دونوں فریقوں کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج کہا کہ ایران کو امریکی تجاویز موصول ہو چکی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رابطوں اور مشاورت کے متعدد ادوار ایران کے 14 نکاتی بنیادی فریم ورک کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔
تاہم اب بھی دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں، جبکہ ایرانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ وہ ایران سے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے یا یورینیم افزودگی کا حق مکمل طور پر ترک کرنے پر آمادہ نہیں، جبکہ امریکا ماضی میں اس شرط پر زور دیتا رہا ہے۔
دوسری طرف بعض باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی نوعیت کا ’اعلانِ نیت‘ Letter of Intent طے پانے کا امکان موجود ہے، جس کے بعد 30 روز کے اندر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر تفصیلی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔