مسجد الحرام کی پہلی تاریخی گھڑی، جو 1933 میں شاہ عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر نصب کی گئی، 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک مکہ مکرمہ کی شناخت اور مسجد الحرام کی تاریخی یادداشت کا اہم حصہ بنی رہی۔
30 میٹر بلند اس گھڑی نے نمازوں کے اوقات کے تعین میں مرکزی کردار ادا کیا اور آج اسے تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔
مکہ مکرمہ کی تاریخ صرف پتھروں، میناروں اور صحنوں میں نہیں بستی بلکہ کچھ نشانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو وقت کے سفر کی خاموش گواہ بن جاتی ہیں۔
مسجد الحرام کی پہلی عظیم گھڑی بھی انہی تاریخی یادگاروں میں شامل ہے، جس نے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک حرم مکی کے ماحول، عبادت گزاروں کی زندگی اور شہرِ مقدس کی روزمرہ دھڑکنوں کے ساتھ اپنا ایک انمٹ تعلق قائم کئے رکھا۔
سن 1933 میں بانیٔ مملکت شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مسجد الحرام میں نمازوں کے اوقات کے درست تعین کے لیے ایک بڑی گھڑی نصب کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں
یہ ایک ایسا دور تھا جب مکہ مکرمہ آج کی طرح بلند و بالا عمارتوں، عظیم الشان توسیعات اور جدید ٹیکنالوجی سے مزین نہیں تھا بلکہ شہر اپنی سادگی، روحانیت اور تاریخی شناخت کے ساتھ عبادت گزاروں کا استقبال کرتا تھا۔
اس اہم منصوبے کی ذمہ داری اُس وقت کے وزیر خزانہ عبداللہ بن سلیمان الحمدان کو سونپی گئی۔
انہوں نے جرمنی سے خصوصی طور پر گھڑی منگوائی۔
یہ تاریخی گھڑی جدہ بندرگاہ کے راستے مکہ مکرمہ پہنچی، جبکہ اس کی تنصیب اور نگرانی اُس دور میں مکہ مکرمہ کے میئر عباس قطان کے سپرد کی گئی۔
دو بڑے رخ رکھنے والی یہ گھڑی دار الحکومہ کی عمارت پر 30 میٹر سے زائد بلندی پر نصب کی گئی۔
اس کے ٹاور کی تعمیر کا آغاز رجب 1933 میں ہوا اور شعبان کے آخری ایام میں کام مکمل کر لیا گیا۔
گھڑی کا ایک رخ مسجد الحرام اور شارع المسعیٰ کی جانب تھا جبکہ دوسرا شارع اجیاد کی طرف کھلتا تھا، تاکہ مختلف سمتوں سے آنے والے نمازی، زائرین اور اہلِ مکہ آسانی سے وقت دیکھ سکیں۔
سفید پس منظر اور سیاہ سوئیوں والی یہ گھڑی رات کے وقت برقی روشنی سے جگمگاتی تھی، گویا مکہ کی راتوں میں وقت کا ایک روشن مینار کھڑا ہو۔
سرکاری طور پر اسے فعال کرنے سے قبل اس کی درستگی کو مؤذنوں کی اذان کے اوقات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے باریک بینی سے جانچا گیا تاکہ نمازوں کے اوقات میں کسی قسم کی غلطی نہ رہ جائے۔
کنگ عبد العزیز عجائب گھر کے مطابق اُس زمانے میں مسجد الحرام میں وقت معلوم کرنے کا یہی واحد باقاعدہ ذریعہ تھا۔
نمازی، طلبۂ علم اور زائرین نمازوں کے اوقات جاننے کے لیے اسی گھڑی پر انحصار کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ صرف ایک گھڑی نہ رہی، بلکہ مسجد الحرام کی شناخت، مکہ کی اجتماعی یادداشت اور کئی نسلوں کی یادوں کا حصہ بن گئی۔
40 برس سے زائد عرصے تک حرم شریف کے افق پر نمایاں رہنے والی یہ گھڑی اُس دور کی علامت بن گئی جب مکہ مکرمہ کا منظرنامہ آج سے بالکل مختلف تھا۔
بعد ازاں وقت بدلا، توسیعات ہوئیں، جدید تعمیرات اُبھریں، اور آج مسجد الحرام کے اطراف عظیم الشان ٹاورز، خصوصاً ابراج البیت، شہر کے منظرنامے پر چھائے ہوئے ہیں۔
مگر وقت کے بدلتے سفر کے باوجود مسجد الحرام کی پہلی گھڑی اب بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔
آج اسے ام الجود میں واقع حرمین عجائب گھر میں تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کر دیا گیا ہے، جہاں یہ آنے والی نسلوں کو مکہ مکرمہ کے اُس دور کی داستان سناتی ہے، جب وقت کو دیکھنے کے لیے نگاہیں مسجد الحرام کے پاس کھڑی اُس عظیم گھڑی کی طرف اٹھا کرتی تھیں۔