اہم خبریں
21 May, 2026
--:--:--

عاصم منیر آج تہران پہنچیں گے، مذاکرات میں پیشرفت کا امکان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا مذاکرات
ایرانی ذرائع نے دورے کو امریکا، ایران ثالثی کوششوں کا حصہ قرار دیا

پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کا دورہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور جنگ بندی کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور ایران، امریکا معاہدے کے لئے پیش کی گئی نئی تجویز پر ایرانی ردعمل کے منتظر ماحول میں، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر آج جمعرات کو سرکاری دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچنے والے ہیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستانی آرمی چیف کا تہران کا دورہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ نے رپورٹ کیا۔

دوسری جانب پاکستانی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھولنے اور رکاوٹیں دور کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، جیسا کہ ’ارنا‘ نیوز ایجنسی نے بتایا۔

مزید پڑھیں

نقوی اور عراقچی کی ملاقات

ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے گزشتہ روز تہران کے دوسرے دورے اور اعلیٰ ایرانی حکام، بالخصوص وزیر خارجہ عباس عراقچی، سے ملاقاتوں کے بعد۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ثالثی کی کوششوں میں تیزی آئی ہے تاکہ 

دونوں فریقوں کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج کہا کہ ایران کو امریکی تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ایران امریکہ مذاکرات
ایران نے امریکی تجاویز موصول ہونے کی تصدیق کر دی

انہوں نے مزید بتایا کہ رابطوں اور مشاورت کے متعدد ادوار ایران کے 14 نکاتی بنیادی فریم ورک کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔

تاہم اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں، جبکہ ایرانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ وہ ایران سے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے یا یورینیم افزودگی کا حق مکمل طور پر ترک کرنے پر آمادہ نہیں، جبکہ امریکا ماضی میں اس شرط پر زور دیتا رہا ہے۔

دوسری طرف بعض باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی نوعیت کا ’اعلانِ نیت‘ Letter of Intent طے پانے کا امکان موجود ہے، جس کے بعد 30 روز کے اندر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر تفصیلی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔