امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مہلت کو سفارتی تصفیے کا موقع سمجھا گیا، مگر رپورٹس کے مطابق تہران نے اسی عرصے میں اپنی اہم فوجی صلاحیتیں بحال کرنے، میزائل اور ڈرون پیداوار بڑھانے اور ممکنہ نئی جنگ کی حکمت عملی پر بھی کام کیا۔
تاہم پابندیاں، گرتی تیل برآمدات اور امریکی فضائی برتری اب بھی ایران کی بڑی کمزوریاں ہیں۔
جون میں جب امریکا اور ایران کے درمیان عارضی سمجھوتہ نافذ ہوا تو بظاہر دونوں ملکوں کو 60 دن کی مہلت ملی تھی۔
توقع تھی کہ یہ مدت خطے کو ایک طویل جنگ سے دور رکھنے اور کسی سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے استعمال ہوگی۔
مگر ایران کی نگاہ اس گھڑی پر مختلف تھی۔
ایک طرف سفارت کاری معاہدے تک پہنچنے کے لیے دن گن رہی تھی، دوسری طرف مغربی اور امریکی رپورٹس کے مطابق ایرانی عسکری ادارے اسی عرصے میں اپنی قیادت کی تنظیم نو، میزائل اور ڈرون پیداوار بڑھانے، علاقائی اتحادیوں سے رابطے بہتر بنانے اور ممکنہ نئی جنگ کی تیاری میں مصروف تھے۔
یوں 60 دن کی مہلت جنگ ختم کرنے کے موقع سے بدل کر اگلی جنگ کی تیاری کی دوڑ بن گئی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران کے 60 دن — اہم نکات ⌄
- ✓60 روزہ مہلت کے دوران ایران نے میزائل اور ڈرون پیداوار کو اہم ترجیح دی۔
- ✓رپورٹس کے مطابق بعض عسکری اور سکیورٹی ڈھانچوں کی تنظیم نو کی گئی۔
- ✓علاقائی اتحادی گروپوں کے ساتھ رابطے بہتر بنانے کی کوشش ہوئی۔
- ✓آبنائے ہرمز ایران کا سب سے اہم عالمی معاشی دباؤ بن سکتی ہے۔
- !60 دن میں پوری ایرانی ترسانة بحال ہونے کا قابل اعتماد ثبوت نہیں۔
- !زیادہ درست نتیجہ یہ ہے کہ ایران زیادہ تیار ہوا ہے، ضروری نہیں کہ پہلے سے زیادہ طاقتور بھی ہو۔
اب یہ مہلت ختم ہوچکی ہے، واشنگٹن اور تہران کسی مستقل سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے، جبکہ ایرانی حکام زیادہ جارحانہ فوجی حکمت عملی کی بات بھی کر رہے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ایران نے ان 60 دنوں میں کیا بدلا؟
مزید پڑھیں
جنگ بندی پر مکمل بھروسا نہیں تھا
جون کا سمجھوتہ مستقل امن معاہدہ نہیں بلکہ 60 روزہ عارضی فریم ورک تھا۔
اس دوران جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور علاقائی کشیدگی جیسے معاملات پر وسیع مذاکرات کی توقع تھی۔
لیکن وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایرانی قیادت کے بعض حلقوں کا
خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل بھی اس وقفے کو اپنی افواج دوبارہ منظم کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
چنانچہ تہران نے بھی تیاری شروع کردی۔
رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کردار بڑھایا گیا، بعض عسکری اور سکیورٹی ڈھانچوں کی تنظیم نو ہوئی، میزائل اور ڈرون پیداوار تیز کی گئی اور خطے میں ایران کے اتحادی گروپوں کے ساتھ رابطوں کو بہتر بنایا گیا۔
یعنی ایران نے جنگ بندی کو جنگ کا اختتام نہیں سمجھا، بلکہ اگلی ممکنہ جنگ کی تیاری کا وقت سمجھا۔
پہلی ترجیح.. میزائل
ایران روایتی فضائی طاقت میں امریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ واشنگٹن کو جدید جنگی طیاروں، سیٹلائٹ نگرانی، انٹیلی جنس اور طویل فاصلے تک حملوں میں واضح برتری حاصل ہے۔
اس لیے تہران کی حکمت عملی مختلف ہے:
ایران پر حملے کی قیمت بہت زیادہ کردی جائے۔
یہیں بیلسٹک میزائل اور ڈرون اہم ہوجاتے ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX60 دن میں کیا بدلا؟ ⌄
- میزائل پیداوار
- تیزی کی اطلاعات
- ڈرون پیداوار
- اہم ترجیح
- عسکری قیادت
- بعض حصوں کی تنظیم نو
- علاقائی رابطے
- دوبارہ فعال کرنے کی کوشش
- برینٹ خام تیل
- 21 اگست: تقریباً 93.97 ڈالر فی بیرل
- ایرانی تیل برآمدات
- اگست: تقریباً 5.34 لاکھ بیرل یومیہ
- 2025 کی اوسط ایرانی تیل برآمدات
- تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ
- اہم نتیجہ
- ایران زیادہ تیار ہوا ہے، ضروری نہیں کہ زیادہ طاقتور بھی ہو
ایران کا مقصد امریکا کے برابر فوجی طاقت حاصل کرنا نہیں بلکہ اتنی بڑی حملہ آور صلاحیت برقرار رکھنا ہے کہ اس کے تمام میزائل اور ڈرون روکنا مشکل اور مہنگا ہوجائے۔
تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایران نے صرف دو ماہ میں جنگ کے دوران ضائع ہونے والی پوری ترسانة دوبارہ تیار کرلی۔
پیچیدہ تنصیبات، لانچرز، جدید آلات اور تربیت یافتہ افراد کا متبادل فوری طور پر ممکن نہیں۔
زیادہ درست بات یہ ہے کہ ایران نے اپنی اہم ترین صلاحیتوں کی بحالی کو ترجیح دی۔
دفاعی نظام کو تھکانے کی حکمت عملی
میزائل جنگ میں صرف حملہ آور کے میزائل اہم نہیں ہوتے، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مخالف کے پاس انہیں روکنے کے لیے کتنے دفاعی میزائل ہیں۔
حالیہ جنگ نے امریکا کے بعض اہم اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھایا، جس کے بعد واشنگٹن میں یہ سوال اٹھا کہ استعمال ہونے والے دفاعی میزائل کتنی تیزی سے دوبارہ تیار کئے جاسکتے ہیں۔
یہ صورتحال ایران کے لیے ایک موقع ہے۔
اگر ایرانی میزائلوں کی بڑی تعداد روک بھی لی جائے، تب بھی مسلسل حملے مخالف کو مہنگے انٹرسیپٹر استعمال کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔
یوں ایران کا مقصد کسی ایک حملے سے دفاعی نظام توڑنا نہیں بلکہ وقت کے ساتھ اسے تھکانا ہوسکتا ہے۔
ڈرون اور میزائل ایک ساتھ
ایران کی دوسری بڑی طاقت ڈرون ہیں۔
ڈرون نسبتاً سستے ہیں، نگرانی کرسکتے ہیں اور ایک ہی وقت میں دفاعی نظام کے سامنے بڑی تعداد میں اہداف پیدا کرسکتے ہیں۔
اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب ڈرون اور میزائل ایک ساتھ استعمال ہوں۔
مختلف سمتوں سے ڈرون بھیجے جائیں اور تقریباً اسی وقت بیلسٹک میزائل داغے جائیں تو دفاعی نظام کو چند منٹوں میں کئی مختلف قسم کے اہداف سے نمٹنا پڑتا ہے۔
اسی لیے 60 دن کے دوران ڈرون اور میزائل پیداوار میں تیزی صرف ذخیرہ بحال کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ممکنہ اگلی جنگ کا انداز بدلنے کی تیاری بھی ہوسکتی ہے۔
صرف ہتھیار نہیں، قیادت بھی بدلی
گزشتہ دو ماہ کے دوران ایران نے عسکری قیادت کے بعض حصوں کی تنظیم نو بھی کی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقے نئی جنگ کو ایک حقیقی امکان سمجھ رہے ہیں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے دائرے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
ایران کی ممکنہ اگلی حکمت عملی تین بنیادی دباؤ ایک ساتھ پیدا کرسکتی ہے:
رپورٹ میں جنوبی مشرقی یورپ میں بعض امریکی فوجی اثاثوں سمیت بلغاریہ اور قبرص جیسے مقامات کا ذکر بھی سامنے آیا۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ یہ صرف زیر غور آپشنز ہیں۔
ایسی کوئی واضح اطلاع موجود نہیں کہ ایرانی قیادت نے یورپ میں اہداف پر حملے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ممکنہ جنگ کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہونے کے امکان کو بھی مدنظر رکھ رہا ہے۔
ہرمز.. ایران کا سب سے بڑا معاشی ہتھیار
ایران کی شاید سب سے طاقتور چیز کوئی میزائل نہیں بلکہ اس کا جغرافیہ ہے۔
آبنائے ہرمز۔
ایران کو ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر جہازوں پر حملے کا خطرہ بڑھے تو انشورنس مہنگی ہوتی ہے، شپنگ کمپنیاں راستہ بدلتی ہیں اور عالمی منڈی تیل کی ممکنہ قلت کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کردیتی ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- ایران نے فوجی تیاری اور اسلحہ پیداوار بڑھانے کی بات کی ہے۔
- میزائل اور ڈرون ایرانی جنگی حکمت عملی کے بنیادی ہتھیار ہیں۔
- ایرانی تیل برآمدات پر امریکی دباؤ بڑھا ہے۔
- ہرمز میں کشیدگی عالمی تیل اور شپنگ منڈی پر اثر ڈال رہی ہے۔
- بعض عسکری اور سکیورٹی ڈھانچوں کی تنظیم نو کی اطلاعات موجود ہیں۔
تاحال غیر ثابت یا غیر واضح
- ایران نے صرف 60 دن میں اپنی پوری ترسانة دوبارہ بنا لی ہے۔
- یورپ میں امریکی اہداف پر حملے کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔
- ایران جنگ سے پہلے کے مقابلے میں مجموعی طور پر زیادہ طاقتور ہوگیا ہے۔
- نئی بڑی جنگ کا حتمی فیصلہ تہران یا واشنگٹن کرچکے ہیں۔
- تمام جنگی نقصانات دو ماہ میں مکمل طور پر پورے ہوچکے ہیں۔
اہم احتیاط: زیر غور فوجی آپشنز اور حتمی عملی فیصلے کو ایک ہی چیز کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہئے۔
21 اگست کو برینٹ خام تیل تقریباً 93.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ایران سے متعلق کشیدگی اور سپلائی میں خلل کے خدشات مارکیٹ پر اثر انداز ہورہے تھے۔
یوں ہرمز ایران کے لیے ایسا معاشی دباؤ پیدا کرسکتا ہے جو روایتی فوجی طاقت سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو۔
ایران خود بھی قیمت ادا کررہا ہے
لیکن ایران کی طاقت کی تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
تازہ اعدادوشمار کے مطابق اگست میں ایرانی تیل کی برآمدات تقریباً 5 لاکھ 34 ہزار بیرل یومیہ تک گرنے کا تخمینہ لگایا گیا، جبکہ 2025 میں اوسط تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔
چین ایران کے لیے سب سے اہم خریدار ہے، لیکن امریکی پابندیوں اور برآمدی رکاوٹوں نے اس راستے کو بھی مشکل بنایا ہے۔
اس لیے اصل دوڑ یہ ہے:
کیا ایران اپنی فوجی طاقت اس رفتار سے بحال کرسکتا ہے جس رفتار سے جنگ اور پابندیاں اس کی معیشت کو کمزور کر رہی ہیں؟
ایران زیادہ طاقتور نہیں، زیادہ تیار ہوا ہے
60 دن فوجی دستوں کی نئی تعیناتی، بعض تنصیبات کی مرمت، پیداواری لائنوں کی رفتار بڑھانے، قیادت بدلنے اور نئے منصوبے بنانے کے لیے کافی ہوسکتے ہیں۔
لیکن یہ مدت تمام نقصانات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ ایران اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوگیا ہے، مبالغہ ہوگا۔
زیادہ درست نتیجہ یہ ہے:
ایران اگلی جنگ کے لیے زیادہ تیار ہوا ہے، ضروری نہیں کہ زیادہ طاقتور بھی ہوگیا ہو۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ مہلت کو سفارتی تصفیے کا موقع سمجھا گیا، مگر ایران نے اسی عرصے میں اپنی فوجی تیاری بھی جاری رکھی۔
رپورٹس کے مطابق میزائل اور ڈرون پیداوار بڑھانے، عسکری ڈھانچے کی تنظیم نو اور علاقائی رابطے بہتر بنانے پر کام کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کا اہم معاشی دباؤ ہے۔
اس کے باوجود یہ ثابت نہیں کہ تہران نے تمام جنگی نقصانات پورے کرلئے ہیں۔ پابندیاں اور کم ہوتی تیل برآمدات بڑی کمزوریاں ہیں۔ نتیجہ: ایران شاید پہلے سے زیادہ طاقتور نہ ہو، لیکن اگلی جنگ کے لیے زیادہ تیار دکھائی دیتا ہے۔
گزشتہ 60 دنوں میں تہران نے میزائل اور ڈرون پیداوار بڑھانے، قیادت کی تنظیم نو، علاقائی اتحادیوں سے رابطے بہتر بنانے اور ممکنہ جوابی کارروائی کے نئے آپشنز پر کام کیا۔
مگر اس کی معاشی کمزوریاں برقرار ہیں اور امریکا کی فضائی اور ٹیکنالوجیکل برتری بھی ختم نہیں ہوئی۔
اسی لیے ایران کی اگلی حکمت عملی شاید روایتی جنگ جیتنے کی نہیں ہوگی، بلکہ جنگ کو طویل، کئی محاذوں پر پھیلا ہوا، معاشی طور پر مہنگا اور سیاسی طور پر مشکل بنانے کی ہوسکتی ہے۔
واشنگٹن 60 دن میں معاہدہ چاہتا تھا۔
تہران بھی مذاکرات کررہا تھا۔
مگر مذاکرات کی میز کے پیچھے میزائل اور ڈرون تیار ہورہے تھے، قیادت بدلی جارہی تھی اور اگلی ممکنہ جنگ کے منصوبے بن رہے تھے۔
اسی لیے یہ 60 دن صرف جنگ بندی نہیں تھے۔
یہ اگلی جنگ کی تیاری کے 60 دن بھی تھے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
زیر غور فوجی آپشنز کو حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہ کریں؛ بنیادی حقائق کے لیے اصل رپورٹس ہی حوالہ ہیں۔