پاکستان ایران امریکا بحران میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آرہا ہے۔
عاصم منیر کے دورۂ تہران میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر بات ہوئی۔
ایران امریکی عملی اقدامات چاہتا ہے جبکہ واشنگٹن محفوظ جہاز رانی اور علاقائی کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کررہا ہے۔
اگر اسلام آباد کامیاب ہوا تو پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں سفارتی وزن نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان اب ایران اور امریکا کے درمیان جاری محاذ آرائی کے کنارے کھڑا تماشائی نہیں رہا، بلکہ رفتہ رفتہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہوگیا ہے۔
ایسے وقت میں جب جنگ، پابندیاں، آبنائے ہرمز اور خلیجی سلامتی ایک ہی پیچیدہ بحران کے حصے بن چکے ہیں، اسلام آباد کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔
24 اگست 2026 کو چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران نے اس کردار کو نئی تقویت دی۔
مذاکرات صرف دوطرفہ تعلقات یا سرحدی سلامتی تک محدود نہیں رہے، بلکہ کشیدگی میں کمی، لڑائی روکنے، آبنائے ہرمز کو زیادہ وسیع پیمانے پر کھولنے اور واشنگٹن و تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز تک لانے کے امکانات پر براہ راست بات ہوئی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان، ایران اور ہرمز — اہم نکات ⌄
- ✓پاکستان اب ایران امریکا بحران میں ایک اہم سفارتی رابطہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔
- ✓عاصم منیر کے دورۂ تہران میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر توجہ مرکوز رہی۔
- ✓ایران چاہتا ہے کہ امریکا پہلے عملی اعتماد سازی کرے، جبکہ واشنگٹن محفوظ جہاز رانی اور علاقائی کشیدگی میں کمی چاہتا ہے۔
- ✓پاکستان کے سعودی عرب، ایران، چین اور امریکا کے ساتھ بیک وقت تعلقات اسے ایک منفرد ثالثی پوزیشن دیتے ہیں۔
- ✓آبنائے ہرمز میں استحکام چین اور خلیجی ممالک دونوں کے لیے توانائی اور تجارت کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔
- ✓اگر ثالثی کامیاب ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا سفارتی وزن نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
عاصم منیر کے ہمراہ موجود پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دورے کے بعد مذاکرات میں ’اہم پیش رفت‘ کی بات کی، جبکہ پاکستانی فوج نے واضح کیا کہ مقصد مزید کشیدگی روکنا اور مسئلے کا مذاکراتی حل تلاش کرنا ہے۔
تاہم پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ قریب آچکا ہے۔
اصل مشکل اب صرف ایسا ثالث تلاش کرنا نہیں جو پیغامات پہنچا سکے، بلکہ دونوں فریقوں کو ایسے باہمی اقدامات پر آمادہ کرنا ہے جن سے کسی کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دباؤ کے سامنے جھک گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ہرمز اب بحران کا مرکز
جنگ سے پہلے امریکا اور ایران کے اختلافات کا مرکز جوہری پروگرام اور پابندیاں تھیں، مگر اب آبنائے ہرمز کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کی اہم ترین کنجیوں میں شامل ہوچکی ہے۔
دنیا کی توانائی کی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی بحری راستے سے گزرتا ہے جس میں فی الحال تعطل ہے۔
اگر یہاں طویل رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو جہاز رانی، انشورنس اور توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کا دباؤ خلیجی ممالک سے لے کر چین اور عالمی معیشت تک محسوس ہوتا ہے۔
ایران کے لیے ہرمز ایک انتہائی طاقتور اسٹریٹجک کارڈ ہے جسے وہ کسی واضح بدلے کے بغیر چھوڑنے پر تیار نظر نہیں آتا۔
دوسری طرف امریکا اور خلیجی ممالک سمجھتے ہیں کہ آزاد اور محفوظ جہاز رانی کسی بھی حقیقی کشیدگی میں کمی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
اسی لیے یہ معاملہ عاصم منیر کی تہران ملاقاتوں کے مرکز میں رہا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXپاکستان ایران ثالثی: فیکٹ باکس ⌄
- مرکزی کردار
- فیلڈ مارشل عاصم منیر
- اہم مقام
- تہران
- مرکزی مسئلہ
- امریکا ایران کشیدگی
- اہم بحری راستہ
- آبنائے ہرمز
- اہم خلیجی فریق
- سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں
- عالمی مفاد
- چین، توانائی اور تجارت
- پاکستان کی طاقت
- ایران، سعودی عرب، چین اور امریکا کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھنے کی صلاحیت
- ممکنہ راستہ
- مرحلہ وار کشیدگی میں کمی، ہرمز میں جہاز رانی اور پھر وسیع مذاکرات
ایران کے اشاروں سے واضح ہے کہ وہ صرف سیاسی وعدوں کے بدلے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے تیار نہیں۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کو پہلے عملی اقدام کے ذریعے اعتماد بحال کرنا ہوگا اور ان وعدوں پر عمل کرنا ہوگا جنہیں تہران سابقہ تفاهمات کا حصہ سمجھتا ہے۔
یہیں سب سے بڑا سوال سامنے آتا ہے: پہلا قدم کون اٹھائے؟
واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کشیدگی کم کرے اور جہاز رانی محفوظ بنائے، جبکہ تہران چاہتا ہے کہ اپنے سب سے مؤثر دباؤ کے ہتھیار کو کمزور کرنے سے پہلے اسے اقتصادی اور سیاسی بدلہ ملے۔
پاکستان ہی کیوں؟
اسلام آباد کی اصل طاقت اس کے غیرمعمولی تعلقات کے جال میں چھپی ہے۔
پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے سکیورٹی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل مشترکہ سرحد اور براہ راست سکیورٹی مفادات موجود ہیں۔
اسی دوران چین پاکستان کا قریبی اسٹریٹجک شراکت دار ہے اور واشنگٹن کے ساتھ بھی تعلقات گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ فعال دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ امتزاج بہت کم ممالک کے پاس ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سفارتی کوشش کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ معاملہ تین سطحوں پر پاکستان اور خطے کے لیے اہم ہے:
عاصم منیر نے تہران جانے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی تھی۔
اسی وجہ سے ایرانی قیادت یہ جانتی ہے کہ پاکستانی فوجی سربراہ صرف ہمسایہ ملک کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں آئے، بلکہ وہ واشنگٹن تک براہ راست پیغام پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان ایرانی مؤقف کو امریکی انتظامیہ تک ایسے غیرعلانیہ چینل کے ذریعے پہنچا سکتا ہے جس سے دونوں فریقوں پر داخلی سیاسی دباؤ نسبتاً کم رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی سب سے اہم قدر شاید یہ ہے کہ وہ اس وقت بیک چینل مذاکرات فراہم کرسکتا ہے جب رسمی بات چیت مشکل ہو۔
چین بھی پس منظر میں موجود
اس پوری تصویر میں چین کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
بیجنگ کے ایران کے ساتھ مضبوط اسٹریٹجک تعلقات ہیں اور وہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، لیکن اسی وقت چین خلیج کے استحکام اور ہرمز سے مسلسل توانائی کی ترسیل پر بھی بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہیں۔
- عاصم منیر نے تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔
- آبنائے ہرمز، جہاز رانی اور علاقائی سلامتی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔
- ایران امریکی عملی اقدامات اور اعتماد سازی پر زور دے رہا ہے۔
ابھی واضح نہیں
- کیا امریکا اور ایران کسی نئے باضابطہ مذاکراتی دور پر متفق ہوچکے ہیں؟
- کیا ہرمز کے بارے میں کوئی حتمی قابلِ عمل فارمولہ طے پاچکا ہے؟
- کیا پابندیوں میں فوری نرمی یا کسی اقتصادی رعایت پر اتفاق ہوا ہے؟
- پاکستان کی ثالثی کو کسی تحریری معاہدے یا باضابطہ میکانزم کی شکل ملی ہے یا نہیں؟
ادارتی احتیاط: ’’اہم پیش رفت‘‘ کو حتمی معاہدہ یا جنگ کے خاتمے کے مترادف نہ سمجھا جائے؛ ابھی متعدد بنیادی اختلافات باقی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں طویل بحران چین کے لیے صرف مشرق وسطیٰ کا مسئلہ نہیں، بلکہ توانائی کی قیمتوں، سپلائی چین اور عالمی تجارت کا براہ راست خطرہ ہے۔
اسی لیے بیجنگ کے لیے پاکستانی ثالثی کی کامیابی اپنے مفاد میں ہے۔
اسلام آباد کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات اسے ایک ایسی جگہ پر کھڑا کرتے ہیں جہاں امریکی، چینی، خلیجی اور ایرانی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے بھی ہیں اور بعض مقامات پر ملتے بھی ہیں۔
اگر پاکستان اس پیچیدہ صورت حال کو دباؤ کے بجائے موقع میں بدل سکا تو موجودہ ثالثی اس کے علاقائی کردار کا کئی برسوں میں سب سے بڑا امتحان بن سکتی ہے۔
خلیج کی حساس مساوات
اسلام آباد تہران سے بات کرسکتا ہے، مگر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے مفادات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
ایسا کوئی بھی معاہدہ جس میں جہاز رانی، خلیجی تنصیبات اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات میں کمی شامل نہ ہو، اسے وسیع علاقائی حمایت حاصل ہونا مشکل ہوگا۔
پاکستان اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
پاکستان ایران امریکا بحران میں ایک اہم بیک چینل کے طور پر سامنے آرہا ہے، جہاں عاصم منیر کی تہران ملاقاتیں نئی سفارتی سرگرمی کا مرکز بنی ہیں۔
اصل تنازع آبنائے ہرمز، امریکی پابندیوں اور سکیورٹی ضمانتوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایران امریکی عملی اقدام چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن محفوظ جہاز رانی اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کررہا ہے۔
اگر اسلام آباد دونوں فریقوں کو مرحلہ وار رعایتوں پر آمادہ کرلیتا ہے تو پاکستان کی علاقائی اہمیت بڑھ سکتی ہے؛ ناکامی کی صورت میں وہ ایران، امریکا اور خلیجی اتحادیوں کے متضاد دباؤ کے درمیان پھنس سکتا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اس کے اقتصادی اور دفاعی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
اس کے علاوہ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور ان کی ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
اس لیے اسلام آباد کے لیے کامیاب ثالثی کا مطلب صرف امریکا اور ایران کی لڑائی رکوانا نہیں، بلکہ ایسا فارمولہ تلاش کرنا بھی ہے جو خلیجی ممالک کو اعتماد دے سکے۔
یہی چیز عاصم منیر کے مشن کو انتہائی حساس بناتی ہے۔
اگر پاکستان امریکی اور خلیجی مطالبات کے بہت قریب چلا جاتا ہے تو ایران کا اعتماد کھو سکتا ہے، اور اگر تہران کے مؤقف کی زیادہ حمایت کرے تو واشنگٹن اور خلیجی اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوسکتی ہے۔
کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب اسلام آباد سب کے ساتھ قابل قبول فاصلہ برقرار رکھ سکے۔
ایران کیا چاہتا ہے؟
تہران سے آنے والے اشارے بتاتے ہیں کہ ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کررہا، لیکن وہ انہی پرانی شرائط کے ساتھ بات چیت کی میز پر واپس آنے کو بھی تیار نہیں۔
ایرانی مؤقف یہ ہے کہ امریکا پہلے ایسا اقدام کرے جس سے ظاہر ہو کہ وہ سابقہ تفاهمات پر عمل اور بعض اقتصادی دباؤ میں کمی کے لیے تیار ہے۔
≈ OVERSEAS POST | GULFخلیجی مساوات: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ⌄
پاکستان ایران سے براہ راست بات کرسکتا ہے، لیکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
دوسری طرف واشنگٹن واضح سکیورٹی ضمانتیں چاہتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز، علاقائی حملوں اور دیگر خطرات کے حوالے سے۔
اسی لیے ممکنہ معاہدہ شاید کسی بڑے جامع سمجھوتے سے شروع نہ ہو۔
زیادہ حقیقت پسندانہ امکان یہ ہے کہ محدود اقدامات کی ایک زنجیر سامنے آئے:
بعض پابندیوں یا اقتصادی دباؤ میں جزوی نرمی کے بدلے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی، حملوں میں کمی اور اس کے بعد پابندیوں، جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی پر زیادہ جامع مذاکرات۔
یہاں پاکستانی ثالثی خاص طور پر مفید ہوسکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دونوں فریق بتدریج رعایتیں دے سکتے ہیں اور کسی کو فوری طور پر سیاسی شکست تسلیم نہیں کرنا پڑے گی۔
کامیابی کی صورت میں پاکستان کو کیا ملے گا؟
اگر پاکستان کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو اسلام آباد کے فوائد صرف ایرانی مسئلے تک محدود نہیں رہیں گے۔
سب سے پہلے، پاکستان کی ایک ایسی سفارتی طاقت کے طور پر ساکھ مضبوط ہوگی جو مشرق وسطیٰ کے بڑے بحرانوں میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
دوسرا، سعودی عرب، ایران، چین اور امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات ایک ہی وقت میں مزید مضبوط ہوسکتے ہیں۔
تیسرا، خلیجی سلامتی، توانائی اور علاقائی تجارت سے متعلق مستقبل کے مذاکرات میں پاکستان کے لیے زیادہ بڑا کردار پیدا ہوسکتا ہے۔
CN OVERSEAS POST | CHINAچین اس کھیل میں کیوں اہم ہے؟ ⌄
عاصم منیر کی ذاتی سفارتی حیثیت اور علاقائی اثرورسوخ میں بھی اضافہ ہوگا۔
اگر کوشش ناکام ہوگئی؟
ناکامی کا مطلب لازمی طور پر پاکستان کے تعلقات کا خاتمہ نہیں ہوگا، لیکن اس سے اسلام آباد کی اثرانداز ہونے کی حدود ضرور سامنے آجائیں گی۔
اگر لڑائی جاری رہتی ہے، ہرمز مسلسل خطرے میں رہتا ہے یا حملے دوبارہ شدت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان خود ایران، خلیجی ممالک اور امریکا کی متضاد توقعات کے درمیان پھنس سکتا ہے۔
3 OVERSEAS POST | SCENARIOSآگے کیا ہوسکتا ہے؟ تین ممکنہ منظرنامے ⌄
اس بحران کے جاری رہنے سے توانائی اور جہاز رانی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی، جس کا نقصان خود پاکستانی معیشت کو ہوگا۔
اسی لیے اسلام آباد کے پاس اس بحران کو دور سے دیکھتے رہنے کی آسائش نہیں۔
کیا عاصم منیر کے پاس حل ہے؟
ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تہران کا دورہ فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہوچکا ہے۔
نہ کوئی حتمی امن معاہدہ سامنے آیا ہے، نہ امریکا اور ایران کے براہ راست مذاکرات کی فوری واپسی کا اعلان ہوا ہے، اور نہ ہی ہرمز اور پابندیوں کے اختلافات جلد حل ہونے کی ضمانت موجود ہے۔
لیکن ایک اہم تبدیلی ضرور آچکی ہے: پاکستان اب حل کی تشکیل کا حصہ بن گیا ہے۔
عاصم منیر کے پاس شاید تیار امن معاہدہ نہیں، مگر ان کے پاس ایک ایسا رابطہ چینل موجود ہے جسے اب بھی وہ فریق استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں جو براہ راست بات کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
اگر اسلام آباد واشنگٹن کو کسی عملی اقدام پر آمادہ کرسکا اور اس کے بدلے تہران کو کشیدگی کم کرنے اور ہرمز میں آزاد جہاز رانی بحال کرنے پر قائل کرسکا تو مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر دونوں فریق یہی انتظار کرتے رہے کہ دوسرا پہلے پیچھے ہٹے تو خطہ جنگ اور عارضی سکون کے درمیان پھنسا رہے گا۔
اس لیے اصل سوال شاید یہ نہیں کہ عاصم منیر اکیلے جنگ ختم کرسکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان دونوں فریقوں کو ایسی سیاسی گنجائش فراہم کرسکتا ہے جس میں کوئی فریق کھلی شکست تسلیم کئے بغیر جنگ ختم کرسکے؟
اور ایک ایسے بحران میں جہاں توانائی، تجارت، سلامتی اور جوہری تنازع ایک ہی معرکے میں تبدیل ہوچکے ہیں، ممکن ہے یہی سیاسی گنجائش اس وقت پورے خطے کی سب سے بڑی ضرورت ہو۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESرپورٹ کے بنیادی ذرائع ⌄
قالب، رنگ، کھولنے/بند کرنے کا انداز اور نسخ بٹن وہی رکھے گئے ہیں؛ صرف رپورٹ کے مطابق مواد تبدیل کیا گیا ہے۔