اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

گوگل کا امریکہ میں کروڑوں بانجھ مچھر چھوڑنے کا منصوبہ: کہانی کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
گوگل کے ڈی بگ پروگرام کے تحت لیبارٹری میں تیار کردہ بانجھ مچھر
پروگرام کا مقصد ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

گوگل نے امریکہ میں مہلک بیماریوں کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایک انوکھا منصوبہ تیار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

کمپنی نے امریکی حکومت سے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں 32 ملین بانجھ مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کی ہے تاکہ انسانی جانوں کو خطرناک وائرس سے بچایا جا سکے۔

یہ اقدام گوگل کے ’ڈی بگ‘ نامی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی تعداد کم کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت لیبارٹری میں تیار کردہ بانجھ نر مچھروں کو مخصوص علاقوں میں چھوڑا جائے گا تاکہ افزائش روکی جا سکے۔

مچھروں کو دنیا کا سب سے مہلک جاندار قرار دیا جاتا ہے جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں۔ 

گوگل کے ڈی بگ پروگرام کے تحت لیبارٹری میں تیار کردہ بانجھ مچھر
مچھروں کو دنیا کا سب سے مہلک جاندار قرار دیا جاتا ہے جو ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتے ہیں (فوٹو: انٹڑنیٹ)

یہ ڈینگی، زیکا، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور چکن گونیا جیسی خطرناک بیماریاں پھیلاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے ایک بہت بڑا عالمی خطرہ ہیں۔

امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اس وقت گوگل کی درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔ 

کمپنی 2 سال کے دوران سالانہ 16 ملین مچھر چھوڑنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے عوامی رائے کی مدت 5 جون کو ختم ہونے کے بعد ایجنسی حتمی فیصلہ صادر کرے گی۔

اس طریقہ کار میں نر مچھروں کو ’وولباچیا‘ نامی قدرتی بیکٹیریا سے متاثر کیا جاتا ہے۔ 

جب یہ نر مچھر جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کرتے ہیں تو ان کے انڈوں سے بچے پیدا نہیں ہوتے، جس سے مچھروں کی اگلی نسل بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔

گوگل کے ماہرین اس پیچیدہ عمل کے لیے مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر ویژن کا استعمال کرتے ہیں۔ 

یہ ٹیکنالوجی نر اور مادہ مچھروں کی درست شناخت اور علیحدگی کو یقینی بناتی ہے تاکہ صرف بے ضرر نر مچھروں کو ہی مطلوبہ مقامات پر چھوڑا جا سکے۔

گوگل کے ڈی بگ پروگرام کے تحت لیبارٹری میں تیار کردہ بانجھ مچھر
امریکی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی اس وقت گوگل کی درخواست کا جائزہ لے رہی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ منصوبہ پہلے الفابیٹ کی ذیلی کمپنی ’ویریلی ہیلتھ‘ کے تحت شروع ہوا تھا جو صحت اور مصنوعی ذہانت پر کام کرتی ہے، تاہم دسمبر 2024 میں گوگل نے ’ڈی بگ‘ پروجیکٹ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر اسے وسعت دی ہے۔

روایتی طریقے ، مثلاً کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ اب زیادہ موثر نہیں رہا کیونکہ مچھر ان کے خلاف مدافعت پیدا کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے تمام ذخائر کو ختم کرنا بھی ناممکن ہے، اس لیے گوگل نے حیاتیاتی حل کو ترجیح دی ہے۔

گوگل کی توجہ خاص طور پر ’ایڈیز ایجپٹی‘ نامی مچھر پر ہے جو ڈینگی اور پیلے بخار کا بنیادی سبب ہے۔ 

کمپنی کے انجینئرز نے ان مچھروں کی بڑے پیمانے پر افزائش کے لیے خودکار نظام اور جدید سینسرز پر مبنی لیبارٹریز قائم کی ہیں۔

سنگاپور میں اس منصوبے کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں جہاں مچھروں کی تعداد میں 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ 

وہاں ڈینگی کے کیسز میں بھی 70 فیصد کمی ہوئی ہے اور اب اس پروگرام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔