🌐
نائن الیون کے 5 حقائق جو سب بدل گئے
نائن الیون کے 5 حقائق جو سب بدل گئے
پیشگی حملے کا نیا امریکی نظریہ اور دفاعی ریاست کا ظہور
11 ستمبر کے حملوں کے بعد بش انتظامیہ نے روایتی دفاعی حکمتِ عملی ترک کر کے پیشگی حملے (Preemptive Strike) کا نظریہ اپنایا۔ اس پالیسی نے بین الاقوامی خودمختاری کے اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر نہ صرف افغانستان اور بعد ازاں بغیر ٹھوس شواہد کے عراق پر جارحیت کی راہ ہموار کی، بلکہ دنیا بھر میں نگرانی اور انٹیلی جنس کے نئے ضابطے مسلط کیے۔
خوفناک مالی و انسانی تباہی
براؤن یونیورسٹی کے مطابق 8 ٹریلین ڈالر کی لاگت اور 47 لاکھ تک براہِ راست و بالواسطہ ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد انسان بے گھر ہوئے۔
طاقت کا خلا اور داعش کا عروج
عراق و مشرقِ وسطیٰ میں ریاستوں کے کمزور ہونے سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا نے القاعدہ سے آگے بڑھ کر داعش جیسے سفاک گروہوں کی آبیاری کی، جنہوں نے ڈیجیٹل دور میں خوف پھیلایا۔
مسلم کمیونٹیز کے خلاف تعصب کی لہر
مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا کی بنیادیں گہری ہوئیں۔ ایف بی آئی کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں یکدم سینکڑوں گنا اضافہ ہوا جو آج بھی عوامی سوچ پر اثرانداز ہے۔
فوجی طاقت کی فیصلہ کن ناکامی
دو دہائیوں کی مہنگی ترین جنگوں نے ثابت کیا کہ انتہا پسندی کو محض بمباری سے شکست نہیں دی جا سکتی؛ منصفانہ سیاسی ڈھانچے اور معاشی استحکام ہی دیرپا امن کی ضمانت ہیں۔
11 ستمبر 2001 کے حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد مارے گئے، لیکن یہ صرف ٹوئن ٹاورز تک محدود نہیں رہا۔
مزید پڑھیں
اس کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے افغانستان، عراق، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی بدل کر رکھ دی۔
افغانستان سے عراق تک
حملوں کے بعد امریکا نے القاعدہ کے خلاف افغانستان میں جنگ شروع کی۔ 2003 میں عراق پر حملہ ہوا، جس کا بڑا جواز صدام حسین کے مبینہ وسیع تباہی کے ہتھیار تھے۔
بعد کی امریکی تحقیقات میں پتا چلا کہ عراق سے ایسے بڑے ذخائر ملے ہی نہیں۔
نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگوں نے لاکھوں جانوں کے ضیاع، 8 ٹریلین ڈالر کے اخراجات اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ناقابلِ تلافی معاشی و سماجی نقصانات چھوڑے۔
براؤن یونیورسٹی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگوں میں بالواسطہ اور بلاواسطہ 47 لاکھ اموات ہوئیں جبکہ 3.8 کروڑ افراد دربدر ہوئے۔
افغانستان اور عراق سمیت دو دہائیوں کی عسکری مہمات پر امریکی سرکاری خزانے کے تقریباً 8 ٹریلین ڈالر جھونک دیے گئے۔
فرنٹ لائن ریاست بننے کی بھاری قیمت پر پاکستانی معیشت اور انفراسٹرکچر کو 126.79 ارب ڈالر کا براہِ راست و بالواسطہ نقصان اٹھانا پڑا۔
حملوں کے بعد اسلام مخالف جرائم میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور حالیہ جائزوں کے مطابق 51% امریکی اسلام کو شدت پسندی سے جوڑنے لگے۔
جارج ڈبلیو بش انتظامیہ نے اسی دور میں پیشگی حملے کی پالیسی اپنائی، جس نے امریکی خارجہ پالیسی کو نئی سمت دی۔
جنگوں اور ریاستی کمزوری نے کئی علاقوں میں سکیورٹی خلا پیدا کیا۔ القاعدہ کے بعد داعش نے عراق اور شام میں اسی انتشار سے فائدہ اٹھایا اور سوشل میڈیا کو بھرتی اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔
پاکستان نے نائن الیون کی کیا قیمت چکائی؟
▼
پاکستان نے نائن الیون کی کیا قیمت چکائی؟
معاشی خسارے کا پہاڑ
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق 2001 سے 2017 کے دوران دہشت گردی اور عدم استحکام کے باعث ملکی انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور برآمدات کو بے پناہ نقصان پہنچا۔
فرنٹ لائن ریاست کا بے پناہ بوجھ
عالمی اتحاد کا حصہ بننے کے بعد دہشت گردی کا رخ پاکستان کی جانب مڑ گیا، جس کے نتیجے میں فورسز کے بہادر جوانوں اور عام شہریوں نے جانوں کی تاریخی قربانیاں دیں۔
داخلی بے گھری اور قبائلی اثرات
سرحدی و قبائلی پٹی میں طویل عسکری آپریشنز کے دوران مقامی آبادی کو عارضی بے گھری اور شدید سماجی و تعلیمی تعطل کا سامنا کرنا پڑا۔
سفارتی دباؤ اور تزویراتی مشکلات
خطے میں جاری کشمکش اور بیرونی طاقتوں کے مطالبات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی توازن کو طویل عرصے تک غیر معمولی دباؤ میں رکھا۔
جنگ کی قیمت کتنی تھی؟
براؤن یونیورسٹی کے ’کاسٹس آف وار‘ منصوبے کے مطابق نائن الیون کے بعد کی جنگوں میں براہِ راست اور بالواسطہ اموات کا تخمینہ 45 سے 47 لاکھ تک ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان جنگوں میں 3 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے اور امریکا پر ان جنگوں کی لاگت تقریباً 8 ٹریلین ڈالر رہی۔
پاکستان بھی اس طوفان سے نہیں بچ سکا۔ پاکستان اکنامک سروے 2017-18 کے مطابق 2001 سے 2017 تک دہشت گردی اور اس کے اثرات سے ملک کو 126.79 ارب ڈالر کا براہِ راست اور بالواسطہ معاشی نقصان ہوا۔
25 سالہ تجزیہ
25 سال بعد بھی دنیا کیوں نہیں سنبھلی؟
+
25 سال بعد بھی دنیا کیوں نہیں سنبھلی؟
بنیادی سیاسی تنازعات کا مسلسل التواء
نائن الیون کے بعد عالمی توجہ صرف عسکری مہمات پر مرکوز رہی، جس کے باعث مسئلہ فلسطین سمیت مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازعات پسِ منظر میں دھکیل دیے گئے اور ناانصافی کے احساس نے نئے غصے کو جنم دیا۔
کمزور ریاستی ادارے اور سکیورٹی خلا
طاقت کے بل بوتے پر حکومتیں گرانے کے بعد وہاں مستحکم مقامی نظام اور ادارے قائم نہ ہو سکے، جس سے پیدا ہونے والے خلا کو غیر ریاستی عسکری عناصر اور باہمی فرقہ وارانہ تصادم نے پُر کیا۔
فکری و سماجی ہم آہنگی کے بجائے پولرائزیشن
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعلیم، معاشی انصاف اور شمولیت پر کام کرنے کے بجائے سماجی تقسیم بڑھی؛ انتہا پسندی کا مقابلہ محض طاقت سے کرنے کی سوچ نے عالمی امن کو غیر مستحکم رکھا۔
مسلمان بھی نشانے پر آئے
ایف بی آئی کے مطابق امریکا میں مسلمانوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے نفرت انگیز واقعات 2000 کے 28 سے بڑھ کر 2001 میں 481 ہوگئے۔
2026 کے Pew سروے میں 51 فیصد امریکیوں نے کہا کہ اسلام دوسری مذاہب کے مقابلے میں تشدد کی زیادہ حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ قبل ازیں 2002 میں یہی رائے صرف 25 فیصد کی تھی۔
مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا نقشہ
نائن الیون کے بعد عالمی توجہ برسوں تک دہشت گردی، افغانستان اور عراق پر مرکوز رہی۔
اسی دوران مسئلہ فلسطین سمیت دیرینہ تنازعات پس منظر میں گئے، جبکہ فرقہ وارانہ کشیدگی، پراکسی جنگوں اور کمزور ریاستی اداروں نے خطے کو مزید غیر مستحکم کیا۔
🔭
اگلا خطرہ کہاں سے آ سکتا ہے؟
تزویراتی تخمینہ
▼
اگلا خطرہ کہاں سے آ سکتا ہے؟
مصنوعی ذہانت اور غیر روایتی ڈیجیٹل وارفیئر
شدت پسند نیٹ ورکس اب روایتی تربیتی کیمپوں کے بجائے ڈیجیٹل فضا، الگورتھمک پروپیگنڈے اور حساس تنصیبات پر سائبر حملوں پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ بغیر سرحدوں کی یہ جنگ کسی بھی ریاست کے مرکزی نظام کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
طاقت کے خلا اور جنگ زدہ خطوں کا پھیلاؤ
افریقہ کے ساحلی خطے، شام اور یمن جیسے تنازعات زدہ علاقوں میں اداروں کی کمزوری نئے عسکری اتحادوں کو منظم ہونے کا محفوظ موقع دے رہی ہے۔ مقامی شکایات اور حکومتی بے اختیاری خطے سے باہر بھی غیر متوقع سرگرمیوں کو جنم دے سکتی ہے۔
بڑی طاقتوں کی کشمکش اور پراکسی تنازعات
عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کی باہمی چپقلش کے باعث مشترکہ انسدادِ دہشت گردی میکانزم بری طرح کمزور پڑ رہا ہے۔ اس تقسیم سے فائدہ اٹھا کر نان اسٹیٹ ایکٹرز پراکسی نیٹ ورکس کے طور پر نئے تنازعات کو ہوا دینے کی تزویراتی پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔
معاشی ناہمواری اور موسمیاتی نقل مکانی
ترقی پذیر دنیا میں افراطِ زر، روزگار کے بحران اور موسمیاتی آفات کی وجہ سے وسائل پر چھڑنے والی کشمکش سماجی انتشار کو جنم دے رہی ہے۔ یہ تلخ محرومیاں انتہا پسند نظریات اور عسکری بھرتی کے لیے زرخیز ایندھن ثابت ہو سکتی ہیں۔
25 سال بعد سب سے بڑا سبق
دو دہائیوں سے زیادہ کی جنگوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی صرف فوجی طاقت سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے مضبوط ریاستی ادارے، تعلیم، معاشی مواقع، مسائل اور اختلافات کا منصفانہ سیاسی حل اور آن لائن انتہاپسندی کا فکری مقابلہ بھی ضروری ہیں۔
نائن الیون نے دنیا بدل دی، مگر یہ خلش باقی ہے کہ کیا دنیا نے اس سے درست سبق سیکھا؟