امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران پر منگل کو ہونے والا فوجی حملہ سعودی عرب، قطر اور امارات کی درخواست پر مؤخر کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ ایک قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کا موقع موجود ہے تاہم واشنگٹن اب بھی فوجی آپشن کھلا رکھے ہوئے ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ امریکی حکام بارہا ایرانی جوہری فائل میں فیصلہ کن لمحے کے قریب آنے کی وارننگ دے چکے ہیں۔
ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ فی الحال کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، اور ایران جانتا ہے کہ جلد کیا ہونے والا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اب خطے میں بڑی جنگ روکنے کے لیے زیادہ فعال ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ ایسی کسی بھی فوجی محاذ آرائی سے خطے کے استحکام اور عالمی توانائی منڈیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران سعودی عرب، قطر اور امارات نے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اپنے سفارتی رابطے تیز کئے ہیں جبکہ پاکستان بھی دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔