بیٹریوں کی دنیا پر چین کا کتنا قبضہ ہے؟
+
بیٹریوں کی دنیا پر چین کا کتنا قبضہ ہے؟
اینوڈ مٹیریل پر مکمل کنٹرول
بیٹری کے منفی الیکٹروڈ یعنی اینوڈ میں استعمال ہونے والے خام مال اور پروسیسنگ کی 97 فیصد عالمی پیداواری صلاحیت اکیلے بیجنگ کے پاس ہے۔
LFP کیمسٹری کا عالمی گڑھ
گرڈ اور اسٹیشنری اسٹوریج میں استعمال ہونے والی 90 فیصد سے زائد بیٹریاں لیتھیم آئرن فاسفیٹ ہیں، جن کی ٹیکنالوجی اور پیداوار تقریباً مکمل چینی کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔
عالمی بیٹری سیلز مینوفیکچرنگ
دنیا بھر میں گاڑیوں اور پاور اسٹوریج کے لیے تیار ہونے والے 10 میں سے 8 سے زائد لیتھیم سیلز چین کی بڑی گیکا فیکٹریوں میں بن رہے ہیں۔
خام مال سے تیار گرڈ سسٹم تک
معدنیات کی صفائی اور الیکٹرولائٹ کی تیاری سے لے کر مکمل کنٹینرائزڈ انرجی اسٹوریج تک پوری سپلائی چین چین کے مربوط صنعتی نیٹ ورک پر قائم ہے۔
دنیا تیزی سے سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس سبز انقلاب کی ایک ایسی کمزوری بھی ہے، جس پر کم بات ہوتی ہے، یعنی سورج ڈوبنے کے بعد بجلی کہاں سے آئے گی؟
مزید پڑھیں
اس کا جواب ہے، بڑی بیٹریاں۔ اور ان بیٹریوں کی عالمی سپلائی چین پر چین کا ایسا غلبہ ہے کہ توانائی کا مستقبل بھی بڑی حد تک بیجنگ کی فیکٹریوں سے جڑتا دکھائی دیتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق بیٹری اسٹوریج اس وقت دنیا کی سب سے تیزی کے ساتھ بڑھنے والی بجلی ٹیکنالوجی ہے۔
نصب کی، جو ایک سال پہلے سے 40 فیصد زیادہ تھی۔ عالمی نصب شدہ صلاحیت اب 2021 کے مقابلے میں 11 گنا ہو چکی ہے۔
عالمی سطح پر سورج اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کو محفوظ رکھنے والی نوے فیصد سے زائد بیٹری ٹیکنالوجی پر چین کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔
بیٹری کے منفی الیکٹروڈ اور خام مال کی پروسیسنگ کی تقریباً تمام تر پیداواری صلاحیت چین میں مرکوز ہے۔
سستی، محفوظ اور پائیدار لیتھیم آئرن فاسفیٹ ٹیکنالوجی اور اسی فیصد سے زائد سیلز کی تیاری پر چین قابض ہے۔
صرف ایک سال میں دنیا بھر کے بیٹری اسٹوریج نیٹ ورک میں چالیس فیصد کا غیر معمولی اور تاریخی اضافہ دیکھا گیا۔
ملک میں شمسی توانائی کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ ہی چینی لیتھیم بیٹریوں کی درآمدات میں نمایاں تیزی آ چکی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اصل کھیل بجلی بنانا نہیں، محفوظ کرنا ہے
سولر پینل دوپہر میں خوب بجلی بناتے ہیں، لیکن شام ہوتے ہی پیداوار تیزی سے گر جاتی ہے۔ اسی طرح ہوا سے بجلی بھی موسم کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے، جہاں بیٹریاں پورا کھیل بدل دیتی ہیں۔
یعنی دن میں اضافی بجلی بیٹری میں محفوظ کی جاتی ہے اور شام، رات یا زیادہ طلب کے وقت گرڈ میں واپس دی جاتی ہے۔ بڑی بیٹریاں چند سیکنڈ میں ردعمل دے کر بجلی کے نظام کو مستحکم بھی رکھ سکتی ہیں۔
پاکستان کے لیے سستی بیٹریاں: موقع یا نیا انحصار؟
تجزیہ دیکھیں
پاکستان کے لیے سستی بیٹریاں: موقع یا نیا انحصار؟
سستی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے نجات
سولر کے بعد سستی چینی بیٹریوں نے گھریلو، زرعی اور تجارتی صارفین کو دن کی اضافی شمسی بجلی رات کے وقت استعمال کرنے کی خود مختاری دی ہے، جس سے مہنگے قومی گرڈ پر انحصار تیزی سے گھٹ رہا ہے۔
پرانی محتاجی کا نیا صنعتی روپ
اگر تیل و گیس کی درآمدی تنگی کم کرتے ہوئے پینلز، انورٹرز اور بیٹری اسٹوریج کے لیے صرف ایک ہی ملک پر تکیہ کر لیا جائے تو کسی جغرافیائی یا تجارتی رکاوٹ کی صورت میں ملک کا پورا کلین ٹیک انفراسٹرکچر غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔
IEA کے مطابق یہ بیٹریاں عموماً ایک سے آٹھ گھنٹے تک بجلی فراہم کرنے کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ دنیا میں قابل تجدید توانائی کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
On June 22, 2026, CATL unveiled the TENER Sodium Energy Storage System, the first field-validated sodium solution, offering greater flexibility, operational stability, and availability.
— CATL (@catl_official) June 22, 2026
• Greater flexibility. Over 30 MWh rated capacity, fully modular with each single module… pic.twitter.com/YA2xbiJsDN
چین کی صنعت، جس پر باقی دنیا دیر سے جاگی
چین کی طاقت صرف تیار بیٹری بیچنے تک محدود نہیں، بلکہ اس نے خام مال کی پروسیسنگ، بیٹری کے اندر استعمال ہونے والے مواد، سیلز اور مکمل اسٹوریج سسٹم تک پوری سپلائی چین میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
آج اسٹیشنری اسٹوریج میں استعمال ہونے والی 90 فیصد سے زیادہ بیٹریاں لیتھیم آئرن فاسفیٹ (LFP) ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ یہ بیٹریاں نسبتاً سستی، طویل عمر والی اور بار بار چارج اور ڈسچارج کے لیے موزوں ہیں۔
⚡
سولر کے بعد اگلا انقلاب بیٹریوں کا کیوں ہے؟
▼
سولر کے بعد اگلا انقلاب بیٹریوں کا کیوں ہے؟
پیداوار اور طلب کے نازک خلا کو پر کرنا
سولر پینل دوپہر میں زبردست بجلی پیدا کرتے ہیں مگر سورج غروب ہوتے ہی پیداوار صفر پر آ جاتی ہے، ٹھیک اسی وقت جب گھریلو طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ بیٹریاں اس دوپہر کی فالتو بجلی کو محفوظ کر کے رات کے اندھیرے میں گرڈ کو فراہم کرتی ہیں۔
سیکنڈوں میں گرڈ کا تحفظ اور فریکوئنسی کنٹرول
بڑی بیٹری تنصیبات چند ملی سیکنڈز میں اضافی وولٹیج سنبھالنے اور سپلائی کی کمی پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے گرڈ ٹرپ ہونے اور بلیک آؤٹ کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ 1 سے 8 گھنٹے تک مستقل معیاری کرنٹ پہنچاتی ہیں۔
دنیا کی سب سے تیز رفتار پاور ٹیکنالوجی
صرف 2025ء کے دوران دنیا نے 108 گیگاواٹ نئی اسٹوریج صلاحیت نصب کی جو 2021 کے مقابلے میں 11 گنا اضافہ ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق آئندہ کلین انرجی مارکیٹ میں اصل بادشاہ وہ نہیں جو صرف بجلی بنائے، بلکہ وہ ہوگا جو اسے محفوظ رکھ سکے۔
IEA کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی عالمی مینوفیکچرنگ اور مہارت تقریباً مکمل طور پر چین میں مرتکز ہے۔
بیٹری کے منفی الیکٹروڈ، یعنی اینوڈ کے مواد کی عالمی پیداواری صلاحیت میں چین کا حصہ تقریباً 97 فیصد ہے۔ 2025 میں چین دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ بیٹری سیلز بھی تیار کر رہا تھا۔
اس طرح یورپ یا امریکا میں صرف نئی بیٹری فیکٹری لگا دینا بھی مسئلے کا مکمل حل نہیں، کیونکہ فیکٹری کے اندر جانے والے کئی اہم اجزا اب بھی چین سے آتے ہیں۔
امریکا اور یورپ چین کی برتری سے کیوں پریشان ہیں؟
امریکا اور یورپ چین کی برتری سے کیوں پریشان ہیں؟
قومی سلامتی اور گرڈ بلیک میلنگ کا اندیشہ
واشنگٹن اور برسلز کے لیے یہ تجارتی خسارے سے کہیں بڑا توانائی کی خود مختاری کا سوال ہے۔ اگر مغربی ممالک کے مستقبل کے گرڈ سسٹمز چینی بیٹریوں کے رحم و کرم پر ہوں گے تو کسی بھی سفارتی تنازع یا تجارتی پابندی کی صورت میں ان کے پاور گرڈز کا پہیہ فوری رک سکتا ہے۔
لاگت کا زبردست فرق
چینی فیکٹریاں وسیع پیمانے پر پیداوار اور سرکاری مراعات کے باعث اتنی سستی بیٹریاں بنا رہی ہیں کہ یورپ یا امریکا میں قائم ہونے والی نئی فیکٹریاں مالی طور پر ان کا مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔
سائبر اور ڈیٹا سکیورٹی ضوابط
جولائی 2026 میں یورپی کمیشن نے نئی ہدایات جاری کیں جن کے تحت ٹینڈرز میں صرف کم قیمت نہیں بلکہ سائبر تحفظ اور سپلائی چین کے اعتماد کو ترجیح دی جائے گی تاکہ بیرونی دخل اندازی رکے۔
امریکا اور یورپ کو فکر کیوں ہے؟
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف تجارت کا نہیں بلکہ توانائی کی سلامتی کا بھی ہے۔
اگر مستقبل کے بجلی کے نظام بڑے پیمانے پر بیٹریوں پر منحصر ہوں اور ان کی سپلائی چند کمپنیوں یا ایک ملک کے گرد گھومتی ہو تو کسی تجارتی تنازع، برآمدی پابندی یا جغرافیائی کشیدگی کا اثر براہ راست بجلی کے منصوبوں تک پہنچ سکتا ہے۔
🗣️ "As the result of falling costs & greater flexibility needs, battery storage is playing a growing role in power systems worldwide, acting as a “multi-tool” that can provide a range of critical system services at once."
— International Energy Agency (@IEA) June 21, 2026
More in our latest commentary 👉 https://t.co/2iDZpj3U6N pic.twitter.com/Yc5IVCxSk9
اسی لیے یورپی یونین مقامی کلین ٹیک صنعت کو بڑھانے اور بیرونی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جولائی 2026 میں یورپی کمیشن نے سرکاری خریداری اور قابل تجدید توانائی کی نیلامیوں میں صرف کم قیمت کے بجائے سپلائی کی مضبوطی، پائیداری، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا سکیورٹی جیسے عوامل کو بھی اہمیت دینے کی ہدایات جاری کیں۔
پھر بھی چین کا مقابلہ آسان نہیں ہے۔ کئی چینی فیکٹریاں بڑے پیمانے، تجربے اور انتہائی مؤثر پیداوار کی وجہ سے کم قیمت پر بیٹریاں فراہم کر رہی ہیں۔
یہی لاگت کا فرق نئی مغربی فیکٹریوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
🔭
اگلے چند سال میں بجلی کا کھیل کیسے بدل سکتا ہے؟
‹
اگلے چند سال میں بجلی کا کھیل کیسے بدل سکتا ہے؟
سینٹرلائزڈ گرڈز کا خاتمہ
گھر، دکانیں اور کارخانے سولر پلس بیٹری کے امتزاج سے اپنے آزاد منی پاور اسٹیشن بن جائیں گے، جس کے نتیجے میں روایتی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ٹیرف ماڈلز بری طرح لڑکھڑا جائیں گے۔
تیل و گیس کی سیاست کا زوال
توانائی کی عالمی سیاست خلیجی ممالک اور تیل و گیس پائپ لائنز کے بجائے لیتھیم، اینوڈ مواد اور بیٹری سپلائی چینز کنٹرول کرنے والے ممالک کے گرد گھومنا شروع ہو جائے گی۔
24 گھنٹے سستی گرین پاور
اسٹوریج لاگت مزید کم ہونے سے شمسی اور ہوائی توانائی دنیا بھر میں تھرمل اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کے مقابلے میں مستقل سستی ترین اور قابلِ بھروسا بجلی مہیا کرنے کے قابل ہو جائے گی۔
کلین ٹیک میں تجارتی سرد جنگ
مغرب کی جانب سے سبسڈیز، پروٹیکشنسٹ ٹیرف اور چین پر انحصار توڑنے کی کوششیں بین الاقوامی تجارت میں نئے جغرافیائی اور صنعتی تنازعات کو جنم دیں گی۔
پاکستان کے لیے زیادہ اہم
پاکستان میں سولر انقلاب پہلے ہی تیزی سے پھیل چکا ہے۔ رائٹرز نے Ember کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 2025 کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہوگیا جہاں ماہانہ بجلی پیداوار میں سولر کا حصہ 25 فیصد سے اوپر پہنچا ہے۔
اس تیز رفتار تبدیلی کے پیچھے چین سے سستے سولر پینلز کی بڑے پیمانے پر درآمد بھی اہم وجہ تھی اور اب یہی سلسلہ بیٹریوں میں دہرایا جا سکتا ہے۔
IEEFA کے مطابق پاکستان نے 2024 میں تقریباً 1.25 گیگاواٹ آور لیتھیم آئن بیٹری پیکس درآمد کیے، جبکہ صرف جنوری اور فروری 2025 میں مزید 400 میگاواٹ آور درآمد ہوئے۔
واضح رہے کہ پاکستان اپنی زیادہ تر لیتھیم آئن بیٹریاں چین سے حاصل کرتا ہے۔
گھروں، دکانوں اور صنعتوں میں سولر کے ساتھ بیٹری لگنے کا مطلب یہ ہے کہ صارف دن کی سستی شمسی بجلی رات کے لیے محفوظ کر سکتا ہے اور گرڈ پر انحصار مزید کم کر سکتا ہے۔
سستی بجلی کی چابی، مگر نیا انحصار بھی
پاکستان کے لیے چینی بیٹریوں کی کم قیمت ایک بڑا موقع ہے۔ مہنگی بجلی، لوڈ مینجمنٹ اور سولر کے پھیلاؤ کے ماحول میں بیٹری اسٹوریج لاکھوں صارفین کے لیے توانائی کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ پاکستان تیل اور گیس کی درآمدی محتاجی کم کرتے ہوئے اگر سولر پینل، انورٹر اور بیٹری کے لیے ایک ہی ملک پر بہت زیادہ منحصر ہو جاتا ہے تو پرانے توانائی انحصار کی جگہ ایک نئی قسم کا صنعتی انحصار لے سکتا ہے۔
دنیا میں توانائی کا اگلا مقابلہ صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ سب سے زیادہ بجلی کون بناتا ہے، بلکہ اصل طاقت اس کے پاس ہوگی جو اس بجلی کو سب سے سستا، محفوظ اور بڑے پیمانے پر ذخیرہ کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال اس دوڑ میں چین کئی قدم آگے ہے۔