محمد مبشر انوار
سینئر تجزیہ نگار - ریاض
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی طیارہ بردار جہاز کی تبدیلی، آبنائے ہرمز پر اختلاف اور ایران کے جارحانہ طرزِ عمل نے کئی اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ مصنف کے مطابق، ایران نے محدود وسائل کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت ثابت کی، تاہم جنگ کو دشمن کی سرزمین تک لے جانے کا اعلان حاصل شدہ کامیابیوں کو ایک بڑے علاقائی بحران میں بدل سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر نئی ہلچل کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، تاہم اب اس کی بحری طاقت میں ایک واضح کمزوری بھی سامنے آنے لگی ہے۔
امریکہ نے اپنے طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا متبادل بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی اعلان کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں موجود یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ دوسرا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش ایران کی ناکہ بندی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ موجودہ جہاز کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگی ڈیوٹی پر تعینات ہوئے خاصا وقت گزر چکا ہے اور اس کا عملہ تھکن کا شکار ہے۔
لہٰذا اس جہاز کو واپس بلا کر اس کی جگہ متبادل بحری بیڑا تعینات کیا جائے گا۔
اہم نکات⌄
- امریکی بحری بیڑے کی تبدیلی نے خطے میں طویل جنگی دباؤ اور عملی مشکلات کی بحث کو جنم دیا ہے۔
- آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کی تشریح پر امریکہ اور ایران کا اختلاف برقرار ہے۔
- ایران محدود وسائل کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت مؤثر ثابت کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔
- جنگ کو سرحدوں سے باہر لے جانے کا ایرانی عندیہ کشیدگی کو نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔
تاہم خبریں صرف عملے کی تھکن تک محدود نہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاز پر موجود فوجیوں کو جنگی حالات کے باعث چھٹی نہیں مل رہی۔ ممکنہ طور پر یہ کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں، کیونکہ کسی بھی ملک کی فوج ایسی صورتِ حال سے واقف ہوتی ہے اور اسے اسی مقصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
مگر معاملہ اس سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، جہاز پر نہ صرف خوراک بلکہ ادویات کی بھی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ خوراک کے بعض ڈبوں میں کیڑے پائے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ ایک نہایت تشویش ناک صورتِ حال ہے، جس کے باعث امریکی فوجیوں کا مورال انتہائی حد تک گر چکا ہے۔
متعدد فوجیوں کے سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی خبریں بھی منظرِ عام پر آئی ہیں۔
یہ صورتِ حال اس لیے نہایت سنجیدہ اور پیچیدہ بن جاتی ہے کہ ایسی فوج، جو اس قدر ذہنی دباؤ اور خلفشار کا شکار ہو، میدانِ جنگ میں
دشمن کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟
ایسی فوج کے ساتھ جنگ لڑنا کسی طور دانش مندی نہیں کہلا سکتا۔
فوج کی اس ذہنی کیفیت کے ساتھ میدانِ جنگ میں اترنے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی شکست کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں بہترین لائحۂ عمل یہی ہو سکتا ہے کہ فوری طور پر تازہ دم فوج میدان میں اتاری جائے، جس کا جذبہ اور لڑنے کا حوصلہ برقرار ہو۔
البتہ موجودہ دور میں فوری طور پر ایسی متبادل فوج کا حصول بھی بذاتِ خود ایک مسئلہ ہے۔ آج جنگی حالات کی تازہ ترین خبریں حاصل کرنا انتہائی آسان ہے، لہٰذا یہ تصور ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ متبادل فوج حالاتِ جنگ سے ناواقف ہوگی۔
اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا متبادل امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور اس پر تعینات فوجیوں کا مورال اتنا بلند ہوگا کہ وہ ایرانی افواج کا مقابلہ کر سکیں؟
ایک منٹ میں کہانی⌄
امریکہ اور ایران کے درمیان بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز اور مذاکراتی شرائط پر کشمکش جاری ہے۔ ایران نے دفاعی میدان میں اپنی مزاحمت کو کامیابی قرار دیتے ہوئے اب جنگ دشمن کی سرزمین تک لے جانے کی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کیا یہ اعلان ایران کی دفاعی کامیابی کو مضبوط کرے گا یا پورے خطے کو وسیع جنگ کی جانب دھکیل دے گا؟
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکی بحری بیڑے کا کردار صرف ناکہ بندی تک محدود رہے گا؟ کیا آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ ایرانی پانیوں میں داخل نہیں ہوگا؟
اور اگر وہ ایرانی حدود میں داخل نہیں ہوتا تو اپنے مقاصد کیسے حاصل کرے گا؟
یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ ناکہ بندی سے صرف ایران ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی پریشان ہیں اور کاروبارِ زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ مخدوش ہوتا جا رہا ہے۔
لیکن کیا امریکہ محض ناکہ بندی کے ذریعے ایران سے ہتھیار ڈلوا لے گا؟
اگر ایران ہتھیار نہیں ڈالتا تو امریکہ مزید کیا کر سکتا ہے یا کیا کرے گا؟
امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے، مگر کیا یہ پابندیاں ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکیں گی؟
جنگ میں بالعموم دو ہی نتائج سامنے آتے ہیں: فتح یا شکست۔
مگر امریکہ اور ایران کے درمیان اس وقت چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔
امریکہ ایک طرف امن معاہدے پر زور دے رہا ہے، لیکن دوسری جانب مختلف حیلوں بہانوں سے ایران کی عسکری طاقت، بالخصوص آبنائے ہرمز میں اس کی صلاحیتوں، کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔
اسی وجہ سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت مکمل طور پر بروئے کار نہیں آ رہی۔
اس یادداشت کی پانچویں شق کے مطابق، ایران کو آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت یقینی بنانا ہے، مگر فریقین اس شق کی تشریح اپنے اپنے انداز میں کر رہے ہیں۔
بنیادی سوالات⌄
- کیا امریکی بحری بیڑے کا کردار صرف ناکہ بندی تک محدود رہے گا؟
- ایرانی پانیوں میں داخل ہوئے بغیر امریکہ آبنائے ہرمز کیسے کھلوا سکتا ہے؟
- کیا مزید اقتصادی پابندیاں تہران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا سکیں گی؟
- کیا ایران کی نئی جارحانہ حکمتِ عملی مذاکرات کے امکانات کم کر دے گی؟
امریکہ کا خیال ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول کر تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنائے، جبکہ ایران کے نزدیک اس شق کا مطلب یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایرانی اجازت اور اس کے فراہم کردہ راستے کے مطابق سفر کریں۔
یوں آبنائے ہرمز، جو صدیوں سے ایک قدرتی گزرگاہ رہی ہے اور جس پر کسی ایک ریاست کا مکمل کنٹرول نہیں تھا، اب ایران کے باقاعدہ انتظام و انصرام میں آتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایران کو اس اقدام کا جواز خود امریکہ کی مسلط کردہ جنگ نے فراہم کیا ہے۔
امریکہ ایران کے خلاف جن چودہ مقاصد کے ساتھ میدان میں اترا تھا، ان میں سے ایک بھی مقصد ابھی تک مکمل طور پر حاصل نہیں کر پایا، حالانکہ امریکہ کا دفاعی بجٹ ایران کے دفاعی بجٹ سے تقریباً سو گنا زیادہ ہے۔ ایران نے محدود وسائل کے باوجود امریکہ کو اپنی زمینی اور سمندری حدود میں داخل نہیں ہونے دیا۔
جہاں تک فضائی حدود کا تعلق ہے، امریکہ نے ایران کی نسبتاً کمزور فضائیہ کو زیر کرنے کی متعدد کوششیں کیں، مگر اسے یہاں بھی شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایران نے اپنی فضائیہ کی کمزوری کو مضبوط دفاعی نظام کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی اور امریکہ کے جدید، بیش قیمت اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل کئی طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا۔
یہ کیوں اہم ہے؟⌄
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں فوجی تصادم یا آمدورفت میں طویل رکاوٹ تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور خلیجی ممالک کی سلامتی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی لیے دفاعی کشیدگی کا جارحانہ مرحلے میں داخل ہونا صرف ایران اور امریکہ کا معاملہ نہیں رہے گا۔
امریکی MQ-9 ڈرون کی قیمت تقریباً 30 سے 50 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں اس نے اس نوعیت کے قریباً چالیس ڈرونز مار گرائے۔
اس کے علاوہ کئی بیش قیمت طیاروں کو فضا اور ہینگرز میں تباہ کرکے ایران نے نہ صرف امریکہ کو معاشی نقصان پہنچایا بلکہ اس کی عسکری ساکھ کو بھی شدید متاثر کیا۔
معاشی اور دیگر پابندیوں کے باوجود ایران نہ صرف میدانِ جنگ میں کھڑا ہے بلکہ مذاکرات کی میز پر بھی جھکنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔
اب ایرانی رویے اور لب و لہجے میں امریکی پابندیوں کا خوف کم اور انہیں ہوا میں اڑانے کا تاثر زیادہ نمایاں ہے۔
مذاکرات اور مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ایران مسلسل اس انداز میں شرائط پیش کر رہا ہے جیسے کوئی فاتح اپنے مفتوح کو شرائط سنا رہا ہو۔
امریکہ بھی بظاہر اسی انداز میں شرائط پیش کرتا ہے، مگر زمینی حقائق امریکی مؤقف کی کمزوری ظاہر کر دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کسی معاہدے کے لیے بے چین ہے، کیونکہ اسے اب تک باعزت راستہ یا مناسب فیس سیونگ نہیں مل سکی۔
ممکنہ اگلا منظرنامہ⌄
- محدود کشیدگی: ناکہ بندی اور دباؤ برقرار رہے، مگر براہِ راست جنگ سے گریز کیا جائے۔
- نیا معاہدہ: ثالثی کے ذریعے آبنائے ہرمز اور سلامتی کی ضمانتوں پر قابلِ عمل سمجھوتا سامنے آئے۔
- علاقائی پھیلاؤ: سرحدوں سے باہر ایرانی کارروائی کسی وسیع امریکی یا اتحادی ردِعمل کو جنم دے۔
اب ایران نے دو قدم مزید آگے بڑھتے ہوئے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ اسے جنگ اپنی سرحدوں سے باہر اور دشمن کے علاقوں میں لڑنے کی تیاری کرنی چاہیے۔
بظاہر یہ اعلان ایک طاقت ور دفاعی عزم کی علامت دکھائی دیتا ہے، لیکن بین السطور اس کا مفہوم نہایت خطرناک ہے۔
دنیا پہلے ہی اس جنگ سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ایران اپنی سرحدوں سے نکل کر دشمن کے علاقوں میں کارروائی کرنے، یعنی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی بات کر رہا ہے۔
ایران نے خود پر مسلط کردہ جنگ میں محدود وسائل کے باوجود دشمن کے غلط اندازوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنی سالمیت کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔
تاہم اس جارحانہ حکمتِ عملی کو مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس سے معاملات سنبھلنے کے بجائے مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں۔
زیادہ مناسب یہی ہوگا کہ ایران حاصل ہونے والی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے معاملات کو سمیٹنے کی کوشش کرے اور مستقبل کے لیے اپنی تازہ چھ شرائط کے مطابق سلامتی اور خودمختاری کو یقینی بنائے۔ جارحانہ حکمتِ عملی کا اعلان کرکے شکست خوردہ فریق کو مزید اشتعال دلانا خطے اور دنیا، دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔