براہ راست نشریات

بہتی شہ رگ: اقتدار کی ہوس میں کشمیر لہولہان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کشمیر پاکستان کی شہ رگ

کشمیر کاز، بدلتے عوامی رجحانات اور آزاد کشمیر میں بڑھتی بے اعتمادی پر ایک اہم تجزیہ

Picture of محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

سینئر تجزیہ نگار - ریاض

پاکستان 7 دہائیوں سے کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے، مگر معاشی کمزوری، علاقائی سیاست، داخلی عدم استحکام اور آزاد کشمیر میں بڑھتی بے اعتمادی اس تاریخی مؤقف کے لیے نئے سوالات پیدا کر رہی ہے۔

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کے متعلق کہا تھا کہ ’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘۔ 

پاکستان 1947ء سے نہ صرف عالمی پلیٹ فارمز پر کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے بلکہ کشمیر کاز کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا فورم ہو جہاں کشمیر کی بات ہوئی ہو اور پاکستان نے یہ مقدمہ لڑنے سے انکار کیا ہو۔ 

پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیتا ہے اور آزادی کے اس نامکمل ایجنڈے پر عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

تاہم پاکستان ابھی تک اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، جس کی کئی وجوہ ہیں۔ 

ان میں سب سے اہم پاکستان کے معاشی حالات ہیں۔ 

دورِ حاضر میں کسی ریاست کی بات میں اسی وقت وزن پیدا ہوتا ہے جب اس کی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ معاشی حیثیت بھی مستحکم ہو۔ 

خوش قسمتی سے پاکستان نے گزشتہ برس اپنی دفاعی صلاحیت کا مسلمہ ثبوت نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کے سامنے پیش کر دیا، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی معاشی حالت اب بھی انتہائی دگرگوں ہے۔

مزید پڑھیں

دوسری طرف بھارت، جو اس سے قبل اپنے تئیں نہ صرف معاشی بلکہ دفاعی برتری کا بھی دعوے دار تھا، اس کی دفاعی حیثیت کا پول پاکستان نے بیچ چوراہے اس انداز میں کھولا کہ وہ ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ 

عالمی سطح پر اسے جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اس نے وقتی طور پر اس کی بولتی بند کر دی۔ 

بھارت اب پہلے کی طرح عالمی برادری کے سامنے اپنی جغرافیائی، معاشی اور عسکری حیثیت کا بڑھ چڑھ کر ڈھنڈورا پیٹنے سے گریز کرتا ہے۔

اہم نکات +
  • پاکستان 1947ء سے کشمیر کے حقِ خودارادیت کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آ رہا ہے۔
  • کالم نگار کے مطابق معاشی کمزوری پاکستان کے کشمیر مؤقف کا عالمی وزن متاثر کرتی ہے۔
  • 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہو گیا۔
  • لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کے فیصلے نے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر سوالات پیدا کیے۔
  • آزاد کشمیر کی نئی نسل میں سیاسی بے اطمینانی اور مختلف مستقبل کی خواہش بڑھ رہی ہے۔
  • عوامی شکایات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے باوجود اپنی ہزیمت کا داغ مٹانے کے لیے بھارت کی زیرِ زمین سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ 

وہ پاکستان کو کمزور کرنے یا اسے عالمی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ 

پاکستان کو داخلی عدم استحکام سے دوچار کرنے کے جن منصوبوں پر بھارت عمل پیرا ہے، ان میں افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں سرِفہرست ہیں۔ 

پاکستان داخلی طور پر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل صرف کر رہا ہے، لیکن تاحال ان پر مکمل طور پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

عالمی برادری کی ترجیحات پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بعض عالمی طاقتوں کا مفاد مسلم ممالک، بالخصوص اس خطے میں پاکستان، کو عدم استحکام سے دوچار رکھنے میں پوشیدہ ہے۔ 

پاکستان جغرافیائی طور پر جس مقام پر واقع ہے، وہاں اس کا عدم استحکام عالمی طاقتوں کے حریف ممالک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ 

یوں پاکستان کا داخلی عدم استحکام عالمی سیاسی بساط کا ایک حصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان اس حوالے سے بارہا افغانستان کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر چکا ہے، مگر یہ تمام کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں۔ 

افغان حکومت، جس کی پاکستان نے ہر مشکل موقع پر مدد اور حمایت کی، اب پاکستانی مفادات کے خلاف بروئے کار آتی دکھائی دیتی ہے۔ 

پاکستان اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی اپنی سی کوشش تو کر رہا ہے، لیکن جب تک افغانستان کی حکومت یا حکومتیں اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتیں، وہ دوسروں کے ہاتھوں کھیلتے ہوئے اپنے لیے بھی اور پاکستان کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی رہیں گی۔

ایک منٹ میں کالم +

کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جاتا ہے، لیکن سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تنازع حل نہیں ہو سکا۔ کالم نگار کے نزدیک پاکستان کی معاشی کمزوری، علاقائی سیاست، افغان سرزمین سے لاحق خطرات اور داخلی عدم استحکام نے کشمیر کے مقدمے کو بھی متاثر کیا ہے۔ دوسری طرف بھارت نے 5 اگست 2019ء کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے حالات مزید پیچیدہ کر دیے۔ کالم کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کشمیری پاکستان کے بھائی اور کشمیر اس کی شہ رگ ہے تو آزاد کشمیر کے عوامی مطالبات کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے کیوں حل نہیں کیا جاتا؟

رہی سہی کسر پاکستانی ’آقاؤں‘ کے رویے نے پوری کر دی ہے، جو پاکستان کے جمہوری نظام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ 

وہ اپنی من مانی سے کسی صورت باز آنے کو تیار نہیں، خواہ معاملہ پاکستان کے عام انتخابات کا ہو یا آزاد کشمیر کے انتخابی میدان کا۔ 

انہیں ہر صورت حکومت میں اپنے پسندیدہ یا پروردہ نمائندے ہی درکار ہوتے ہیں۔

کشمیر کی حیثیت ایک متنازع خطے کی ہے اور یہاں استصوابِ رائے کے ذریعے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کشمیر کی قسمت کیا ہوگی۔ 

بدقسمتی سے پہلے بھارتی زیر انتظام کشمیر اور اب پاکستانی کشمیر میں بھی اس متنازع حیثیت کی اہمیت کو پوری طرح تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ 

اگرچہ پاکستان آج بھی کشمیریوں کے حقِ استصوابِ رائے کے مؤقف پر قائم ہے، مگر بعض اقدامات اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بالخصوص بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدام کے بعد معاملات مزید گھمبیر ہو گئے۔ 

حالانکہ بھارت کے اس یک طرفہ اور ناجائز اقدام کے بعد، جب کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، چین نے لداخ میں ’نو مینز لینڈ‘ قرار دیے جانے والے علاقوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ہزاروں مربع کلومیٹر علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ 

پاکستان کو بھی اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

فیکٹ باکس +
بنیادی تنازع ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ
پاکستانی مؤقف کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے
اہم تاریخ 5 اگست 2019ء، جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی
اہم تقسیم لائن آف کنٹرول کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام حصوں میں تقسیم کرتی ہے
مرکزی تشویش سیاسی بے اعتمادی، عوامی اضطراب اور مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل تاخیر

اس کی وجہ بھی سامنے ہے۔ 

بھارت ایک طویل عرصے تک پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا رہا کہ وہ کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو ہوا دیتا ہے۔ 

بھارت کا دعویٰ تھا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن پاکستان ان کی تحریکِ آزادی میں مدد فراہم کرکے وہاں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ 

دوسری جانب پاکستان کا ہمیشہ یہی مؤقف رہا کہ وہ کشمیریوں کی صرف سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا ہے اور براہِ راست تحریکِ آزادی کا حصہ نہیں۔

پاکستان کے اس بڑے اور غیر متوقع اقدام کے باوجود کشمیری ایک دن کے لیے بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے۔ 

نہ ان کی تحریک میں کسی نمایاں کمی کے آثار دکھائی دیے، بلکہ وہ آج بھی اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے اور بھارت سے آزادی کے طلب گار ہیں۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بھارت کے یک طرفہ اور ناجائز اقدام اور وہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عمل، خواہ وہ کنٹرولڈ ہی کیوں نہ ہو، کسی نہ کسی شکل میں جاری رکھا گیا ہے۔ 

ایک طرف کشمیر میں انتخابی عمل جاری ہوتا ہے تو دوسری طرف بھارتی سکیورٹی فورسز کشمیری مظاہرین پر گولیاں برساتی دکھائی دیتی ہیں۔ 

بھارت اپنے ہی اقدامات سے جمہوری ملک ہونے کے دعوے کی نفی کرتا ہے اور یہ طرزِ عمل اس کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کی مانند سجا رہتا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے؟ +

کشمیر محض پاکستان اور بھارت کے درمیان زمین کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کے سیاسی مستقبل، شناخت اور بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔

آزاد کشمیر میں عوامی اعتماد کمزور ہونے کی صورت میں پاکستان کے روایتی کشمیر مؤقف کو اخلاقی اور سفارتی سطح پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے وہاں کے سیاسی اور معاشی مسائل کو شفافیت، مکالمے اور عوامی شمولیت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔

انتخابی عمل میں بھی شفافیت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ 

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے کے باوجود بھارت اپنے پسندیدہ نمائندوں کو ہی پارلیمان کا حصہ بنانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرتا ہے۔ 

اس مقصد کے حصول میں نہ اسے کسی کا خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی شرمندگی۔

پاکستان کی طرف آئیں تو یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ آزاد کشمیر کی اکثریتی آبادی ایک طویل عرصے تک پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے دل و جان سے تیار تھی، لیکن بدقسمتی سے اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ 

کشمیریوں کی نئی نسل کا ایک نمایاں حصہ اب کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔

اس صورتِ حال میں کسی حد تک جنرل مشرف کے دور کی پالیسیوں کا بھی کردار رہا۔ 

واقفانِ حال کے مطابق جنرل مشرف بھارتی اور عالمی دباؤ کے سامنے سرنڈر کر چکے تھے اور ان کے نزدیک کشمیر میں جو صورتِ حال موجود تھی، اسے ہی مستقل حل کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ 

البتہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے کشمیریوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہونا تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر ممکن نہ ہو سکی۔

کالم نگار کا مرکزی مؤقف +
کشمیر کو شہ رگ کہنے کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ کشمیری عوام کی آواز سنی جائے اور ان کے مسائل طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں۔

کالم نگار کے نزدیک پاکستان کی کشمیر پالیسی اسی وقت زیادہ مؤثر بن سکتی ہے جب ملک معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر مستحکم اور آزاد کشمیر میں جمہوری اعتماد محفوظ ہو۔

موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کی صورتِ حال بھی بعض حوالوں سے بھارتی مقبوضہ کشمیر سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی۔ 

ایک طرف آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابات میں عدم دلچسپی، عدم اطمینان اور عدم اعتماد کا اظہار کیا تو دوسری طرف ریاست نے کشمیری عوام کے تحفظات دور کرنے کے بجائے مبینہ طور پر 10 سے 15 فیصد شرحِ ووٹنگ پر ہی انتخابات کرانے کو ترجیح دی۔ 

یہ دعویٰ آزاد کشمیر کے انتخابات کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں کا ہے، جبکہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق کشمیریوں کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔

ملک کی مقبول سیاسی جماعت نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جبکہ پاکستان کے انتخابی نتائج کی طرح یہاں بھی من پسند سیاسی جماعتوں میں نشستوں کی بندربانٹ کے الزامات سامنے آئے۔ 

دوسری جانب راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ پر براہِ راست گولیاں چلانے کی خبریں بھی سنائی دیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری کے مطابق رینجرز نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں، جس کے نتیجے میں کئی کشمیری مظاہرین شہید ہوئے، جبکہ ان کا بھائی بھی جان سے گیا۔ 

ان واقعات کے بعد اربابِ اختیار سے یہی درخواست کی جا سکتی ہے کہ کشمیری ہمارے مسلمان بھائی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ معاملات طاقت کے بجائے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جائیں۔ 

ان کے جائز مطالبات تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

آخر بابائے قوم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا—اور ہوسِ اقتدار میں اپنی شہ رگ بھلا کون کاٹتا ہے؟

ادارتی نوٹ
کالم میں اظہار کیے گئے خیالات اور آراء صرف کالم نگار کے ذاتی موقف کی عکاسی کرتے ہیں، جن سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔