اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

ٹرمپ: سعودی عرب کی درخواست پر ایران پر حملہ موخر کردیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران پر امریکی حملہ
مہنگائی اور اخراجات زندگی ریپبلکن ووٹرز کے لیے بڑا مسئلہ بن گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران پر منگل کو ہونے والا فوجی حملہ سعودی عرب، قطر اور امارات کی درخواست پر مؤخر کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ ایک قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کا موقع موجود ہے تاہم واشنگٹن اب بھی فوجی آپشن کھلا رکھے ہوئے ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج پیر کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف کل منگل کو ہونے والا فوجی حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے براہِ راست درخواست کے بعد کیا گیا جبکہ تہران کے ساتھ نئے معاہدے کے لیے شدید سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔

العربیہ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید کی درخواست کے احترام میں کیا گیا۔ 

مزید پڑھیں

انہوں نے بتایا کہ خلیجی رہنماؤں نے یقین دلایا ہے کہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کا حقیقی موقع موجود ہے جو خطے کے استحکام کو یقینی بنائے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر ہمارا حملہ کل کے لیے منصوبہ بندی میں شامل تھا مگر ہم کل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب، قطر اور امارات کے رہنماؤں نے 

واشنگٹن سے حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی کیونکہ ان کے مطابق ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو ہمارے اور پورے خطے کے لیے قابلِ قبول ہو۔

امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے حوالے سے سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور واشنگٹن جس معاہدے کا خواہاں ہے اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن نے فوج کو ’ہمہ گیر حملے‘ کی تیاری برقرار رکھنے کا حکم دیا

ہمہ گیر حملے کی دھمکی

حملہ مؤخر کرنے کے باوجود ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی افواج کو قابلِ قبول معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر مکمل حملے کی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔ 

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ اگر موجودہ سیاسی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا دوبارہ حملہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز کے
قریب ایران نے
دفاعی نظام
فعال کر دیا

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ امریکی حکام بارہا ایرانی جوہری فائل میں فیصلہ کن لمحے کے قریب آنے کی وارننگ دے چکے ہیں۔
ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ فی الحال کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، اور ایران جانتا ہے کہ جلد کیا ہونے والا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اب خطے میں بڑی جنگ روکنے کے لیے زیادہ فعال ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ ایسی کسی بھی فوجی محاذ آرائی سے خطے کے استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب، قطر اور امارات نے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اپنے سفارتی رابطے تیز کئے ہیں جبکہ پاکستان بھی دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ پہلے ہی تصدیق کر چکی ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں جبکہ بعض اطلاعات میں ایک نظر ثانی شدہ ایرانی تجویز کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے اور واشنگٹن کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات شامل ہیں۔

ان اطلاعات کے مطابق ایران نے کسی بھی معاہدے کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ وہ افزودہ یورینیم امریکا کے بجائے روس منتقل کرنے کی مشروط تجویز پر قائم ہے۔