براہ راست نشریات

امریکا، اسرائیل اختلافات: حقیقت کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ اسرائیل اختلاف
Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار - ریاض

محمد مبشر انوار اپنے کالم میں مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سکوت کے پسِ پردہ بڑھتی کشیدگی، ایران کے مقابلے میں امریکی حکمتِ عملی، آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے دعووں اور جنگی نقصانات کے ہرجانے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان کا تجزیہ کرتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکا خطے میں اپنی عسکری برتری اور ساکھ بچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل غزہ، لبنان اور شام میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
کالم کا بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان دکھائی دینے والے اختلافات حقیقی ہیں یا کسی نئے علاقائی منصوبے کا حصہ؟

مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اگرچہ فی الوقت ٹھنڈی دکھائی دے رہی ہے، لیکن یہ سکوت کس طوفان کا پیش خیمہ ہے؟ 

اس کے آثار واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ 

ایک طرف امریکا زبردست دھلائی کے بعد بھی متضاد بیانات جاری کر رہا ہے، اور دوسری طرف وہ پروردہ ریاست، جس کی خاطر امریکا نے اتنی بڑی جنگ لڑی، شکست کا داغ اپنے ماتھے پر سجایا، اپنے عسکری سازوسامان کا نقصان اٹھایا اور اپنی ساکھ برباد کی، ابھی بھی امریکا کو آنکھیں دکھا رہی ہے اور امریکی معاہدوں سے روگردانی پر آمادہ ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL COLUMNامریکا–اسرائیل اختلافات — اہم نکات
  • کالم نگار کے نزدیک مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ سکوت کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
  • !آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعوے اور وہاں جاری بحری ناکہ بندی کو باہمی تضاد قرار دیا گیا ہے۔
  • جنگی نقصانات کے ہرجانے کی امریکی تجویز کو مصنف نے بھاری نقصان کا بالواسطہ اعتراف سمجھا ہے۔
  • عراق سے امریکی فوجی انخلا کو خطے میں ممکنہ وسیع تر پسپائی کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
  • !غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی حکمتِ عملی کو علاقائی جنگ جاری رکھنے کی کوشش سے تعبیر کیا گیا ہے۔
  • ؟مرکزی سوال یہ ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے اختلافات حقیقی دراڑ ہیں یا مشترکہ منصوبہ؟
overseaspost.net

امریکی صدر کے مطابق، اتنی بری طرح مار کھانے اور آبنائے ہرمز سے کوسوں دور اپنے بحری جہاز کھڑے رکھنے کے باوجود، یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور اس آبی گزرگاہ پر اسے سو فیصد کنٹرول حاصل ہے۔ 

نجانے یہ کیسا سو فیصد کنٹرول ہے کہ امریکی بحری بیڑے اب بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر مامور ہیں۔ 

مزید پڑھیں

کیا اپنے کنٹرول میں موجود کسی چیز کی بھی ناکہ بندی کی جاتی ہے؟ 

یہ کیسا کنٹرول ہے کہ آج بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے وہ جہاز، جو ایران کی اجازت کے بغیر اور اس کے متعین کردہ راستے سے ہٹ کر امریکی یقین دہانی پر متبادل راستے سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، انتباہ کے باوجود آگے بڑھنے پر ایران کا نشانہ بن جاتے ہیں؟

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بیان ٹرمپ کی جانب سے سامنے آیا 

ہے کہ امریکا اس جنگ میں ہونے والے اپنے نقصانات کے ہرجانے کا مطالبہ کرنے پر غور کر رہا ہے اور آئندہ مذاکرات میں ایران سے اس ہرجانے کا سنجیدگی کے ساتھ مطالبہ کیا جائے گا۔

 کیا عجب منطق ہے! 

نجانے کس ذہنی کیفیت میں صدر ٹرمپ نے یہ تجویز پیش کی ہے۔ 

امریکا 12 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے اس خطے میں وارد ہوا، اپنے ایک حلیف کی خواہش پوری کرنے کے لیے ایران پر جنگ مسلط کی، لیکن بدقسمتی سے ایران کی عسکری اور دفاعی قوت کا درست اندازہ نہ لگانے کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

iOVERSEAS POST | COLUMN BOXاختلافات یا منصوبہ؟ — فیکٹ باکس
تحریر کی نوعیت
سیاسی و تزویراتی تجزیاتی کالم
مصنف
محمد مبشر انوار
مرکزی خطہ
مشرقِ وسطیٰ
اہم فریق
امریکا، اسرائیل اور ایران
اہم جغرافیہ
آبنائے ہرمز اور غزہ
بنیادی موضوع
جنگ، معاہدے اور علاقائی طاقت
مرکزی سوال
اختلافات حقیقی ہیں یا منصوبہ؟
ادارتی وضاحت
یہ کالم مصنف کی رائے اور سیاسی تجزیے پر مبنی ہے
overseaspost.net

اس تجویز کے بعد، درحقیقت، صدر ٹرمپ نے اس امر کا اعتراف کر لیا ہے جس سے وہ پہلے کتراتے رہے اور خود کو یہ طفل تسلیاں دیتے رہے کہ انہیں جنگ میں کوئی نقصان نہیں ہوا، یا صرف برائے نام اور معمولی نقصان ہوا ہے جس کی امریکا کو کوئی پروا نہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ امریکا کو اس جنگ میں بہت بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس کا اعتراف اب صدر ٹرمپ نے دوسرے انداز میں کر لیا ہے۔ 

اس اعتراف کے بعد اس امر میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کہ ایران نے امریکا کو نہ صرف عسکری سازوسامان میں شدید نقصان پہنچایا، بلکہ امریکی برتری اور ساکھ کو بھی تقریباً لپیٹ دیا ہے۔ 

اس کے ساتھ خطے میں امریکی موجودگی اور قدم بھی اکھڑتے دکھائی دے رہے ہیں، کیونکہ امریکا اس وقت عراق میں اپنا فوجی اڈہ خالی کر رہا ہے۔

بعد ازاں قوی امکان ہے کہ عرب ریاستوں میں قائم امریکی اڈے بھی، جلد یا بدیر، خالی کر دیے جائیں۔ 

امریکا دہائیوں تک ان ممالک میں ان کی حفاظت کے نام پر موجود رہا، لیکن جب وہ اپنے ہی فوجی اڈوں کے تحفظ میں ناکام رہا تو اس موجودگی کا جواز بھی کمزور پڑ گیا۔ 

زیادہ امکان یہی ہے کہ عراق سے شروع ہونے والی یہ پسپائی، بغیر کسی بڑی تاخیر کے، دیگر ممالک تک بھی پہنچے گی۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سوال کیوں اہم ہے؟

امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں حقیقی دراڑ یا طے شدہ اختلاف پورے مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سمت بدل سکتا ہے:

امریکی ساکھایران کے مقابلے میں امریکی عسکری اور سفارتی کارکردگی خطے میں واشنگٹن کی طاقت کے تصور پر اثر ڈالتی ہے۔
اسرائیلی حکمتِ عملیغزہ، لبنان اور شام سے متعلق فیصلے یہ ظاہر کریں گے کہ اسرائیل امریکی دباؤ کو کس حد تک قبول کرتا ہے۔
علاقائی توازنایران کی مزاحمت، عرب ممالک کی سلامتی اور امریکی اڈوں کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سوالات ہیں۔
مرکزی نکتہ: اگر اختلافات حقیقی ہیں تو اتحاد دباؤ میں ہے؛ اگر منصوبہ ہیں تو خطہ کسی نئی سیاسی یا عسکری چال کا سامنا کر سکتا ہے۔
overseaspost.net

ایسی صورتِ حال میں امریکا ایران سے ہرجانے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟ 

اصولی طور پر ہرجانے کا حق تو ایران کے پاس ہے، جس پر جنگ مسلط کی گئی۔ 

ایران نے اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل کی۔ 

اسے ابھی فتح نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ صدر ٹرمپ اب بھی ایران کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔ 

وہ کارروائی کرتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا، لیکن یہ برتری بھی بہرحال کسی فتح سے کم نہیں۔ 

لہٰذا نقصانات کے ہرجانے کا دعویٰ کرنے کا حق اس وقت ایران کو حاصل ہے۔ 

اس کے ساتھ ایران پر عائد غیر ضروری اور غیر قانونی پابندیاں برقرار رکھنے کا بھی کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

صدر ٹرمپ کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ وہ ہر صورت اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں بھی وہ درپردہ اپنے سابقہ مؤقف سے دستبردار ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایران سے کسی نہ کسی صورت معاہدہ ہو جائے تاکہ وہ اس جنگ سے نکل سکیں۔ ویسے ان کی فوجی ٹیم بھی انہیں یہی مشورہ دے رہی ہے۔

دوسری طرف اسلام آباد ایم او یو کے حوالے سے فریقین اپنی اپنی تشریح پیش کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے امریکا اس ایم او یو کی شرائط کے مطابق اسرائیل کو نکیل ڈالنے میں بری طرح ناکام رہا۔ 

اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مسلسل اقدامات کرتا رہا، اگرچہ اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور لبنان ہی نہیں بلکہ شام میں بھی اس کی کارروائیاں حسبِ منشا نتائج نہ دے سکیں۔

✓?OVERSEAS POST | OPINION CHECKمصنف کا مؤقف اور کھلے سوالات

کالم میں پیش کردہ مؤقف

  • امریکا کو ایران کے مقابلے میں بھاری عسکری اور ساکھ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
  • آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ عملی صورتِ حال سے متصادم ہے۔
  • اسرائیل جنگ بندی اور معاہدوں کے باوجود توسیع پسندانہ راستے پر قائم ہے۔
  • امریکی انخلا خطے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

ابھی کھلے سوالات

  • کیا امریکا واقعی اپنے مزید فوجی اڈے خالی کرے گا؟
  • کیا واشنگٹن اسرائیل کو غزہ میں مزید پیش قدمی سے روک پائے گا؟
  • کیا امریکا اور اسرائیل کے اختلافات مستقل اور حقیقی ہیں؟
  • یا دونوں اتحادی کسی مشترکہ اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں؟

ادارتی احتیاط: اس کارڈ میں مصنف کی آرا کو الگ اور غیر حل شدہ سوالات کو الگ دکھایا گیا ہے؛ اسے آزادانہ حقائق کی تصدیق نہ سمجھا جائے۔

overseaspost.net

اس دوران اسرائیلی ایما اور خواہش پر امریکا نے ایک اور کوشش ضرور کی کہ ایران کو دبایا جا سکے، یا کم از کم کوئی ایسی واضح کامیابی حاصل ہو جس کی بنیاد پر ایران کو جھکایا جا سکے۔ 

مگر یہ دوسری کوشش امریکا کو مزید مہنگی پڑی اور ایران نے اس کی ٹھیک ٹھاک خاطر تواضع کی۔ 

البتہ یہاں ایران کی ستائش ضروری ہے کہ اس کی جانب سے جارحیت یا کسی جنگی جرم کا ارتکاب نہیں ہوا، جیسا کہ امریکا نے کیا۔ اس وقت بھی ایران صرف جوابی کارروائیاں کر رہا ہے، یا پھر اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزی کرنے والے ان جہازوں کے خلاف اکا دکا کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے جو امریکی شہ پر ایرانی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل ہر صورت خطے میں نہ صرف اپنی توسیع چاہتا ہے، بلکہ ایسی دھاک بٹھانے کا خواہش مند ہے کہ کوئی بھی ملک اس کے سامنے سر اٹھانے کی جرأت نہ کرے۔ 

غزہ میں اس کی درندگی اور نسل کشی جنگ بندی کے باوجود جاری رہی، تو دوسری طرف ایم او یو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان میں بھی اس کی جارحیت برقرار رہی۔ 

اس سب کا پسِ پردہ مقصد صرف ایک تھا: کسی طرح خطے میں جنگ ختم نہ ہو اور اسرائیل کی چیرہ دستیاں جاری رہیں۔

OVERSEAS POST | WHAT NEXT?ممکنہ اگلا منظرنامہ
01

محدود سمجھوتا

امریکا ایران سے ایسا معاہدہ کر سکتا ہے جو واشنگٹن کو جنگ سے نکلنے اور اپنی ساکھ بچانے کا راستہ دے۔

02

اسرائیل پر دباؤ

واشنگٹن غزہ میں مزید پیش قدمی روکنے کے لیے اسرائیل پر سیاسی یا عسکری دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

03

اختلاف بطور منصوبہ

ظاہری کشیدگی کسی مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ نکل سکتی ہے جس کا اگلا ہدف ایران یا علاقائی طاقت کا توازن ہو۔

یہ حتمی پیش گوئیاں نہیں بلکہ کالم میں اٹھائے گئے سوالات کی بنیاد پر ممکنہ سیاسی راستے ہیں۔

overseaspost.net

غزہ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے غزہ امن بورڈ کے تحت یہ طے پایا تھا کہ حماس نہ صرف باقاعدہ طور پر غیر مسلح ہو گی بلکہ انتخابات جیتنے کے باوجود حکومت سے الگ ہو جائے گی، جس کے بعد اسرائیل اپنی فوجیں غزہ سے نکال لے گا۔ 

اسرائیل نے پہلے اسلام آباد ایم او یو کی خلاف ورزیاں کیں، پھر اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ 

اس وقت ساری دنیا جانتی ہے کہ اتنی جرأت کا مظاہرہ ایپسٹین فائلز کی بنیاد پر کی گئی بلیک میلنگ اور امریکا میں موجود طاقتور ترین یہودی لابی کے باعث ممکن ہوا ہے؛ ایک ایسی لابی جو امریکا کے اندرونی حالات کو تہ و بالا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ابتدا میں حماس نے غزہ امن بورڈ کی چند شرائط سے انکار کیا تھا، جو اصولی طور پر درست تھا، مگر بعد ازاں ’وسیع تر مفاد‘ میں ان ناپسندیدہ اور نامعقول شرائط کو بھی تسلیم کر لیا گیا۔ حماس نے غیر مسلح ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت چھوڑنے پر بھی اتفاق کر لیا۔ 

غالباً اسرائیل کو یہ توقع تھی کہ حماس کے لیے یہ شرائط ناقابلِ قبول ہوں گی اور یوں اسرائیل کے پاس غزہ میں من مانی جاری رکھنے کا جواز باقی رہے گا۔ 

مگر جب حماس نے یہ شرائط قبول کر لیں تو اسرائیل نے غزہ امن معاہدہ تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ 

اب وہ غزہ پر مکمل قبضے کے لیے ہر اقدام اٹھانے کو تیار ہے، بشرطیکہ ٹرمپ اسے روک لیں۔

اس حوالے سے اس وقت سب سے گرم خبر یہی ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور اسرائیل کسی بھی صورت امریکا کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ اگر اسرائیل امریکا کی بات نہیں مانتا اور اپنے زورِ بازو پر غزہ کو ہڑپ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا وہ کامیاب ہو سکے گا؟ 

حالیہ جنگ سے امریکا جس طرح نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ ایران کی عسکری برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ 

اگر امریکا ایران کے سامنے نہیں ٹھہر سکا تو کیا اسرائیل ٹھہر سکے گا؟ 

اور کیا امریکا واقعی ایسی صورت میں الگ رہ پائے گا؟

1′OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

مشرقِ وسطیٰ میں بظاہر خاموشی ہے، مگر کالم نگار کے نزدیک امریکا کے متضاد بیانات، آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اور ایران کی عسکری مزاحمت کسی بڑے طوفان کے آثار ہیں۔

دوسری طرف غزہ امن معاہدے، لبنان اور شام سے متعلق اسرائیلی رویہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ تل ابیب واقعی واشنگٹن کی بات ماننے سے انکار کر رہا ہے یا دونوں اتحادی طے شدہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

کالم کا نتیجہ قطعی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک بنیادی سوال ہے: امریکا اور اسرائیل کے درمیان دکھائی دینے والی دراڑ حقیقی اختلاف ہے یا کسی بڑے منصوبے کا حصہ؟

overseaspost.net

پنجۂ یہود میں کوئی پھنس جائے تو اس سے نکلنا اتنا آسان نہیں، بالخصوص جب امریکا ہر اہم موقع پر اسرائیل کی پشت پناہی کے لیے موجود رہا ہو۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی جنگ میں اترنے سے پہلے صرف امریکا ہی نہیں، ہر قوم بدترین حالات میں نکلنے کے راستے پہلے سے سوچ کر رکھتی ہے۔ 

کیا یہ ممکن نہیں کہ اسرائیل اور امریکا کا یہ اختلاف بھی کوئی سوچا سمجھا منصوبہ ہو؟ 

یا امریکا اپنی اور خطے کی جان چھڑانے کے لیے اسرائیل کو تنہا ایران اور دیگر ممالک کے سامنے پیش کر رہا ہو؟

بہرحال، صورتِ حال جو بھی ہو، میری ذاتی رائے میں یہ اختلافات کسی بڑے منصوبے کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔