اسرائیلی حکام کے مطابق ایران سے منسلک عناصر ٹیلی گرام اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عام شہریوں اور نوجوانوں تک رسائی کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھرتی کا آغاز عموماً ایک سادہ کام، تصویر یا ویڈیو سے ہوتا ہے جبکہ ادائیگی کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی جاتی ہے۔
بعض کیسز میں یہ سلسلہ بعد میں سکیورٹی مقامات، داخلی راستوں اور افراد کے بارے میں معلومات جمع کرنے تک پہنچا۔
وہ نوکری ڈھونڈ رہا تھا، جاسوسی کا کام نہیں۔
14 سالہ اسرائیلی لڑکا ایک ٹیلی گرام گروپ میں گیا جہاں روزگار کے مواقع شیئر کئے جاتے تھے۔
وہیں اس کا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا جو اپنا نام ’ڈینیئل‘ بتا رہا تھا۔
ابتدائی پیشکش زیادہ مشکوک نہیں تھی: کچھ کام کرو اور پیسے لے لو۔
لیکن اسرائیلی استغاثہ کے مطابق یہی رابطہ آہستہ آہستہ ایک ایسے شخص کے ساتھ تعلق میں بدل گیا جو مبینہ طور پر ایرانی انٹیلی جنس کے لئے کام کر رہا تھا۔
پھر بات تصاویر بنانے، مقامات کے بارے میں معلومات جمع کرنے، دیواروں پر نعرے لکھنے اور ایسے دوسرے نابالغوں کو تلاش کرنے تک جا پہنچی جو زیادہ خطرناک کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران کی مبینہ بھرتی — اہم نکات ⌄
- ✓تازہ کیس میں 14 اور 16 سالہ دو اسرائیلی لڑکوں پر ایرانی انٹیلی جنس ایجنٹ کیلئے کام کرنے کے الزامات عائد ہوئے۔
- ✓ابتدائی رابطہ مبینہ طور پر ٹیلی گرام کے جاب گروپ کے ذریعے ہوا۔
- ✓کام تصاویر، ویڈیوز، نعرے لکھنے اور مقامات کی سکیورٹی سے متعلق معلومات تک پہنچے۔
- ✓ادائیگی چند سو شیکل کی کرپٹو کرنسی میں کئے جانے کا الزام ہے۔
- ✓دونوں پر دوسرے نابالغوں کو زیادہ خطرناک مشنز کیلئے تلاش کرنے کی کوشش کا بھی الزام ہے۔
مزید پڑھیں
30 اگست 2026 کو سامنے آنے والا یہ مقدمہ پہلی نظر میں چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔
دو لڑکے، جن کی عمریں 14 اور 16 سال ہیں، چند سو شیکل، کچھ تصاویر اور ادائیگی کا ایک حصہ کرپٹو کرنسی میں۔
لیکن بظاہر اس مختصر اور معصوم کہانی کے پیچھے کہیں بڑی تصویر نظر آتی ہے۔
یہ ایک ایسے نئے بھرتی ماڈل کی جھلک ہے جس کے بارے میں اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران عام شہریوں، نوجوانوں اور حتیٰ کہ نابالغوں تک آن لائن رسائی حاصل کرکے انہیں مرحلہ وار معلومات اکٹھی کرنے کے کاموں میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آغاز ایک چھوٹے کام سے
حیفا کی بچوں کی عدالت میں پیش کی گئی فرد جرم کے مطابق رابطہ جون 2026 میں اس وقت شروع ہوا جب کریات موتسکین کا ایک لڑکا ٹیلی گرام پر نوکری تلاش کر رہا تھا۔
وہیں اس کی بات ’ڈینیئل‘ نامی شخص سے ہوئی۔
i OVERSEAS POST | HOW IT WORKSبھرتی کا مبینہ ماڈل: 6 مرحلے ⌄
رابطہ: نوکری یا فوری کمائی کے بہانے ٹیلی گرام پر بات چیت۔
چھوٹا کام: تصویر، ویڈیو، اسٹیکر یا دیوار پر نعرہ۔
ادائیگی: کام مکمل ہونے پر کرپٹو یا دوسری شکل میں رقم۔
اعتماد کا امتحان: دیکھا جاتا ہے کہ شخص اگلی ہدایت بھی مانتا ہے یا نہیں۔
حساس معلومات: داخلی راستے، گارڈز، مقامات یا افراد سے متعلق تفصیل۔
نیٹ ورک بڑھانا: دوسرے افراد کو بھی شامل کرنے کی کوشش۔
بعد میں اس نے اپنے 16 سالہ دوست کو بھی اس سرگرمی میں شامل کرلیا۔
استغاثہ کے مطابق دونوں سے ہرتزیلیا اور تل ابیب کے تجارتی مراکز کی تصاویر بنوائی گئیں، ایک مقام کے داخلی راستوں اور وہاں موجود سکیورٹی گارڈز کی تعداد کے بارے میں معلومات مانگی گئیں اور انہیں دیواروں پر نعرے لکھنے جیسے کام بھی دئے گئے۔
معاملہ یہاں نہیں رکا۔
دونوں پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے ٹیلی گرام پر ایک ایسا گروپ بنایا جس کا مقصد دوسرے نابالغوں کو تلاش کرنا تھا تاکہ انہیں زیادہ خطرناک مشنوں کے لئے استعمال کیا جاسکے۔
چند سو شیکل کے لئے اتنا خطرہ کیوں؟
یہی اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال ہے۔
روایتی جاسوس کی تصویر بڑی رقوم، نظریاتی وابستگی، بلیک میلنگ یا حساس ریاستی رازوں کے گرد گھومتی ہے۔
لیکن ایران سے منسوب حالیہ بھرتی کیسز میں تصویر مختلف دکھائی دیتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | FACT BOXتازہ کیس: فیکٹ باکس ⌄
یہ تمام نکات فردِ جرم اور اسرائیلی حکام کے دعووں پر مبنی ہیں؛ حتمی عدالتی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔
پہلی رقم چھوٹی ہوسکتی ہے۔
پہلا کام بظاہر معمولی ہوسکتا ہے۔
کسی سڑک کی تصویر۔
کوئی اسٹیکر لگانا۔
کسی مقام کی ویڈیو بنانا۔
یا کسی عمارت کے باہر جاکر تصویر بھیج دینا۔
اصل مقصد شاید پہلے ہی دن حساس معلومات حاصل کرنا نہ ہو، بلکہ یہ جانچنا ہو کہ سامنے والا شخص ہدایات مانتا ہے یا نہیں، تصویر بھیجتا ہے یا نہیں، پیسے لیتا ہے یا نہیں اور کیا اگلا کام بھی قبول کرے گا۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک عام ’کام‘ آہستہ آہستہ جاسوسی کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
ٹیلی گرام کیوں اہم ہے؟
ان مقدمات میں ٹیلی گرام محض ایک چیٹنگ ایپ نہیں بلکہ بھرتی کا دروازہ بن کر سامنے آتا ہے۔
نوکریوں والے گروپس، نجی پیغامات اور فرضی نام ایسے لوگوں تک رسائی ممکن بناتے ہیں جنہیں بھرتی کرنے والا پہلے سے جانتا بھی نہیں۔
نہ کسی تیسرے ملک میں خفیہ ملاقات کی ضرورت۔
نہ کسی ہوٹل کے کمرے میں انٹیلی جنس افسر۔
نہ پیچیدہ مواصلاتی نظام۔
↯ OVERSEAS POST | ESCALATIONچھوٹے مشن سے حساس معلومات تک ⌄
صرف ایک اکاؤنٹ، ایک فون اور ایک ایسا شخص جو پیسے کمانا چاہتا ہو۔
اس کے بعد یہی فون ہدایات وصول کرنے، تصاویر بھیجنے، مقامات کی ویڈیوز بنانے اور اگلا مشن حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
بٹ کوائن اور کرپٹو ادائیگی کا راستہ
بھرتی کے بعد دوسرا مسئلہ ہوتا ہے: پیسے کیسے دئے جائیں؟
یہاں کرپٹو کرنسی کام آتی ہے۔
تازہ کیس میں اسرائیلی استغاثہ کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکوں کو چند سو شیکل دئے گئے اور ادائیگی کا کچھ حصہ ڈیجیٹل کرنسی میں ہوا۔
کرپٹو کرنسی بینک ٹرانسفر کے مقابلے میں تیز اور نسبتاً کم براہ راست راستہ فراہم کرتی ہے۔
اگرچہ زیادہ تر بلاک چین ٹرانزیکشنز مکمل طور پر ناقابل سراغ نہیں ہوتیں، لیکن ان کے ذریعے سرحد پار رقم بھیجنا آسان ہوجاتا ہے اور روایتی بینکاری تعلق کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔
! OVERSEAS POST | DIGITAL RECRUITMENTٹیلی گرام کیوں؟ ⌄
اس ماڈل میں خفیہ ملاقات کی جگہ اسمارٹ فون خود رابطے کا مرکز بن جاتا ہے۔
یوں پورا ماڈل مکمل ہوجاتا ہے۔
رابطے کے لئے ٹیلی گرام۔
کام کے لئے موبائل فون۔
اور ادائیگی کے لئے کرپٹو کرنسی۔
ایک جاسوس نہیں، درجنوں چھوٹے ذرائع
اس حکمت عملی کی اصل طاقت شاید کسی ایک فرد میں نہیں بلکہ تعداد میں ہے۔
روایتی جاسوس تیار کرنا مہنگا اور وقت طلب کام ہے۔
درست شخص کا انتخاب، اعتماد قائم کرنا، تربیت، خفیہ رابطے اور پھر برسوں تک تعلق برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
ڈیجیٹل ماڈل اس مساوات کو بدل دیتا ہے۔
سیکڑوں لوگوں کو بیک وقت پیغام بھیجا جاسکتا ہے۔
زیادہ تر انکار کردیں گے۔
کچھ صرف ایک کام کریں گے۔
⇄ OVERSEAS POST | CRYPTOکرپٹو ادائیگی کیوں اہم ہے؟ ⌄
- 1ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے سرحد پار رقم بھیجنا روایتی بینک ٹرانسفر سے مختلف اور تیز ہوسکتا ہے۔
- 2مرسل اور وصول کنندہ کے درمیان براہِ راست بینکاری تعلق ضروری نہیں رہتا۔
- 3تاہم کرپٹو مکمل طور پر ناقابلِ سراغ نہیں؛ بہت سی بلاک چین ٹرانزیکشنز کا تجزیہ ممکن ہے۔
اہم: تازہ کیس میں استغاثہ نے چند سو شیکل کرپٹو میں ادا کئے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔
لیکن اگر چند لوگ مستقل تعاون پر آمادہ ہوجائیں تو ایک ایسا جال بن سکتا ہے جس میں ہر شخص صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا فراہم کرتا ہے۔
ایک شخص دروازے کی تصویر بنائے۔
دوسرا سکیورٹی گارڈز گنے۔
تیسرا گاڑی کی تصویر لے۔
چوتھا کسی پتے کی تصدیق کرے۔
اور پانچواں کسی فوجی یا حساس ادارے میں کام کرنے والے شخص تک رسائی رکھتا ہو۔
ہر اطلاع الگ الگ معمولی لگ سکتی ہے، لیکن جب انہیں جوڑا جائے تو انٹیلی جنس تصویر کہیں زیادہ واضح ہوسکتی ہے۔
نیا جاسوس رازوں کا مالک ہونا ضروری نہیں
آج کے دور میں جاسوس بننے کے لئے وزارت دفاع یا خفیہ ادارے میں ملازم ہونا ضروری نہیں۔
ایک عام شہری بھی بہت کچھ دیکھ اور ریکارڈ کرسکتا ہے۔
وہ کسی عمارت کے قریب جاسکتا ہے۔
داخلی راستے کی تصویر بنا سکتا ہے۔
رش کے اوقات دیکھ سکتا ہے۔
◐ OVERSEAS POST | ANALYSISایک جاسوس نہیں، بہت سے چھوٹے ذرائع ⌄
ڈیجیٹل بھرتی کا فائدہ کسی ایک انتہائی اہم جاسوس کے بجائے بہت سے کم لاگت ذرائع تک رسائی ہوسکتا ہے۔
ہر ٹکڑا الگ معمولی ہوسکتا ہے، مگر متعدد معلومات کو جوڑنے سے زیادہ مکمل انٹیلی جنس تصویر بن سکتی ہے۔
کسی گاڑی کا نمبر نوٹ کرسکتا ہے۔
یا ایسے مقام کی ویڈیو بنا سکتا ہے جہاں بیرون ملک بیٹھا شخص خود نہیں پہنچ سکتا۔
یہی ’چھوٹے جاسوس‘ کی اہمیت ہے۔
وہ اس لئے مفید نہیں کہ اس کے پاس پہلے سے راز ہیں، بلکہ اس لئے کہ وہ موقع پر موجود ہے۔
مگر ایک احتیاط ضروری ہے
ان مقدمات کی زیادہ تر تفصیلات اسرائیلی پولیس، استغاثہ، شاباک اور اسرائیلی میڈیا سے سامنے آئی ہیں۔
اس لئے ہر الزام کو حتمی عدالتی حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تازہ مقدمے میں بھی دونوں لڑکے ملزم ہیں اور ابھی ان کے خلاف حتمی عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIED / CLAIMEDکیا ثابت ہے، کیا ابھی الزام ہے؟ ⌄
اسی طرح ایرانی بھرتی نیٹ ورکس کا اصل حجم اور ان کے ہاتھ لگنے والی معلومات کی حقیقی اہمیت آزاد ذرائع سے مکمل طور پر جانچنا ممکن نہیں۔
لیکن ایک ہی طرز کے متعدد مقدمات ایک بڑے رجحان کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔
1′ OVERSEAS POST | ONE MINUTEایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
ایک نوجوان ٹیلی گرام پر نوکری تلاش کرتا ہے اور نامعلوم شخص سے رابطہ ہوجاتا ہے۔
پہلے آسان کام ملتا ہے: تصویر یا ویڈیو بھیجو، پھر رقم وصول کرو۔
کامیاب مشن کے بعد ہدایات زیادہ مخصوص ہوتی جاتی ہیں، مثلاً داخلی راستے یا سکیورٹی گارڈز کی معلومات۔
ادائیگی کرپٹو والٹ میں ہوسکتی ہے اور رابطہ مکمل طور پر آن لائن رہتا ہے۔
تازہ اسرائیلی کیس میں یہی سلسلہ دو نابالغوں کے خلاف جاسوسی سے متعلق سنگین الزامات تک پہنچا۔
یہ جنگ صرف میزائلوں، جوہری تنصیبات اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز میں نہیں لڑی جارہی۔
اس کا ایک حصہ اب موبائل اسکرین پر بھی جاری ہے۔
ایک نوکری کا اشتہار ایک چیٹ میں بدلتا ہے۔
چیٹ ایک چھوٹے کام میں۔
کام ایک کرپٹو والٹ میں۔
اور پھر دوسری، تیسری اور شاید زیادہ حساس ہدایات آتی ہیں۔
آخر میں سوال یہ نہیں رہتا کہ ایک ملک دشمن ریاست کے اندر پیشہ ور جاسوس کیسے بھرتی کرتا ہے۔
اصل سوال یہ بنتا ہے:
پیسوں کے عوض ایک عام شخص سے کتنی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں؟
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
ادارتی احتیاط: خبر میں الزامات کو اسرائیلی استغاثہ/حکام سے منسوب رکھیں، کیونکہ تازہ مقدمے میں حتمی عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔