سعودی وزارتِ صحت نے حج سیزن 1447 ہجری کے آغاز کے ساتھ ہی حجاج کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی طبی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
وزارت کے مطابق مقدس مقامات، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشاعرِ مقدسہ میں تعینات طبی ٹیموں نے ہیٹ اسٹریس کے 10 متاثرہ افراد کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی، جس سے کسی بھی پیچیدگی کو بروقت قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
وزارتِ صحت نے بتایا کہ حج سیزن کے آغاز سے یکم ذی الحجہ تک مجموعی طور پر 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد طبی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں، جو سعودی عرب کے جدید اور مربوط صحت نظام کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان خدمات میں ایمرجنسی کیئر، فوری طبی امداد، اسپتالوں میں داخلہ، آپریشنز، آؤٹ پیشنٹ سہولیات اور ٹیلی فون ہیلپ سروسز شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 21 ہزار سے زائد حجاج نے صحت مراکز اور ایمرجنسی نگہداشت کی خدمات سے فائدہ اٹھایا، جبکہ مختلف اسپتالوں کے ایمرجنسی شعبوں میں 14 ہزار 600 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔
اسی طرح 1711 حجاج نے آؤٹ پیشنٹ کلینکس سے رجوع کیا، جہاں انہیں خصوصی طبی مشورے اور علاج فراہم کیا گیا۔
وزارت کے مطابق 2150 مریضوں کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا، جبکہ 138 مختلف نوعیت کی سرجریز بھی کی گئیں۔
ان میں 87 دل کی کیتھیٹرائزیشن اور 7 اوپن ہارٹ سرجریز شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سعودی عرب نے حج سیزن کے دوران جدید کارڈیک کیئر سہولیات بھی مکمل طور پر فعال کر رکھی ہیں۔
دوسری جانب وزارت کے متحدہ کال سینٹر 937 کو 11 ہزار سے زائد کالز موصول ہوئیں، جن میں طبی مشاورت، ہنگامی رہنمائی اور صحت سے متعلق سوالات شامل تھے۔
وزارت نے واضح کیا کہ کال سینٹرز، ایمبولینس سروسز، فیلڈ کلینکس اور اسپتالوں کے درمیان مربوط رابطے کے ذریعے فوری ردعمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
وزارتِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ تمام خدمات سعودی وژن 2030 کے تحت اور ’ضیوفِ رحمان سروس پروگرام‘ کے اہداف کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے حجاج کو محفوظ، آرام دہ اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
وزارت نے حجاج کرام کو شدید گرمی سے بچاؤ، پانی کا زیادہ استعمال، دھوپ میں غیر ضروری قیام سے گریز اور طبی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔