بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ بیجنگ کی
عالمی حکمتِ عملی
کا مرکز بن گیا
اسی تناظر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو
Belt and Road Initiative چین کے سب سے اہم عالمی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جسے 2013 میں قدیم شاہراہِ ریشم کو جدید شکل دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کا مقصد ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور لاجسٹک روابط کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ حساس بحری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا بھی اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بندرگاہوں، صنعتی زونز اور ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید صنعتی منصوبے شامل ہیں۔
ان منصوبوں میں عمان کی دقم بندرگاہ، امارات کی خلیفہ بندرگاہ اور قطر کی حمد بندرگاہ نمایاں مثالیں ہیں۔
توازن کی پالیسی اور ’4 نکاتی‘ منصوبہ
سیاسی سطح پر چین خطے کے تمام اہم فریقوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں خلیجی ممالک، ایران اور یہاں تک کہ اسرائیل بھی شامل ہیں تاکہ وہ کسی ایک فریق کے ساتھ مکمل صف بندی سے بچتے ہوئے سب کے ساتھ رابطے برقرار رکھ سکے۔
چین کا یہ کردار 2023 میں واضح طور پر سامنے آیا جب بیجنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 7 سالہ سفارتی کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔
اس پیش رفت کو چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کی علامت قرار دیا گیا۔
اگرچہ بین الاقوامی فورمز پر چین اکثر ایران کے قریب دکھائی دیتا ہے، تاہم 2024 میں بیجنگ نے متحدہ عرب امارات کے اس مؤقف کی حمایت بھی کی جس میں ایران کے ساتھ متنازع 3 جزیروں کے مسئلے کو بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر تہران نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے چینی سفیر کو طلب کیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران چین خود کو خطے میں استحکام کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیجنگ کی پالیسی توازن، مکالمے اور سخت بلاک سیاست سے دور رہنے پر مبنی ہے۔
اسی مقصد کے تحت چینی صدر نے ’4 نکاتی‘ منصوبہ بھی پیش کیا، جس میں پُرامن بقائے باہمی، ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام، ترقی اور سلامتی میں توازن، اور خطے کو درپیش اقتصادی و سیکیورٹی چیلنجز کے حل پر زور دیا گیا۔
یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چین خود کو ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے، مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔