چین میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ارب پتیوں کی ایک نئی نسل کو جنم دیا ہے، جو مصنوعی ذہانت، آن لائن گیمنگ، ڈیجیٹل میڈیا اور صارفین کی مصنوعات کے شعبوں میں عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ نئے کاروباری رہنما نہ صرف روایتی صنعتوں سے ہٹ کر جدید شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں بلکہ اپنے پیش روؤں کے برعکس میڈیا کی توجہ سے بھی دُور رہنا پسند کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور دولت کے نئے دروازے
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس نئی نسل کی نمایاں مثال ڈیپ سیک (DeepSeek) کے بانی لیانگ وینفینگ ہیں۔
ان کی کمپنی نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی، جس کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 71 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے، جبکہ لیانگ کی ذاتی دولت کا تخمینہ 38 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی بڑی کامیابی کے باوجود وہ میڈیا، کانفرنسوں اور عوامی تقریبات میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔ یہی رویہ اب چین کے کئی نئے ارب پتیوں کی مشترکہ پہچان بنتا جا رہا ہے۔
چین میں نوجوان ارب پتیوں کی تعداد بڑھنے لگی
ہورون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چین میں 41 برس سے کم عمر تقریباً 30 خود ساختہ ارب پتی موجود ہیں۔
اس لحاظ سے امریکہ کے بعد چین دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں نوجوان ارب پتیوں کی تعداد تیز بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دولت کا مرکز اب رئیل اسٹیٹ یا بھاری صنعتوں سے نکل کر مصنوعی ذہانت، گیمنگ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، چائے اور کافی چینز و دیگر صارفین کی مصنوعات کی جانب منتقل ہو چکا ہے۔
عالمی منڈیوں پر توجہ
چین کی نئی کاروباری نسل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ آغاز ہی سے عالمی مارکیٹ کو ہدف بناتی ہے۔
ملک کے اندر صارفین کی طلب میں سست روی کے باعث یہ کمپنیاں اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اسی لیے ایشیا، یورپ اور امریکہ ان کی توسیعی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں، جبکہ کئی چینی اسٹارٹ اپس اپنے ابتدائی برسوں میں ہی بین الاقوامی مارکیٹ میں داخل ہو جاتی ہیں۔
چینی ٹیکنالوجی کے نئے خود ساختہ رہنما
خاموشی سے عالمی منڈیوں پر راج کرنے والے نوجوان ارب پتی
چین میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل منڈیوں نے کم عمر ارب پتیوں کی نئی نسل پیدا کی ہے جو میڈیا کی تشہیر سے دُور رہ کر کام کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی طاقت 🤖
چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک کی مارکیٹ ویلیو 71 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو نئی نسل کی بڑی مثال ہے۔
نوجوان قیادت 📈
چین میں اس وقت 41 برس سے کم عمر کے تقریباً 30 خود ساختہ نوجوان ارب پتی کاروباری میدان میں سرگرم ہیں۔
عالمی درجہ بندی 🌍
نوجوان خود ساختہ ارب پتیوں کی تعداد کے لحاظ سے چین دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔
خاموش حکمت عملی 🔐
سیاسی اور تجارتی دباؤ سے بچنے کے لیے یہ نئی نسل غیر ضروری میڈیا تشہیر اور نمائش سے مکمل گریز کرتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
کام کرنے کا نیا انداز
چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں برسوں تک مشہور ’996‘ ورک کلچر رائج رہا، جس کے تحت ملازمین صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک، ہفتے میں 6 دن کام کرتے تھے۔
تاہم نئی نسل کے کاروباری رہنما اس ماڈل سے ہٹ کر نسبتاً لچکدار ماحول کو فروغ دے رہے ہیں۔
اہم نکات
اُن کا مؤقف ہے کہ بہتر کارکردگی صرف طویل اوقاتِ کار سے نہیں بلکہ تخلیقی ماحول، ذہنی سکون اور ملازمین کی فلاح سے حاصل ہوتی ہے۔
کامیابی کے ساتھ چیلنجز بھی
اگرچہ چینی نئی نسل عالمی کاروبار میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اسے کئی بڑے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
فیکٹ باکس
چین میں حکومت کی ’مشترکہ خوشحالی‘ پالیسی کے بعد نجی شعبے اور ریاست کے تعلقات پہلے سے زیادہ حساس ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور ٹیکنالوجی کشیدگی بھی ان کمپنیوں کے عالمی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
چین ٹیکنالوجی میں کیوں آگے ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ چین کے کئی نئے ارب پتی غیر ضروری میڈیا تشہیر سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کم پروفائل میں رہ کر وہ اپنے کاروبار کو سیاسی اور تجارتی دباؤ سے بہتر انداز میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
یوں چین کے یہ نوجوان کاروباری رہنما خاموشی سے عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ مضبوط کر رہے ہیں، جبکہ ان کی کم گوئی اور میڈیا سے دُوری انہیں دنیا کی بااثر مگر پُراسرار کاروباری شخصیات میں شامل کر رہی ہے۔