اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی اوپو اپنے آئندہ فلیگ شپ ماڈل ’اوپو فائنڈ ایکس 10 الٹرا‘ (OPPO Find X10 Ultra) میں فوٹوگرافی کے معیار کو نئی بلندیوں پر لے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
اس حوالے سے لیک ہونے والی معلومات کے مطابق کمپنی اس فون میں سام سنگ کا جدید ترین کیمرہ سینسر استعمال کرنے جا رہی ہے۔
سینسر کی صلاحیتیں
مشہور لیکر ’ڈیجیٹل چیٹ اسٹیشن‘ کی رپورٹس کے مطابق یہ فون سام سنگ کے 200 میگا پکسل ’آئسوسیل ایچ پی اے‘ (Samsung ISOCELL HPA) سینسر سے لیس ہوگا۔
اس میں ’لوفک‘ (LOFIC) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جو ہائی ڈائنامک رینج کو بہتر بنا کر روشنی اور سائے کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔
تصویر کی شفافیت میں اضافہ
یہ جدید ٹیکنالوجی روشنی کی شدت کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے ہائی کنٹراسٹ والے مناظر میں تفصیلات ضائع نہیں ہوتیں۔
’اینڈرائیڈ ہیڈلائنز‘ کے مطابق اس سینسر کا سائز 1/1.12 انچ کے قریب ہوگا، جو اسے موبائل کیمرہ مارکیٹ کے سب سے ایڈوانس سینسرز کی صف میں شامل کرتا ہے۔
سام سنگ کی اپنی حکمت عملی
حیران کن طور پر یہ سینسر سام سنگ کے آئندہ فلیگ شپ ماڈل ’گلیکسی ایس 27 الٹرا‘ (Galaxy S27 Ultra) میں موجود نہیں ہوگا اور سام سنگ اپنی اس سیریز میں ممکنہ طور پر چھوٹے سائز کا HP6 سینسر استعمال کرے گا۔
یہ سام سنگ کی پرانی روایت ہے کہ وہ ہر نئی ٹیکنالوجی فوراً اپنے فونز میں استعمال نہیں کرتی۔
اوپو کی مارکیٹ میں برتری
یاد رہے کہ اوپو کی ’فائنڈ ایکس الٹرا‘ سیریز ہمیشہ سے جدید ترین کیمرہ فیچرز کو سب سے پہلے اپنانے کے لیے جانی جاتی ہے۔
اوپو فائنڈ ایکس 10 الٹرا کا مقصد نائٹ موڈ فوٹوگرافی، روشنی کے شدید اثرات کو کنٹرول کرنے اور رنگوں کی درستی میں ایک بلند چھلانگ لگانا ہے، جو صارفین کو بے حد متاثر کرے گا۔
اسمارٹ فونز میں کیمرہ وار کا آغاز
اس وقت عالمی مارکیٹ میں سام سنگ، اوپو اور ویوو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔
اب کسی بھی فلیگ شپ فون کی کامیابی کا انحصار محض پروسیسر یا اسکرین پر نہیں، بلکہ اس کے کیمرہ سسٹم پر ہے اور لگتا ہے کہ اگلی جنریشن کے فونز کے لیے کیمرہ ٹیکنالوجی کی جنگ کا آغاز بہت پہلے ہو چکا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اوپو کا یہ فیصلہ اسمارٹ فون انڈسٹری میں ایک نیا رجحان پیدا کر سکتا ہے۔
اگر یہ قیاس آرائیاں درست ثابت ہوئیں تو اوپو فائنڈ ایکس 10 الٹرا فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوگا۔ اسمارٹ فون کمپنیوں کے درمیان اس نئی تکنیکی دوڑ کا فائدہ بالآخر صارفین ہی کو پہنچے گا۔