رشک اور حسد کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوتا ہے اور انسان کو اکثر یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ رشک حسد میں بدل چکا ہے۔
انسان کا نفس ہر چیز میں اعلیٰ معیار کی طلب پر پیدا کیا گیا ہے، اسی لیے وہ ہمیشہ دوسروں سے ممتاز اور منفرد بننا چاہتا ہے۔
جب کوئی اس سے بہتر ہو جاتا ہے یا سبقت لے جاتا ہے تو دل میں رنج اور طبیعت پر شاق اثر پڑتا ہے۔
ایسے شخص کی نعمت پر خوشی کا اظہار نہیں کرتا، نظر سے نظر چراتا ہے اور لوگ بھی اس کی تعریف نہ کریں، یہ چاہتا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ جذبات فطری ہیں اور انسان کی ترقی کے لیے رکھے گئے ہیں۔
اگر انسان دوسروں سے مسابقت کے جذبے کے بغیر ہوتا تو ارتقا ممکن نہ ہوتا۔
رشک وہ فطری جذبہ ہے جو انسان کو آگے بڑھنے اور ہمت کرنے کی تحریک دیتا ہے، جبکہ حسد منفی جذبہ ہے، جو دوسروں کو محروم یا کم تر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کامیاب لوگوں سے حسد نہیں ہوتا، وہ لوگ آئیڈیل ہوتے ہیں لیکن ہم عمر یا ہم پیشہ افراد میں یہ جذبہ غالب آتا ہے۔
رشک اور حسد میں فرق باریک ہے اور یہ انسان کو اکثر خبر بھی نہیں ہوتی کہ کب یہ بدل گیا۔
حسد کا علاج
- جب انسان دیکھے کہ کوئی اس سے بہتر ہے تو دل میں منفی جذبات کو قابو میں رکھے۔
- اللہ کی حمد و شکر کرے اور دعا کرے کہ وہ بھی اسے ایسی نعمت عطا فرمائے۔
- دل کے منفی احساسات کو بڑھنے نہ دے، ورنہ انسان اخلاقی اور روحانی طور پر برباد ہو جاتا ہے۔
حسد انسان کو خود اذیت اور ظلم میں مبتلا کرتا ہے۔
جو شخص اپنے دل کے منفی جذبات پر غور نہیں کرتا، اس کا علاج صرف موت ہے اور بعد از مرگ حسرتیں اور محرومیوں کا نیا باب کھلتا ہے۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر تنقید کرنے والا اور دوسروں کی خوشیوں پر حسد کرنے والا اپنی دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان اٹھاتا ہے۔
آخری اور اہم بات
حسد کرنے والا ہمیشہ محروم رہتا ہے، اسے وہ نعمت کبھی عطا نہیں ہوگی جس پر وہ دوسروں سے حسد کر رہا ہے۔
یاد رکھیں! حسد کرنے والا اللہ تعالی کے رزق، عطا اور تقسیم پر اعتراض کر رہا ہوتا ہے اور یہ اس کا سب سے منفی اور مہلک پہلو ہے۔