خلیج کی توانائی کو اب ایک نہیں بلکہ دو حساس بحری گزرگاہوں کا سامنا ہے۔
مشرق میں آبنائے ہرمز اور مغرب میں باب المندب پر بیک وقت خطرات بڑھنے کی صورت میں تیل اور LNG کی عالمی ترسیل، انشورنس اور شپنگ اخراجات شدید دباؤ میں آسکتے ہیں۔
خلیج میں توانائی کی سلامتی کا نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
کئی دہائیوں تک سب سے بڑی تشویش آبنائے ہرمز رہی، جہاں سے خلیج کے تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
لیکن اب دوسرا حساس مقام پوری شدت سے سامنے آگیا ہے: باب المندب۔
یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں اور باب المندب کے اطراف بڑھتی کشیدگی نے بحیرہ احمر کے اس راستے کو بھی خطرے کی زد میں ڈال دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق باب المندب دنیا کی حساس بحری گزرگاہوں میں شامل ہے اور یمنی ساحل پر حوثیوں کی پوزیشن جہاز رانی کی سلامتی کے لیے اہم عنصر بن گئی ہے۔
🌍 دو آبی گزرگاہیں اتنی اہم کیوں؟
آبنائے ہرمز خلیج کو بحر عمان اور عالمی سمندری راستوں سے ملاتی ہے اور خلیجی تیل و LNG کی ترسیل کے لیے بنیادی گزرگاہ ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ ینبع سے ایشیا کی طرف جانے والی شپنگ کے لیے یہ راستہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
دونوں مقامات پر بیک وقت کشیدگی خلیجی توانائی کے مشرقی اور مغربی دونوں راستوں کو دباؤ میں لاسکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیجی توانائی کو اب صرف مشرق میں ہرمز نہیں بلکہ مغرب میں باب المندب کے خطرے کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
مزید پڑھیں
متبادل کے باوجود مگر مسئلہ ختم نہیں
سعودی عرب کو دوسرے کئی خلیجی ممالک کے مقابلے میں اہم جغرافیائی فائدہ حاصل ہے۔
مملکت اپنی مشرقی تیل تنصیبات سے خام تیل East-West پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک پہنچا سکتی ہے۔
یہی راستہ ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں اہم متبادل ہے۔
لیکن حالیہ بحران نے اس حکمت عملی کی حدود بھی واضح کردی ہیں۔
بحیرہ احمر میں خطرات بڑھنے کے ساتھ ٹینکروں کے لیے جنگی خطرے کی انشورنس مہنگی ہوئی ہے۔
یعنی ہرمز سے بچ کر تیل ینبع تک پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہوجائے تو صرف پائپ لائن مسئلے کا مکمل حل نہیں رہتی۔
🛢️ سعودی عرب کا متبادل راستہ
سعودی عرب اپنی مشرقی تیل تنصیبات سے خام تیل East-West پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر پر واقع ینبع تک پہنچا سکتا ہے۔
یہ نظام ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں مملکت کو اہم متبادل دیتا ہے۔
لیکن ینبع تک تیل پہنچ جانا آخری مرحلہ نہیں؛ اگر بحیرہ احمر اور باب المندب بھی غیر محفوظ ہوں تو سمندری ترسیل، انشورنس اور فریٹ لاگت پھر بھی بڑھ سکتی ہے۔
ینبع سے نکلنے والے ٹینکروں کو یورپ کی جانب جانے کے لیے بحیرہ احمر سے شمال کی طرف نہر سویز کا راستہ ملتا ہے، جبکہ ایشیا کی سمت جانے کے لیے باب المندب عبور کرنا پڑتا ہے۔
یوں اصل سوال یہ ہے کہ تیل کو ساحل تک پہنچانے کے بعد عالمی خریدار تک محفوظ طریقے سے کیسے پہنچایا جائے؟
قطر کی سب سے بڑی کمزوری ہرمز
قطر کی صورتحال مختلف ہے۔
دنیا کے بڑے LNG برآمد کنندگان میں شامل قطر کا بیشتر مائع قدرتی گیس کا برآمدی نظام خلیج کے اندر واقع ہے اور عالمی منڈی تک پہنچنے کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم ہے۔
ستمبر میں صورتحال میں کچھ بہتری آئی۔
🔥 قطر کی سب سے بڑی کمزوری
قطر دنیا کے بڑے LNG برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اس کی بیشتر LNG عالمی منڈی تک پہنچنے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔
ستمبر میں قطر سے وابستہ LNG ٹینکروں کی ہرمز سے آمدورفت دوبارہ بڑھی اور کھیپیں بھارت، پاکستان اور چین سمیت ایشیائی منڈیوں تک پہنچیں۔
اسی لیے ہرمز میں نئی شدید رکاوٹ قطر کے ساتھ ایشیائی گیس خریداروں کو بھی فوری متاثر کرسکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ہرمز سے LNG کی 19 سے 21 کھیپیں گزریں، جو موجودہ جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ ماہانہ تعداد تھی۔
ان میں بڑی تعداد قطر سے وابستہ جہازوں کی تھی۔
یہ جہاز بھارت، پاکستان اور چین جیسے اہم ایشیائی خریداروں کی طرف بھی گئے۔
اس لیے ہرمز میں دوبارہ شدید رکاوٹ پیدا ہونے کا اثر صرف قطر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایشیائی گیس منڈی بھی فوری دباؤ محسوس کرسکتی ہے۔
امارات کی طاقت فجیرہ
متحدہ عرب امارات کی پوزیشن نسبتاً بہتر ہے۔
ابوظبی سے فجیرہ تک خام تیل کی پائپ لائن امارات کو اپنے تیل کا ایک حصہ ہرمز سے گزرے بغیر بحر عمان تک پہنچانے کی صلاحیت دیتی ہے۔
⚓ امارات کے پاس فجیرہ کا راستہ
متحدہ عرب امارات کو ایک اہم جغرافیائی فائدہ حاصل ہے: فجیرہ آبنائے ہرمز کے باہر بحر عمان کے ساحل پر واقع ہے۔
ابوظبی سے فجیرہ تک پائپ لائن کے ذریعے امارات اپنے خام تیل کا ایک حصہ ہرمز سے گزرے بغیر برآمد کرسکتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں فجیرہ میں فیول آئل سپلائی اور ایشیائی برآمدات دوبارہ بڑھی ہیں، اگرچہ بعض سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح سے اب بھی کم ہیں۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ پائپ لائن تقریباً 18 لاکھ بیرل یومیہ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ امارات ہرمز سے باہر اپنی برآمدی صلاحیت مزید بڑھانے کے منصوبوں پر کام کررہا ہے۔
اسی لیے موجودہ بحران میں فجیرہ کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کویت اور بحرین کے پاس محدود راستے
کویت اور بحرین کے لیے جغرافیہ زیادہ مشکل ہے۔
ان کے اہم تیل برآمدی مراکز خلیج کے اندر ہیں، اس لیے ہرمز میں طویل اور شدید رکاوٹ ان کی برآمدات کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اقتصادی نقصان کے لیے ہرمز یا باب المندب کا مکمل بند ہونا ضروری نہیں۔
⛽ کویت اور بحرین کے پاس کیا آپشن ہیں؟
کویت اور بحرین کے اہم برآمدی مراکز خلیج کے اندر واقع ہیں، اس لیے ہرمز میں طویل یا شدید رکاوٹ ان کے لیے زیادہ مشکل پیدا کرسکتی ہے۔
سعودی عرب اور امارات کے برعکس ان کے پاس اسی پیمانے کے ایسے زمینی متبادل محدود ہیں جو بڑی مقدار میں تیل کو ہرمز سے باہر پہنچا سکیں۔
اسی وجہ سے ایک ہی بحران مختلف خلیجی ریاستوں پر یکساں اثر نہیں ڈالتا۔
اگر میزائل یا ڈرون حملوں کا خطرہ بڑھ جائے، ٹینکروں کو نشانہ بنایا جانے لگے یا جہاز ران کمپنیوں کو عملے اور جہازوں کی سلامتی پر تشویش ہو تو انشورنس پریمیم، فریٹ ریٹس اور سکیورٹی اخراجات خود بخود بڑھ سکتے ہیں۔
یعنی تیل موجود ہوسکتا ہے، بندرگاہ کھلی ہوسکتی ہے، مگر اسے خریدار تک پہنچانے کی قیمت پھر بھی بہت بڑھ سکتی ہے۔
باب المندب سعودی سلامتی کا بڑا مسئلہ کیوں؟
اسی پس منظر میں یمن کی تازہ فوجی صورتحال اہم ہوجاتی ہے۔
رائٹرز نے 2 اکتوبر کو چھ باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کررہا ہے، جس کا ایک اہم مقصد باب المندب کے اطراف ان کی گرفت کم کرنا اور بحیرہ احمر کی جہاز رانی کو محفوظ بنانا بتایا گیا۔ تاہم آپریشن کا حتمی وقت اور دائرہ ابھی طے نہیں۔
⚠️ راستہ بند ہونا ضروری نہیں
توانائی بحران پیدا ہونے کے لیے ہرمز یا باب المندب کا مکمل بند ہونا ضروری نہیں۔
حملوں کا خطرہ، محدود جہاز رانی، ٹینکروں کا راستہ بدلنا اور عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات انشورنس پریمیم اور فریٹ ریٹس بڑھا سکتے ہیں۔
یعنی تیل دستیاب اور بندرگاہ کھلی ہونے کے باوجود اسے خریدار تک پہنچانے کی قیمت بہت بڑھ سکتی ہے۔
اسی روز یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے فوجی ترجمان نے تعز میں حوثی اہداف پر 20 فضائی حملوں کی اطلاع دی۔
اس لیے باب المندب اب صرف یمن کی جنگ کا معاملہ نہیں رہا، یہ سعودی توانائی، بحیرہ احمر کی تجارت اور عالمی سپلائی چین سے براہ راست جڑ گیا ہے۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟
پاکستان اس بحران سے جغرافیائی طور پر دور ہونے کے باوجود معاشی اثرات سے محفوظ نہیں۔
پاکستان درآمدی تیل اور LNG پر انحصار کرتا ہے۔
خلیج سے توانائی کی ترسیل مہنگی ہونے کا اثر درآمدی بل، بجلی کی پیداواری لاگت، پٹرولیم مصنوعات اور بالآخر مہنگائی تک پہنچ سکتا ہے۔
🚢 باب المندب سعودی عرب کے لیے کیوں اہم؟
باب المندب اب صرف یمن کی جنگ کا معاملہ نہیں؛ یہ سعودی عرب کی بحیرہ احمر کی تجارت اور ینبع سے نکلنے والی توانائی برآمدات سے براہ راست جڑ گیا ہے۔
2 اکتوبر کو رائٹرز نے چھ باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری کررہا ہے جس کا مقصد باب المندب اور بحیرہ احمر کی جہاز رانی سے متعلق خطرات کم کرنا بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حتمی وقت اور دائرہ ابھی طے نہیں، اس لیے اسے ممکنہ منصوبے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہئے۔
رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ کی LNG سپلائی میں خلل کے دوران ایشیائی اسپاٹ LNG کی قیمتیں تقریباً 10 ڈالر سے بڑھ کر 30 ڈالر فی MMBtu کے قریب پہنچ گئی تھیں، جس سے پاکستان سمیت کئی ایشیائی خریداروں کی طلب متاثر ہوئی۔
اگر دونوں راستے ایک ساتھ دباؤ میں آگئے؟
یہ سب سے سنگین مگر فی الحال ممکنہ منظرنامہ ہے، کوئی یقینی پیش گوئی نہیں۔
ہرمز میں شدید رکاوٹ اور اسی وقت باب المندب میں جہاز رانی کے خطرات بڑھنے کی صورت میں سعودی عرب کے مغربی متبادل راستے کی افادیت محدود ہوسکتی ہے، قطر کی LNG برآمدات دباؤ میں آسکتی ہیں، کویت اور بحرین کے متبادل محدود رہیں گے، جبکہ امارات کو فجیرہ کی وجہ سے نسبتاً زیادہ گنجائش حاصل ہوگی۔
🇵🇰 پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟
پاکستان درآمدی تیل اور LNG پر انحصار کرتا ہے، اس لیے خلیجی بحری راستوں میں شدید خلل براہ راست درآمدی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
مہنگی LNG اور تیل سے درآمدی بل، بجلی کی پیداواری لاگت، پٹرولیم مصنوعات اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ستمبر میں قطر سے نکلنے والی بعض LNG کھیپیں پاکستان بھی پہنچیں، جس سے ہرمز کی سلامتی کی پاکستانی توانائی مارکیٹ کے لیے اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اسی لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ ہرمز کھلا رہے گا یا نہیں؟
اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:
اگر خلیج کا مشرقی دروازہ ہرمز اور بحیرہ احمر کا جنوبی دروازہ باب المندب ایک ہی وقت میں غیر محفوظ ہوگئے تو دنیا کی توانائی کس راستے سے گزرے گی؟
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
Reuters — 2 October 2026:
باب المندب، حوثیوں اور ممکنہ سعودی کارروائی سے متعلق تازہ رپورٹ۔
اصل رپورٹ کھولیں
Reuters — 28 September 2026:
قطر سے وابستہ LNG ٹینکروں کی ہرمز سے آمدورفت اور پاکستان، بھارت و چین کی جانب کھیپوں کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں
Reuters — 1 October 2026:
فجیرہ میں فیول آئل سپلائی، بنکرنگ سرگرمی اور ایشیائی برآمدات کی بحالی۔
اصل رپورٹ کھولیں
Reuters — 21 April 2026:
ہرمز میں خلل کی صورت میں سعودی عرب، امارات اور دوسرے خلیجی ممالک کے متبادل تیل و گیس راستوں کا جائزہ۔
اصل رپورٹ کھولیں
Reuters — 21 September 2026:
ہرمز میں جہاز رانی، سعودی خام تیل کی برآمدات اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت سے متعلق تازہ اعداد۔
اصل رپورٹ کھولیں