زمزم کا کنواں دنیا میں واحد پانی کا کنواں ہے
جو وزارت پٹرول کی زیر نگرانی ہے
جلد ہی بھوک اور پیاس نے ماں بیٹے کو پریشان کرنا شروع کیا۔
ماں سے بچے کی پیاس کی شدت دیکھی نہیں جارہی تھی، بے چین ماں کبھی صفا اور کبھی مروہ پہاڑی پر جا کر دیکھتی، شاید کوئی نظر آجائے یا کہیں پانی ہی دکھ جائے، صفا و مروہ کے انہوں سے 7 چکر لگائے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسی لئے حج اور عمرہ کرنے والے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔
آخری بار جب وہ مروہ پر پہنچیں تو انہوں نے کئی بار ایک آواز سنی: فریاد ہے اے بھلائیوں والے۔
پھر انہوں نے زمزم کے مقام پرحضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا۔
انہوں نے اپنا پر مارا اور پانی ابل پڑا۔
اس کثرت سے پانی کو ابلتے دیکھا تو وہ حیران رہ گئیں اور جلدی جلدی اسے روکنے لگیں۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ بہت ہے، اسے روکنے کی ضرورت نہیں۔
رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اگروہ اسے نہ روکتیں تو آج یہ پانی دریا بن کر بہہ رہا ہوتا۔
حضرت جبریل ؑنے فرمایا: گھبراؤ نہیں، تمہارے لئے خوفِ ضیاع نہیں کیونکہ یہاں پر اللہ کا گھر ہے جسے یہ بچہ اور اسکا باپ دونوں مل کر تعمیر کریں گے، اللہ اپنوں کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔
حضرت ہاجرہؑ اپنے بچے کے ساتھ وہاں مقیم رہیں۔
بنی قحطان کا قبیلہ جرہم مکہ کے قریب مقام کدا سے گزرا، ان لوگوں نے ایک پرندے کو اوپر چکر لگاتے دیکھا، کہنے لگے یہ پرندہ یقینا پانی کے گرد ہی چکر لگا رہا ہوگا مگر ہم یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وادی میں کہیں بھی پانی کا نام و نشان نہیں۔
حقیقت حال کا پتہ لگانے کے لئے کچھ لوگ اُس طرف گئے اور حضرت ہاجرہ اور ان کے بچے کو آب زمزم کے پاس پایا۔
ان لوگوں نے ان سے اجازت لیکر وہیں سکونت اختیار کرلی۔
گھبراؤ نہیں،
تمہارے لئے خوفِ ضیاع نہیں،
یہاں پر اللہ کا
گھر ہے
جسے یہ بچہ
اور اسکا باپ دونوں مل کر تعمیر
کریں گے
کچھ عرصے میں یہ وادی خاصی آبادہو گئی، خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی۔
قبیلہ جرہم اس وادی میں تقریباً 300 سال رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ دینِ ابراہیمی میں تحریف ہوئی اور بہت ساری حرام کردہ چیزوں کو انہوں نے حلال کرلیا۔
بیت اللہ کی بے حرمتی کی۔
اس کا مال ناحق کھایا اور گناہ کے دوسرے کام کئے۔
مکہ مکرمہ جو کوئی بغرض زیارت یا تجارت آتا ان کے ظلم و ستم کا شکار ہوتا۔
قبیلہ جرہم کی بد اعمالیوں کی سزا کے طور پر آب زمزم کا چشمہ خشک ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر قبیلہ خزاعہ کو مسلط کردیا جنہوں نے قبیلہ جرہم کے اکثر لوگوں کو اس مقدس دیار سے نکال باہر کیا۔
مکہ مکرمہ پرطویل عرصہ تک خزاعہ کی حکمرانی رہی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آب زمزم کے مقام کی شناخت بھی جاتی رہی۔
عبد المطلب بن ہاشم ’رسول اللہﷺکے دادا‘ کا دور آیا۔
انہوں نے اپنے بڑے بیٹے الحارث کے ساتھ ملکر چاہ زمزم کی تلاش میں کھدائی کی اور ان کو کامیابی ملی۔
اس وقت سے حاجیوں کو پانی پلانے اور انکی خدمت کرنے کا شرف اسی خاندان میں رہا۔
زمزم کے بہت سارے نام ہیں جو تقریباً 60 تک پہنچتے ہیں۔
کثرتِ اسماء مسمی بہ کے شرف و عالی مرتبت ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
آبِ زمزم قدرت کا ایسا انمول تحفہ اور انعام ہے کہ قدر و منزلت اور خواص و فوائد میں اس سے بہتر دنیا میں کوئی پانی نہیں پایا جاتا۔
آب زمزم کے فضائل وخصوصیات
- آب زمزم جنت کے چشموں میں سے ایک ہے۔ (مصنف بن ابی شیبہ)
- آب زمزم روئے زمین کا افضل ترین پانی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روئے زمین کا سب سے افضل پانی زمزم ہے، اس میں غذائیت بھی ہے اور مرض سے شفا بھی۔ (طبرانی )
- آب زمزم کا چشمہ روئے زمین کے سب سے مقدس مقام پر ہے۔
- زمزم کے چشمے کا وجود اور ظہور حضرت جبریل کے واسطے سے ہوا جو اس کی فضیلت کے لئے کافی ہے۔
- آب زمزم کے ذریعے رسول اللہﷺ کا قلب اطہر 4 بار مختلف موقعوں پر دھویا گیا، یعنی حلیمہ سعدیہ کے یہاں بکریاں چرا نے کے دوران، آپکے بچپن میں، نبوت و بعثت سے قبل اور واقعہ معراج سے قبل۔
- آب زمزم خوب سیر ہو کر پینا ایمان کی علامت قرار دیا گیا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: خوب سیر ہوکر زمزم پینا نفاق سے برأت ہے کیونکہ منافقین اسے خوب سیرابی کی حد تک نہیں پیتے۔
آب زمزم کا
چشمہ روئے زمین کے سب سے مقدس مقام پر ہے
اہل مکہ میں یہ رواج عام تھا کہ وہ اپنے مہمانوں کی تواضع آب زمزم سے کرتے اور اسے پیش کرنے میں تفنن اختیار کرتے، اس کے لئے خاص مٹی اور ریت کی صراحیاں بناتے اور اسے خوشبو اور دھونی میں بساتے پھر اس میں آب زمز م محفوظ کرتے اورٹھنڈا ہونے پر مہمانوں کو خوبصورت نقشین و قلعی شدہ پیالوں میں پیش کرتے۔
اسی طرح مائیں بچوں کو اسکول میں امتحان میں شرکت سے قبل آب زمزم پلا کر بھیجتیں۔
آج بھی شاید ہی کوئی حاجی یا زائر ایسا ہوگا جو اس دیار مقدس میں آئے اور بغیر زمزم کے تحفے کے اپنے گھر واپس جائے۔
وطن واپس پہنچنے پر اپنے اہل و عیال، عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو ایک حاجی جو سب سے قیمتی اور بابرکت و مقدس تحفہ پیش کرتا ہے وہ مکہ مکرمہ سے لائے ہوئے آب زمزم کا ایک گھونٹ اور مدینہ منورہ کی چند کھجوریں ہی ہوتی ہیں۔
آب زمزم انتظامیہ کل اور آج
اللہ تعالیٰ نے مقدس سرزمین کو آب زمزم جیسی انمول نعمت سے نوازا ہے۔
آب زمزم ہی مقدس شہر مکہ مکرمہ کی سعادت کا باعث بنا۔
آب زمزم کا چشمہ پھوٹا تو مختلف قبائل کے افراد نے یکے بعد دیگرے مکہ مکرمہ کو بسانا شرو ع کردیا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور اپنے خلیل ابو الا نبیاء ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو خانہ کعبہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تاکہ یہ بستی لوگوں کیلئے جائے پناہ اور دار الامن بن جائے۔
آب زمزم کا کنواں خانہ کعبہ سے متصل واقع ہے۔
آب زمزم کے کنوئیں میں چٹانوں سے پانی آتا ہے۔
یہ ریخیں خانہ کعبہ اور صفا و مروہ کے اطراف پھیلی ہوئی ہیں۔
ان سے نکلنے والا پانی کنوئیں میں آکر گرتا ہے۔
آب زمزم کا کنواں خانہ کعبہ سے 21 میٹر دور ، مشرق ملتزم کے بالمقابل واقع ہے۔
مسلم خلفائے و سلاطین اور حکام اس کی خدمت کرتے رہے ہیں۔
اسلام کے ابتدائی عہد میں بھی مسلم حکام اس کا خاص خیال رکھتے تھے۔
سعودی عہد میں آب زمزم کی نگہداشت کا عمل نقطہ عروج کو پہنچ گیا۔
زمزم کے کنویں کی عمارت نہایت خوبصورت اور موزوں بنائی گئی۔
زائرین کو آب زمزم فراہم کرنے کے تمام انتظامات کر دیئے گئے۔
بانی مملکت شاہ عبد العزیز نے مکہ مکرمہ کی پہلی حاضری کے موقع پر مسجد الحرام کی تعمیر و تزئین کا کام شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے آب زمزم کی سبیل سے خصوصی دلچسپی لی۔
1340 ھ میں نجی خرچ پر آب زمزم کی پہلی سبیل قائم کی پھر 1347 ھ میں زمزم کے کنوئیں کے مشرق میں دوسری سبیل کھلوائی۔
کافی عرصے تک آب زمزم کنوئیں سے ڈول کے ذریعے نکالا جاتا رہا۔
1373 ھ میں آب زمزم پمپ کے ذریعے نکالنے کی شروعات ہوئی۔
کنوئیں سے آب زمزم پہلے ٹنکی میں ذخیرہ کیا جاتا اور پھر اس سے کنوئیں کے اطراف ٹونٹیوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔
آب زمزم کے کنوئیں میں چٹانوں سے
پانی آتا ہے
1400 ھ میں حرمین انتظامیہ نے حرم شریف کی سبیل کا خصوصی ادارہ قائم کیا۔
1381 ھ میں زمزم کے کنوئیں کی منڈیر کو تاریخ میں پہلی بار مطاف کے فرش سے 2.5 میٹر نیچے کردیا گیا۔
آگے چل کر مطاف کے نیچے تہ خانہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کا ایک حصہ مرد زائرین اور دوسرا حصہ خواتین کے لئے مختص کیا گیا۔
تہ خانہ میں 39 ٹونٹیاں نصب کی گئیں۔
1992 ھ میں آب زمزم پلانے کے لئے کئی نئے اقدام کئے گئے۔
مثال کے طور پر ڈول کے ذریعے زمزم پلانے پر پابندی اور آب زمزم کی سبیلوں کی صفائی اور تعقیم کا فیصلہ۔
آب زمزم کو تغیر سے بچانے کے لئے یہ کیا گیا کہ اس کی تعقیم بالائے بنفشی شعاعوں کے ذریعے کی جائے اور دیگر طریقے کا لعدم ہوں۔
1399 ھ میں غوطہ خوروں کی مدد سے پہلی مرتبہ آب زمزم کے کنوئیں کا معائنہ کیا گیا۔ غوطہ خوروں نے کنوئیں کی پیمائش کی، اسے صاف کیا۔
1400 ھ میں آب زمزم کا کنواں صاف کیا گیا، اس کی تطہیر کی گئی۔ کلورین سے تعقیم کی گئی۔
اس کی دیواروں کو دھویا گیا اور اس کا پانی پمپ سے نکالا گیا۔
کنوئیں کا عرض تقریباً 4 میٹر پایا گیا۔
کنوئیں کی دیواریں کنوئیں کے منہ سے تقریباً 16 میٹر 18 سینٹی میٹر کی گہرائی کے ساتھ اندر سے قلعی کردہ ہیں۔
1400 ھ میں حرمین انتظامیہ نے آب زمزم کی سبیل کا خصوصی ادارہ قائم کیا۔
یہ زائرین کو آب زمزم کی فراہمی کے تمام انتظامات کرتا ہے۔
ٹھنڈا اور سادہ آب زمزم زائرین کو فراہم کرتا ہے۔
آب زمزم کی تعقیم اور اسے ٹھنڈا کرکے حرمین کے زائرین کو مہیا کرتا ہے۔
آب زمزم کا ادارہ شروع میں مختصر تھا، رفتہ رفتہ اس کا دائرہ کار وسیع ہوتا گیا۔
واٹر کولر کی صفائی کی نگرانی، مقررہ مقامات پر واٹر کولرز رکھوانا، ان میں پانی بھروانا، نئے گلاس رکھوانا، پرانے اٹھوانا سبیلوں کی صفائی، زمزم کی فراہمی میں حفظان صحت کے ضوابط کی پابندی پر امور ہے۔
زمزم کی تعقیم، مسجد نبوی کو آب زمزم کی فراہمی، ٹینکوں کی صفائی اس کے فرائض میں شامل ہے۔
اس سے قبل آب زمزم، برف کی سل سے ٹھنڈا کیا جاتا تھا۔
1405 ھ میں انتظامیہ نے آب زمزم کے معائنے کے لئے مکمل لیباریٹری قائم کی۔
1424ھ میں آب زمزم کے تہ خانے پر چھت ڈالی گئی۔
تہ خانہ میں موجود زمزم کی ٹونٹیاں صحن حرم میں منتقل کر دی گئیں۔
اس کی وجہ سے مطاف میں اچھا خاصا اضافہ ہوگیا۔
عوام میں زمزم کے حوالے سے کئی غلط باتیں رائج ہیں۔
بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ آب زمزم پینا، حج اور عمرہ کا لازمی جزو ہے، ایسا ہرگز نہیں۔ زمزم کسی بھی وقت مستحب ہے۔
بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ مسجد الحرام سے زمزم باہر جانے پر اس کی خصوصیات ختم ہو جاتی ہیں، یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔
بعض لوگوں کی سوچ ہے کہ آب زمزم سے کفن دھونا مستحب ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آب زمزم سے نہانا و غیرہ حرام ہے، یہ سوچ بھی صحیح نہیں۔
بعض حاجی زمزم لیتے وقت گرا دیتے ہیں۔ اس سے پھسلن ہو جاتی ہے۔ زائرین پھسل سکتے ہیں۔ آب زمزم کی حفاظت کیجئے، اسے ضائع نہ کیجئے، آپ واٹر کولرز کے پاس جتنا چاہیں زمزم پئیں، ادھر اُدھر نہ جائیں ایسا کرنے سے زمزم گر جاتا ہے۔