دنیا بھر میں کروڑوں مرد و خواتین رات کی نیند کے دوران خراٹوں کے مسئلے سے دوچار ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ محض ایک معمولی آواز نہیں، بلکہ طبی ماہرین کے نزدیک ایک سنجیدہ علامت ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کی شدت و شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق گلوبل وارمنگ کے باعث آئندہ 75 برسوں میں ’ابسٹرکٹو سلیپ ایپنیا‘ کے کیسز دوگنا ہو سکتے ہیں۔
یہ وہ کیفیت ہے جس میں سوتے وقت سانس کا عمل عارضی طور پر رک
جاتا ہے، جس سے خون میں آکسیجن کم اور بلڈ پریشر و ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
غیر مؤثر طریقے اور ماہرین کی رائے
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس پر خراٹے روکنے کے لیے مختلف آلات اور ٹوٹکے فروخت کیے جاتے ہیں۔
تاہم طبی ماہرین منہ پر ٹیپ لگانے، ناک کی پٹیوں یا غیر آرام دہ ماؤتھ گارڈز کے استعمال کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے ان سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
وزن میں کمی: خراٹوں کا مؤثر علاج
این ایچ ایس (NHS) کی ماہر سارہ حمید کا کہنا ہے کہ گردن کے گرد اضافی وزن سوتے وقت سانس کی نالی پر دباؤ ڈالتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے پتا چلا ہے کہ صرف 3 کلو وزن کم کرنے سے فی گھنٹہ خراٹوں کی تعداد 320 سے کم ہو کر 176 تک آ سکتی ہے۔
سونے کے انداز میں تبدیلی
ماہرین کے مطابق کمر کے بل سونے کے بجائے پہلو کے بل لیٹنا خراٹوں میں نمایاں کمی لاتا ہے۔
برطانوی ادارہ صحت (NHS) مشورہ دیتا ہے کہ سوتے وقت کپڑوں کی پشت پر ٹینس بال سینے سے انسان خود بخود پہلو کے بل سونے کا عادی ہو جاتا ہے۔
ماہرین بتاتے ہیں کہ خراٹے محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس آلات مؤثر ثابت نہیں ہوتے، لیکن طرزِ زندگی میں چھوٹی تبدیلیاں، جیسے مناسب وزن برقرار رکھنا اور سونے کا درست انداز اپنانا طویل مدتی بنیادوں پر اس مسئلے کو قابو کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔