امریکی فوج کی غیر معمولی تعیناتی اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران سے وابستہ بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز میں نقل و حمل جاری ہے۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں ایرانی تجارت کو روکنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکیں۔
الجزیرہ کے اوپن سورس یونٹ کے تجزیے کے مطابق 13 اپریل 2026ء کو شروع ہونے والے امریکی محاصرے کے پہلے ماہ کے دوران 87 ایرانی بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا۔
ان میں سے 16 جہاز پہلے ہی امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھے۔
مجموعی طور پر اس عرصے میں 120 جہازوں نے امریکی احکامات کی خلاف ورزی کی جو کل ٹریفک کا 53 فیصد بنتا ہے۔ ان میں 34 ایسے جہاز بھی شامل تھے جو براہ راست ایرانی بندرگاہوں سے منسلک نہیں تھے مگر پابندیوں کی زد میں تھے۔
اس دوران چین، بھارت، پاکستان، ترکیہ اور قطر کی کمپنیوں کے زیر انتظام چلنے والے 13 بحری جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں ناکام رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی جہازوں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھا تھا جس سے اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور 11 ڈیسٹرائرز سمیت 15 جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں۔
اس بھاری عسکری موجودگی کا مقصد ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے تمام بحری جہازوں کو روکنا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے جہازوں میں 72 جنرل کارگو، 49 آئل ٹینکرز اور 33 بلک کیریئرز شامل تھے۔
اس کے علاوہ 21 مال بردار جہازوں، 20 کنٹینر بردار جہازوں اور 13 ایل پی جی ٹینکرز نے بھی امریکی پابندیوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنا سفر مکمل کیا۔
28 اپریل کو سب سے زیادہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کر کے امریکی دھمکیوں کو چیلنج کیا۔
ان جہازوں کو چلانے والی کمپنیوں میں ایران کی 10، متحدہ عرب امارات کی 7 اور چین کی 6 کمپنیاں سر فہرست رہیں جبکہ 9 جہازوں نے اپنی شناخت چھپائی۔
بحری جہازوں کی منزلوں کے لحاظ سے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہیں 21 جہازوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہیں۔
اس کے بعد عمان کی بندرگاہوں پر 14، ایرانی بندرگاہوں پر 12 اور چین کی بندرگاہوں پر 10 بحری جہازوں نے لنگر انداز ہو کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوئی ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن ایرانی ساحل سے 323 کلومیٹر دُور گشت کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ 2 ارلی برک ڈیسٹرائرز بھی موجود ہیں جو خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے داخلی راستوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
امریکی بحری بیڑے میں شامل یو ایس ایس ٹرپولی عمانی ساحل سے محض 117 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔
یہ حملہ آور بحری جہاز طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے فضائی اور بحری کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے واشنگٹن کو واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی عسکریت پسندی کے خلاف ہیں۔
دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ٹریفک فیس لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنا لازمی ہو گا۔