ اسرائیل ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔
آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
تہران انشورنس
خدمات فیس کی
ادائیگی کے لیے
بٹ کوائن کے
استعمال پر
غور کر رہا ہے
اسرائیل کئی دنوں یا حتیٰ کہ ہفتوں پر مشتمل ممکنہ جنگی مرحلے کی تیاری کر رہا ہے، جو وہاں بڑھتی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔
اس نظام کے مطابق صرف غیر فوجی جہاز مخصوص راستوں سے گزر سکیں گے، جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔
ایرانی حکام جہاز مالکان کی شناخت اور ان کے دشمن ممالک سے تعلق نہ ہونے کی تصدیق بھی کریں گے۔
اسی کے ساتھ تہران بحری انشورنس خدمات کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم بھی متعارف کرا رہا ہے، جس کے تحت انشورنس فیس کی ادائیگی کے لیے بٹ کوائن کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے بلکہ اقتصادی دباؤ کم کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال مذاکرات اور جنگ کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔
ہر فریق دباؤ بڑھا کر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے مگر کوئی بھی مکمل جنگ کے خطرات سے بھی آگاہ ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ہر امریکی دباؤ کے بعد ایران مزید سخت ردعمل کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔
سیاسی اور عسکری راستوں کے اس امتزاج نے موجودہ جنگ بندی کو ایک عارضی اور حربی وقفہ بنا دیا ہے نہ کہ مستقل امن کی بنیاد۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو خطہ ایک بار پھر کھلی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطہ ایک نئے اور خطرناک امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں ہونے والے فیصلے پورے مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔
بشکریہ: الجزیرہ نیٹ ورک