موبائل پر ایک خوبصورت ویڈیو نمودار ہوتی ہے، جس میں مسلح نوجوان، پیسہ، طاقت اور بااثر زندگی کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں۔ کبھی اچھی ملازمت کا وعدہ بھی سامنے آتا ہے۔ پھر ایک نجی پیغام آتا ہے اور بچے سے گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔
مزید پڑھیں
کولمبیا میں بعض بچوں کے لیے یہی چند لمحے ایک ایسے سفر کی ابتدا بن رہے ہیں، جو انہیں گھر اور اسکول سے اٹھا کر مسلح گروہوں کے درمیان پہنچا دیتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی 102 صفحات کی تحقیق بتاتی ہے کہ مسلح گروہوں نے بچوں تک پہنچنے کے لیے اب سوشل میڈیا کو بھی بھرتی کے میدان میں تبدیل کردیا ہے۔
📱
موبائل سے اسلحے تک: بچے کیسے جال میں پھنستے ہیں؟
+
موبائل سے اسلحے تک: بچے کیسے جال میں پھنستے ہیں؟
کولمبیا کے مسلح گروہوں نے بچوں کو بھرتی کرنے کے روایتی طریقے بدل کر اسمارٹ فونز کو مرکزی ہتھیار بنا لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گلیمر، دولت اور تحفظ کا جھانسہ دے کر کم عمر بچوں کو خطرناک دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔
پُرکشش ویڈیوز اور جھوٹا گلیمر
ٹک ٹاک اور فیس بک پر جدید ہتھیاروں، برانڈڈ کپڑوں اور پیسوں کے ڈھیر کے ساتھ بنائی گئی ویڈیوز بچوں کو پُرتشدد زندگی کی طرف راغب کرتی ہیں۔
جعلی ملازمتوں اور آمدن کا لالچ
غربت کے شکار نوجوانوں کو پرکشش تنخواہ، کھیتوں میں باوقار کام یا سیکیورٹی جابز کے بہانے رابطے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
ڈائریکٹ میسجز پر برین واشنگ
پوسٹ لائک کرنے والے کم عمر صارفین کو پرائیویٹ چیٹس میں محبت، خاندانی تحفظ اور اثر و رسوخ کے جھوٹے وعدوں سے گھیر لیا جاتا ہے۔
سماجی محرومیوں کا فائدہ
گھریلو تشدد، اسکول سے دوری اور غربت سے تنگ بچوں کی نفسیاتی کمزوریوں کو نشانہ بنا کر انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
غربت سے الگورتھم تک
یہ گروہ جانتے ہیں کہ ان کا آسان ہدف کون ہے۔ غربت، گھریلو تشدد، سماجی محرومی اور تعلیم سے دُوری بچوں کو پہلے ہی غیر محفوظ بنا دیتی ہے اور سوشل میڈیا اس فاصلے کو مزید کم کردیتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے فیس بک اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز کے 70 سے زیادہ اکاؤنٹس اور 40 پوسٹس کا جائزہ لیا، جس میں کئی پوسٹس میں مسلح زندگی کو پرکشش دکھایا گیا یا جعلی ملازمتوں کے ذریعے بچوں کو رابطے پر آمادہ کیا گیا۔
کولمبیا میں مسلح دھڑے سوشل میڈیا الگورتھمز اور جعلی وعدوں کے ذریعے غریب بچوں کو بھرتی کر کے خطرناک جرائم میں جھونک رہے ہیں۔
سال 2021 سے اب تک پندرہ سو سے زیادہ بچے مسلح دھڑوں کا ایندھن بنے جن کی شرح میں تین سو فیصد اضافہ ہوا۔
بھرتی کیے گئے بچوں میں تیس فیصد سے زائد ننھے بچے ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم مانا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا اور مقامی رابطوں کے ذریعے بچوں کو اغوا اور بھرتی کرنے والوں کو بھاری نقد رقم دی جاتی ہے۔
کمزور عدالتی نظام کے باعث پچھلی دہائی میں بچوں کے استحصال کے ننانوے فیصد سے زائد مجرمان قانون سے بچ نکلے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
رپورٹ کے مطابق زیادہ تشویش ناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ بعض صورتوں میں پلیٹ فارمز کے الگورتھم خود بھی ایسے مواد کی رسائی بڑھاتے دکھائی دیے۔
1500 بچے اور ایک خوفناک حقیقت
دستیاب اعداد و شمار اس مسئلے کی شدت واضح کرتے ہیں۔
2021 سے اب تک کم از کم 1500 بچوں کی بھرتی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 2023 کے بعد واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سابقہ اعداد و شمار 5 برس میں بچوں کی بھرتی اور استعمال میں 300 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
📊
سیکڑوں بچے: خوفناک اعداد کیا بتاتے ہیں؟
رپورٹ کا خلاصہ
سیکڑوں بچے: خوفناک اعداد کیا بتاتے ہیں؟
بھرتی شدہ بچے
2021 سے اب تک تصدیق شدہ متاثرہ کم عمر بچوں کی تعداد۔
5 سالہ ہوشربا اضافہ
اقوام متحدہ کے مطابق گینگز میں بچوں کے استعمال میں تیز ترین اضافہ۔
10 سے 14 سال کی عمر
نہایت کم عمر معصوم بچے جو بین الاقوامی قانون میں جنگی جرم ہے۔
تشویش ناک حقیقت: کولمبیا کی کل آبادی میں قدیم مقامی باشندوں کا حصہ محض 4 فیصد ہے، لیکن مسلح گروہوں کے ہتھے چڑھنے والے بچوں میں سے تقریباً 50 فیصد کا تعلق انہی غیر محفوظ قبائلی کمیونٹیز سے ہے۔
زیادہ تر رپورٹ شدہ واقعات سابق باغی تنظیم فارق سے الگ ہونے والے مسلح دھڑوں سے منسلک ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر مقامی قدیم باشندوں کی برادریاں ہیں۔ کولمبیا کی آبادی میں ان کا حصہ تقریباً 4 فیصد ہے، مگر رپورٹ شدہ بھرتیوں میں تقریباً نصف بچے انہی برادریوں کے ہیں۔
بھرتی کیے گئے بچوں میں 30 فیصد سے زیادہ صرف 10 سے 14 سال کے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کی ایسی بھرتی جنگی جرم بن سکتی ہے۔
ایک بچے کی قیمت کتنی؟
▼
ایک بچے کی قیمت کتنی؟
💵 1,000 ڈالر تک فی بچہ کمیشن
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مسلح گروہ مقامی سہولت کاروں اور رشتہ داروں کو ہر نئے بچے کو پھانس کر لانے پر نقد انعام دیتے ہیں۔
🏫 دیہی اسکولوں میں ایجنٹوں کا جال
یہ نیٹ ورک اسکولوں کے باہر گھومنے والے ڈیلرز کے ذریعے چلایا جاتا ہے جو غریب والدین کے بچوں کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔
⚖️ 0.2 فیصد سزاؤں کی شرح
اس گھناؤنے کاروبار کے خلاف درج ہونے والے 99 فیصد کیسز عدالتی کارروائی تک پہنچ ہی نہیں پاتے، جس سے مجرموں کو مکمل چھوٹ مل جاتی ہے۔
سنگین المیہ: معصوم انسانی جانوں کو محض چند سو ڈالرز کے عوض کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر بیچا جا رہا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
ایک بچے کی قیمت ہزار ڈالر
یہ جال صرف موبائل تک محدود نہیں ہے۔ رپورٹ میں ایسے شہری (جاننے والوں) کا ذکر بھی ہے، جنہیں ایک بچے کی بھرتی پر ایک ہزار ڈالر تک ملتے ہیں۔
اس کے علاوہ دیہی اسکولوں میں بھی اس طرح کی بھرتیوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
بھرتی کے بعد بچوں کو اکثر گھر سے دُور منتقل کردیا جاتا ہے۔ بعض کو فوجی تربیت ملتی ہے، جبکہ دوسروں سے جاسوسی، پیغام رسانی، طبی امداد، یرغمالیوں کی نگرانی، منشیات کی اسمگلنگ اور کمانڈروں کی حفاظت جیسے کام لیے جاتے ہیں۔
🤖
الگورتھم خود بھی جرم میں مددگار
ڈیجیٹل تجزیہ
الگورتھم خود بھی جرم میں مددگار
1۔ خودکار ریکمنڈیشن سسٹمز کا کردار
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جب ایک بار کوئی کم عمر صارف مسلح گروہ کی ویڈیو دیکھتا ہے، تو پلیٹ فارم کا الگورتھم اسے مسلسل اسی نوعیت کا مزید پُرتشدد مواد تجویز کرنا شروع کر دیتا ہے۔
2۔ مانیٹرنگ کی سنگین ناکامی
بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مقامی ہسپانوی اور قبائلی بولیوں میں پوسٹ کیے جانے والے کوڈ ورڈز اور ریکروٹمنٹ پیغامات کو فلٹر کرنے میں ناکام ہیں۔
3۔ وائرل ریچ اور پروموشن
زیادہ اینگیجمنٹ کی وجہ سے اشتعال انگیز ویڈیوز خود بخود ہزاروں دیہی نوجوانوں کی فیڈ پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہیں۔
لڑکیوں کے لیے خطرہ مزید سنگین ہے۔ اقوام متحدہ نے ایسے واقعات بھی ریکارڈ کیے ہیں جن میں تحفظ، محبت یا رقم کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو پھنسایا گیا اور بعد میں جنسی تشدد اور جبری کاموں کا نشانہ بنایا گیا۔
قانون موجود، مگر سزا کہاں؟
کولمبیا میں بچوں کے تحفظ اور معاشرتی بحالی کے پروگرام موجود ہیں، مگر وسائل اور عمل درآمد کمزور ہیں۔
⚔️
بھرتی کے بعد کیا ہوتا ہے؟ خوفناک حقائق
◀
بھرتی کے بعد کیا ہوتا ہے؟ خوفناک حقائق
🌲 جنگلوں میں عسکری مشقت
بچوں کو گھروں سے سینکڑوں میل دور خفیہ کیمپس منتقل کر کے جاسوسی، منشیات کی اسمگلنگ، بارودی سرنگیں بچھانے اور کمانڈروں کی حفاظت پر مجبور کیا جاتا ہے۔
⚠️ بچیوں پر وحشیانہ تشدد
اقوام متحدہ کے مطابق دھوکے سے لائی گئی کم عمر لڑکیوں کو جبری شادیوں، جنسی زیادتی اور کیمپس میں بیگار کیمپ کے بدترین مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی پکار: ہیومن رائٹس واچ نے زور دیا ہے کہ اسکولوں اور موبائل نیٹ ورکس پر فوری کڑی نگرانی قائم کی جائے ورنہ ڈیجیٹل دنیا معصوم بچوں کو مسلح تصادم کا ایندھن بناتی رہے گی۔
اس کمزوری کا سب سے بڑا ثبوت احتساب کے اعداد و شمار ہیں۔ گزشتہ دہائی میں بچوں کی بھرتی سے متعلق صرف تقریباً ایک فیصد فوجداری شکایات باقاعدہ تحقیقات تک پہنچیں، جبکہ محض 0.2 فیصد مقدمات سزا پر ختم ہوئے۔
ہیومن رائٹس واچ کا مطالبہ ہے کہ نئی کولمبین حکومت مقامی اور قدیم باشندہ برادریوں کے ساتھ مل کر بچوں کے تحفظ کا نظام مضبوط کرے۔ کیونکہ اب میدان صرف جنگل نہیں رہا، بلکہ بچوں تک پہنچنے کا راستہ ان کی جیب میں موجود موبائل فون سے بھی گزرتا ہے۔