اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلی: کیا ڈالر کی اجارہ داری ختم ہو رہی ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری اور چینی یوآن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ

دنیا بھر کے مرکزی بینک اب چینی یوآن کے ذریعے کرنسی تبادلے کے معاہدوں (سوئپ لائنز) میں تیزی لا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ یوآن اب صرف چین کی مقامی کرنسی نہیں رہا، بلکہ بین الاقوامی تجارت، لیکویڈیٹی کی فراہمی اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کا اہم ترین ذریعہ بن چکا ہے۔

مارچ کے اختتام تک پیپلز بینک آف چائنہ کے سوئپ لائنز سے رقوم کا اخراج 111.6 ارب یوآن (تقریباً 16.4 ارب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے۔ 

بلومبرگ کے مطابق یہ گزشتہ 2 برس کی بلند ترین سطح ہے اور سہ ماہی بنیادوں پر 17.4 ارب یوآن (2.56 ارب ڈالر) کا اضافہ 2023 کے بعد سب سے نمایاں ہے۔

سوئپ لائنز: معاشی سہولت کا نیا ذریعہ

واضح رہے کہ سوئپ لائنز مرکزی بینکوں کے درمیان لیکویڈیٹی کے چینلز کے طور پر کام کرتی ہیں۔

سوئپ لائنز ممالک کو اپنی مقامی کرنسی کے بدلے یوآن حاصل کرنے کی سہولت دیتی ہیں۔ اس سے تجارت، سرمایہ کاری اور مقامی بینکوں کو رقوم کی فراہمی آسان ہو جاتی ہے، جو ڈالر پر انحصار کم کرنے میں مددگار ہے۔

عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری اور چینی یوآن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

چین کا عالمی مالیاتی نیٹ ورک

چین نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنے سوئپ معاہدوں کا دائرہ کار وسیع کیا ہے۔

2025 کے اختتام تک 32 ممالک اور خطے اس نیٹ ورک کا حصہ بن چکے ہیں، جن کی کل مالیت 4.52 ٹریلین یوآن (665 ارب ڈالر) ہے۔ 

اسی طرح سوئفٹ (SWIFT) نظام میں بھی یوآن کی عالمی ادائیگیوں میں حصہ 3.10 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

جیو پولیٹیکل عوامل اور یوآن کا عروج

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی 2 بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، چین کا ایشیا، افریقہ اور عرب خطے کے لیے کلیدی تجارتی شراکت دار بننا ہے۔

دوسری اہم وجہ ڈالر کو سیاسی ہتھیار بنانے اور روس جیسے ممالک کے اثاثے منجمد کرنے پر عالمی سطح پر پایا جانے والا خدشہ ہے۔

عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری اور چینی یوآن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مالیاتی تحفظ اور نئی حکمت عملی

سی ایف آئی (CFI) کے جورج خوری کے مطابق یوآن کی سوئپ لائنز ممالک کو مالیاتی استحکام فراہم کرتی ہیں۔

روس پر پابندیوں اور 300 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد ہونے کو ایک ’ٹرننگ پوائنٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب ممالک اپنے ریزروز میں تنوع لا کر سیاسی اور مالی خطرات سے بچاؤ چاہتے ہیں۔

تعددیت (Pluralism) پسندی کی جانب سفر

اگرچہ ڈالر اب بھی عالمی ریزروز میں 58 فیصد اور تجارتی لین دین میں 80 فیصد سے زائد حصے کے ساتھ حاوی ہے، لیکن اس کا غلبہ 1999 کے 71 فیصد سے کم ہوا ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا ایک واحد کرنسی کے بجائے اب کثیر کرنسیوں والے مالیاتی نظام کی طرف گامزن ہے۔

عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری اور چینی یوآن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یوآن کو درپیش رکاوٹیں

ماہرین کے مطابق یوآن کو ڈالر کا مکمل متبادل بننے میں اب بھی وقت درکار ہے۔

چین میں سرمایہ کاری کے بہاؤ پر موجود پابندیاں اور امریکی بانڈ مارکیٹ کی گہرائی ڈالر کو ایک محفوظ پناہ گاہ بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ چینی مالیاتی نظام کی شفافیت کی کمی بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

عرب اور افریقی ممالک کے لیے مواقع

عرب اور افریقی خطے کے لیے یوآن کا استعمال ایک بڑی پیش رفت ہے، کیونکہ چین ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبوں میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔

یوآن کے استعمال سے تبادلے کے اخراجات میں کمی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت تجارت میں مزید سہولت پیدا ہونے کی توقع ہے۔

عالمی مالیاتی نظام میں ڈالر کی اجارہ داری اور چینی یوآن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کیا پیٹرولیم تجارت میں یوآن چلے گا؟

تیل اور اسٹریٹجک اشیا کی یوآن میں قیمت طے کرنے کے تجربات محدود پیمانے پر شروع ہو چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرو ڈالر کا نظام فوری طور پر ختم نہیں ہوگا، لیکن مستقبل میں یوآن کا بڑھتا ہوا استعمال عالمی توانائی منڈیوں میں ڈالر کی اجارہ داری کو ضرور چیلنج کرے گا۔

یوآن کا بڑھتا ہوا دائرہ کار ڈالر کے فوری خاتمے کی علامت نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی معاشی ارتقا کا اشارہ ہے۔ 

دنیا اب ایک متوازن اور کثیر قطبی مالیاتی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں ممالک اپنی معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے کے لیے ڈالر کے علاوہ بھی متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔