اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

خلیج میں پھنسے جہازوں کی مدد کے لیے سعودی بحری ٹگ بوٹس متحرک

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آبنائے ہرمز بحران
سعودی عرب نے خلیج میں پھنسے جہازوں، ملاحوں اور انسانی ہمدردی کے کیسز کے لیے امدادی آپریشن شروع کردیا ہے (فوٹو: العربیہ)

سعودی عرب نے خلیج میں پھنسے جہازوں کی مدد کے لیے بحری ٹگ بوٹس تعینات کر دی ہیں، جو ایندھن، مرمت، لاجسٹک سپورٹ اور انسانی امداد فراہم کر رہی ہیں، جبکہ ایران اب بھی بحری گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی چینل کو موصول خصوصی تصاویر میں سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی گئی متعدد بحری ٹگ بوٹس دکھائی گئیں، جو خلیجی پانیوں میں پھنسے جہازوں کو سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ 

یہ وہ جہاز ہیں جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خوف سے آبنائے ہرمز عبور نہیں کر سکے۔

یہ ٹگ بوٹس جہازوں کو فنی اور لاجسٹک معاونت، مرمت کی خدمات، ایندھن کی فراہمی اور دیگر ضروریات مہیا کر رہی ہیں۔ 

اس کے علاوہ ایسے ملاحوں اور عملے کے انسانی ہمدردی کے تحت انخلا میں بھی مدد دی جا رہی ہے جنہیں علاج یا اپنے ممالک واپس جانے کی ضرورت ہے۔

قانونی پروٹوکولز

ایرانی سرکاری ٹی وی نے گزشتہ روز ہفتے کو دعویٰ کیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ ایران کے وضع کردہ ’قانونی پروٹوکولز‘ کے تحت مزید جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو عملاً بند کر رکھا ہے۔

یہ آبنائے، جس سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی گزرتی تھی، کھاد اور عالمی بحری تجارت کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ 

اسی وجہ سے یہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں مرکزی تنازع بن چکی ہے۔

جہاں تہران جنگ کے بعد بھی آبنائے میں بحری ٹریفک پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے، وہیں امریکا اور کئی دیگر ممالک اس اہم گزرگاہ میں آزاد بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے پر اصرار کر رہے ہیں۔

جہازوں اور ملاحوں کے لیے سنگین بحران

یاد رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس وقت تقریباً دو ہزار جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران نے اس اہم بحری راستے میں آزادانہ آمد و رفت کو محدود کر رکھا ہے۔

 اس صورتحال میں 20 ہزار سے زائد ملاح شدید خطرات اور سپلائی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

عالمی بحری تنظیم کے مطابق ہزاروں ملاح کھلے سمندر میں انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، کیونکہ وہ نہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ واپس لوٹ سکتے ہیں، جبکہ یہ بحران گزشتہ 28 فروری سے مسلسل جاری ہے۔