اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

مشرقِ وسطیٰ طاقت کا نیا توازن: چین، امریکہ کی جگہ لینے کے قریب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
چین مشرقِ وسطیٰ
چین مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے اپنا سیاسی اور اقتصادی اثر بڑھا رہا ہے

مشرقِ وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر عالمی توجہ بڑھ گئی ہے۔
چین خلیجی توانائی، تجارت، بندرگاہوں، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے جبکہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے خود کو خطے میں ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ دورے اور چینی صدر شی سے ملاقات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار پر عالمی توجہ مزید مرکوز ہوگئی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی طاقتیں خطے میں خطرناک تصادم کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور ’دنیا کی فیکٹری‘ کہلانے والا چین اب مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

 عالمی معیشت میں جاری تبدیلیوں اور صنعتی مرکز کے ایشیا منتقل ہونے نے بیجنگ کو خطے میں نئی طاقت کے طور پر ابھرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مزید پڑھیں

عالمی سپلائی چینز اور ویلیو چینز میں تبدیلی کے ساتھ چین نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک ایسے شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے جو صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس سے پہلے تعلقات زیادہ تر تیل اور تجارتی اشیا کے تبادلے تک محدود تھے۔

خلیجی ممالک اب چین کے لیے توانائی کا اہم ترین ذریعہ بن چکے ہیں، 

جبکہ بیجنگ خطے کو صنعتی انفراسٹرکچر، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور مینوفیکچرنگ صلاحیت فراہم کر رہا ہے۔ 

یہ تعلق اب باہمی اسٹریٹجک مفادات پر مبنی شراکت داری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

چین خلیجی تیل کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں شامل ہے، جہاں خطے سے اس کی تیل درآمدات 280 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جو چین کی مجموعی تیل درآمدات کا تقریباً 40 فیصد بنتی ہیں۔

ChatGPT Image 16 مايو 2026، 01 07 21 م
خلیجی ممالک سکیورٹی کے لیے واشنگٹن جبکہ معیشت کے لیے بیجنگ پر انحصار بڑھا رہے ہیں

اسی طرح چین اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھ کر تقریباً 300 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 2014 میں یہ حجم صرف 182 ارب ڈالر تھا۔ یہ اعداد و شمار خطے میں چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔

اقتصادی طاقت سے آگے بڑھتا سیاسی اثر

اگرچہ چین خود کو سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی اور “پرامن ترقی” پر یقین رکھنے والی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن اس کی عالمی حکمتِ عملی مغربی بالادستی کو بتدریج محدود کرنے اور معیشت کو جیوپولیٹیکل اثر و رسوخ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ بیجنگ کی
عالمی حکمتِ عملی
کا مرکز بن گیا

اسی تناظر میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو
Belt and Road Initiative چین کے سب سے اہم عالمی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، جسے 2013 میں قدیم شاہراہِ ریشم کو جدید شکل دینے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کا مقصد ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور لاجسٹک روابط کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ حساس بحری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا بھی اس حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بندرگاہوں، صنعتی زونز اور ترقیاتی منصوبوں میں تقریباً 250 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید صنعتی منصوبے شامل ہیں۔
ان منصوبوں میں عمان کی دقم بندرگاہ، امارات کی خلیفہ بندرگاہ اور قطر کی حمد بندرگاہ نمایاں مثالیں ہیں۔

توازن کی پالیسی اور ’4 نکاتی‘ منصوبہ

سیاسی سطح پر چین خطے کے تمام اہم فریقوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں خلیجی ممالک، ایران اور یہاں تک کہ اسرائیل بھی شامل ہیں تاکہ وہ کسی ایک فریق کے ساتھ مکمل صف بندی سے بچتے ہوئے سب کے ساتھ رابطے برقرار رکھ سکے۔

چین کا یہ کردار 2023 میں واضح طور پر سامنے آیا جب بیجنگ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 7 سالہ سفارتی کشیدگی کا خاتمہ ہوا۔ 

اس پیش رفت کو چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت کی علامت قرار دیا گیا۔

ٹرمپ شی ملاقات
چین خلیج میں فوجی طاقت نہیں بلکہ معاشی اور تجارتی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے

اگرچہ بین الاقوامی فورمز پر چین اکثر ایران کے قریب دکھائی دیتا ہے، تاہم 2024 میں بیجنگ نے متحدہ عرب امارات کے اس مؤقف کی حمایت بھی کی جس میں ایران کے ساتھ متنازع 3 جزیروں کے مسئلے کو بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر تہران نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے چینی سفیر کو طلب کیا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران چین خود کو خطے میں استحکام کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیجنگ کی پالیسی توازن، مکالمے اور سخت بلاک سیاست سے دور رہنے پر مبنی ہے۔

اسی مقصد کے تحت چینی صدر نے ’4 نکاتی‘ منصوبہ بھی پیش کیا، جس میں پُرامن بقائے باہمی، ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام، ترقی اور سلامتی میں توازن، اور خطے کو درپیش اقتصادی و سیکیورٹی چیلنجز کے حل پر زور دیا گیا۔

یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چین خود کو ایک ایسی عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے، مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔