براہ راست نشریات

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 25 سال، پوری دنیا غیر محفوظ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
دہشت گردی جنگ کے 25 سال اور عالمی تباہی کے اثرات
11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS

11 ستمبر 2001ء میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اٹھنے والے دھویں نے صرف امریکہ کا منظرنامہ نہیں بدلا، بلکہ اس روز شروع ہونے والی ایک نئی عالمی سیاست نے افغانستان سے عراق، پاکستان سے شام اور امریکہ سے یورپ تک کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھیں

ان حملوں کو 25 سال ہونے والے ہیں اور اب بھی سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کامیاب ہوئی یا ناکام، بلکہ بڑا سوال یہ ہے کہ اس جنگ نے دنیا کو کیا دیا؟ اور قیمت کس نے ادا کی؟

ایک حملہ جس نے دنیا کا رخ بدل دیا

11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا۔

⚖️ 25 سالہ جنگ کی اصل قیمت کیا نکلی؟
ایک چوتھائی صدی

نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے ریاستوں کے معاشی ڈھانچے، انسانی جانوں اور عالمی شہری آزادیوں کو گہرے خسارے میں دھکیلا ہے۔

💸

8 ٹریلین ڈالر کا مالی بوجھ

امریکی براؤن یونیورسٹی کے مطابق جنگی آپریشنز، سیکیورٹی اخراجات اور سابق فوجیوں کی نگہداشت پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے جس کا قرض آئندہ دہائیوں تک ادا کیا جائے گا۔

🥀

47 لاکھ انسانی اموات کا تخمینہ

براہِ راست جنگی کارروائیوں اور بالواسطہ اثرات (تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے، بیماریوں اور غذائی قلت) کی وجہ سے لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے۔

🏚️

3 کروڑ 80 لاکھ بے گھر انسان

افغانستان، پاکستان، عراق، شام، یمن اور لیبیا میں کروڑوں خاندان اپنی بستیوں سے محروم ہو کر تاریخ کی بڑی انسانی نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

🛡️

شہری آزادیوں کا عالمی زوال

سلامتی کے نام پر نگرانی کے سخت قوانین نافذ ہوئے، گوانتانامو بے جیسے مراکز قائم ہوئے اور مسلم کمیونٹیز کو ریاستی تفریق کا سامنا کرنا پڑا۔

افغانستان اس جنگ کا پہلا بڑا میدان بنا، پھر عراق پر حملہ ہوا اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کئی دوسرے ممالک تک پھیلتی چلی گئیں۔

فرانسیسی مفکر فرانسوا بورگا نے اپنے حالیہ مضمون میں اسے صرف ایک فوجی جنگ ہی قرار نہیں دیا ہے۔

اُن کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد مغرب اور مسلم دنیا کے تعلقات بھی تبدیل ہوئے اور خود مغربی معاشروں میں سلامتی، آزادی اور شہری حقوق کے درمیان توازن پر نئے سوال اٹھے۔

لوگو

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 25 سال: عالمی تباہی کا حساب 🌐

ایک چوتھائی صدی پر محیط جنگی مہم جوئی نے کھربوں ڈالر کے ساتھ کروڑوں انسانوں کو نگل لیا

نائن الیون کے 25 سال بعد 8 ٹریلین ڈالر کے اخراجات، 47 لاکھ ہلاکتوں اور 38 ملین افراد کی بے دخلی نے دنیا کو محفوظ بنانے کے بجائے ایک نہ ختم ہونے والے بحران میں دھکیل دیا۔

💰 کل جنگی لاگت

8 ٹریلین ڈالر

براؤن یونیورسٹی کے مطابق نائن الیون کے بعد کے جنگی اخراجات اور طویل مدتی امریکی مالی ذمہ داریاں۔

💔 مجموعی جانی نقصان

4.7 ملین اموات

پاکستان، افغانستان، عراق اور شام سمیت جنگی علاقوں میں براہِ راست اور بالواسطہ ہونے والی ہلاکتیں۔

🚶‍♂️ جبری نقل مکانی

38 ملین بے گھر

خطے کے 8 جنگ زدہ ممالک میں عسکری کارروائیوں اور دہشت گردی کے باعث گھر بار چھوڑنے پر مجبور شہری۔

🏥 مستقبل کے طبی اخراجات

2.5 ٹریلین ڈالر

سال 2050 تک سابق امریکی فوجیوں کی دیکھ بھال اور طبی مراعات پر آنے والے متوقع بقایا اخراجات۔

📊 براؤن یونیورسٹی تجزیہ: جنگ کے انسانی و مالی بوجھ کا تناسب
بے گھر ہونے والے افراد
38 ملین افراد
براہ راست و بالواسطہ اموات
4.7 ملین افراد
فوجیوں کی دیکھ بھال (2050)
2.5 ٹریلین ڈالر

یہ بحث صرف نظریاتی نہیں، بلکہ اس جنگ کے انسانی و مالی اعداد و شمار، اُس دور کی وسعت کا ایک دوسرا رخ  بھی دکھاتے ہیں۔

💰 8 ٹریلین ڈالر آخر کہاں خرچ ہوئے؟ 📊

1۔ براہِ راست فوجی کارروائیاں

افغانستان، عراق، شام اور صومالیہ میں فضائی حملے، زمینی دستوں کی تعیناتی، جدید اسلحہ سازی اور لاجسٹکس پر براہِ راست کھربوں ڈالر لگیے۔

2۔ سابق فوجیوں کی نگہداشت (2050)

جنگ میں شریک سابق امریکی اہلکاروں کے علاج، معذوری کے الاؤنس اور پینشن پر سال 2050 تک 2.2 سے 2.5 ٹریلین ڈالر مزید خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔

3۔ جنگی قرضوں پر بھاری سود

یہ مہمات براہِ راست ٹیکسوں کے بجائے بیرونی اور اندرونی قرضوں پر لڑی گئیں، جس کے سود کی ادائیگی نسلوں تک امریکی بجٹ کو جکڑے رکھے گی۔

8 ٹریلین ڈالر کی جنگ

امریکی براؤن یونیورسٹی کے Costs of War پراجیکٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد کی جنگوں سے متعلق امریکی اخراجات اور طویل مدتی مالی ذمہ داریوں کا تخمینہ تقریباً 8 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔

اس میں افغانستان، عراق، پاکستان، شام اور دیگر مقامات پر جنگی اخراجات کے ساتھ سابق فوجیوں کی دیکھ بھال جیسی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ قیمت صرف ڈالروں میں ادا نہیں ہوئی، بلکہ اسی تحقیقی منصوبے کے تازہ دستیاب تخمینوں کے مطابق نائن الیون کے بعد کے جنگی علاقوں میں براہِ راست اور بالواسطہ اموات ملا کر 45 سے 47 لاکھ افراد جان سے جاچکے ہیں۔

محققین واضح کرتے ہیں کہ درست تعداد معلوم کرنا ممکن نہیں، اس لیے یہ صرف تخمینے ہی ہیں۔

پاکستان کا پرچم پاکستان نے اس جنگ کی کیا قیمت چکائی؟
📌

🛡️ فرنٹ لائن ریاست کا خمیازہ

افغانستان میں امریکی جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان فرنٹ لائن اتحادی بنا، جس کے نتیجے میں عسکری کارروائیوں، خودکش دھماکوں اور سیکیورٹی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

🚶‍♂️ لاکھوں شہریوں کی نقل مکانی

قبائلی اور سرحدی علاقوں میں بدامنی اور آپریشنز کے باعث لاکھوں پاکستانیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں طویل عرصہ بے گھری کاٹنا پڑی۔

📉 معاشی اور تجارتی دھچکا

غیر ملکی سرمایہ کاری کا رک جانا، اندرونی انفراسٹرکچر کی تباہی اور سیکیورٹی اخراجات میں اضافے نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔

🕊️ ہزاروں جانوں کی قربانی

شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کیں، جس کا زخم ملکی تاریخ پر گہرا ہے۔

حاصلِ کلام: پاکستان کے لیے یہ کوئی دور دراز تنازع نہیں تھا بلکہ اس جنگ کے انسانی، سماجی اور جغرافیائی اثرات آج بھی ملکی سرحدوں اور معاشرے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق براہِ راست جنگی تشدد سے کم از کم 9 لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن میں براہِ راست جنگ کے نتیجے میں مارے جانے والے شہریوں کی تعداد 4 لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

پاکستان بھی اس کہانی سے باہر نہیں

پاکستانیوں کے لیے اس جنگ کی تاریخ کسی دُور دراز خطے کی کہانی نہیں ہے۔

افغانستان میں امریکی جنگ کے ساتھ پاکستان فرنٹ لائن ریاست بن گیا۔ خطے میں جنگ، دہشت گردی، عسکری کارروائیوں اور نقل مکانی کے اثرات سرحد کے دونوں جانب محسوس کیے گئے۔

Costs of War کی تحقیق میں پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں نائن الیون کے بعد کی جنگوں نے بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی پیدا کی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

مجموعی طور پر افغانستان، عراق، پاکستان، یمن، شام، لیبیا، صومالیہ اور فلپائن میں 3 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ یعنی نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو صرف امریکہ، افغانستان یا عراق کی جنگ سمجھنا اس کے اصل حجم کو بہت محدود کرکے دیکھنا ہوگا۔

کیا ’دہشت گرد‘ ایک سیاسی لیبل بھی بن گیا؟

فرانسوا بورگا کے مضمون کا سب سے اہم اور متنازع نکتہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔

وہ دلیل دیتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد ’دہشت گردی‘ کے خلاف جائز سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ایک ایسا سیاسی بیانیہ بھی طاقتور ہوا، جس میں مسلم دنیا کی بعض مزاحمتی اور حزب اختلاف کی تحریکوں کو ان کے سیاسی اور تاریخی پس منظر سے الگ کرکے محض ان کی ’اسلامی‘ شناخت کے ذریعے دیکھا جانے لگا۔

⚠️ 45 لاکھ اموات: یہ ہولناک عدد کیا بتاتا ہے؟ 🕯️

براؤن یونیورسٹی کے تخمینوں کے مطابق جنگی زونز میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 45 سے 47 لاکھ تک پہنچتی ہے، جس میں براہِ راست حملوں کے ساتھ ساتھ بالواسطہ انسانی سانحات سب سے بڑا سبب رہے۔

1۔ براہِ راست تشدد (9 لاکھ 40 ہزار)

بمباری، ڈرون حملوں، فائرنگ اور جھڑپوں میں کم از کم 9 لاکھ 40 ہزار افراد لقمہ اجل بنے، جن میں 4 لاکھ سے زائد غیر مسلح معصوم شہری شامل تھے۔

2۔ بالواسطہ اثرات سے اموات (35 لاکھ+)

اسپتالوں کی تباہی، صاف پانی کی قلت، قحط سالی اور وبائی امراض کی وجہ سے جنگ ختم ہونے کے بعد بھی لاکھوں کمزور شہری و بچے جان سے گئے۔

تجزیہ کار اسے ایک ایسے ’بیانیہ فریب‘ سے تعبیر کرتے ہیں جس میں بعض اوقات یہ سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے کہ کوئی تحریک پیدا کیوں ہوئی، اس کے معاشرے میں سیاسی حقوق کی صورت حال کیا تھی اور وہاں قبضہ، آمریت یا ریاستی جبر موجود تھا یا نہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد شہری آزادیوں کے بارے میں خدشات عالمی سطح پر مختلف تحقیقی اداروں نے بھی ریکارڈ کیے ہیں۔

Costs of War کے مطابق دہشت گردی کے خلاف ان جنگوں کے ساتھ امریکہ اور بیرون ملک شہری آزادیوں اور انسانی حقوق میں تنزلی بھی دیکھی گئی۔

🌍 نائن الیون کے بعد دنیا مسلمانوں کے لیے کیسے بدلی؟ 📖

پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research): 55 فیصد مسلم امریکیوں کے مطابق نائن الیون کے بعد مغربی معاشروں میں ان کی شناخت شک کی نگاہ سے دیکھی جانے لگی اور انسدادِ دہشت گردی کے سخت قوانین کا رخ ان کی جانب مڑ گیا۔

پیٹریاٹ ایکٹ اور نگرانی

ریاستی ایجنسیوں کو وسیع اختیارات ملے، مساجد، چیریٹیز اور بینک اکاؤنٹس کی کڑی نگرانی معمول بن گئی۔

سماجی تنہائی اور اسلاموفوبیا

میڈیا اور سیاسی بیانیے میں مسلم شناخت کو سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کرنے سے معاشرتی تفریق بڑھی۔

سیاسی جدوجہد پر قدغن

مسلم دنیا کی کئی مقامی حقوق اور خود ارادیت کی تحریکوں کو بھی سیاسی پس منظر سے کاٹ کر اسی خانے میں ڈال دیا گیا۔

مسلمانوں کے لیے مغرب بھی بدل گیا

نائن الیون کے بعد دنیا میں ہونے والی تبدیلی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔

امریکہ میں پیٹریاٹ ایکٹ آیا، نگرانی اور انسداد دہشت گردی کے اختیارات بڑھے، جبکہ گوانتانامو بے دنیا میں اس نئے دور کی ایک متنازع علامت بن گیا۔ 

مبصرین اسے ایسی تبدیلی کہتے ہیں جس میں سلامتی کے نام پر شہری آزادیوں کی حدود دوبارہ متعین ہوئیں۔

اسی طرح مسلمانوں کے سماجی تجربے میں بھی تبدیلی آئی۔ Pew Research Center کے 2011 کے سروے میں 55 فیصد مسلم امریکیوں نے کہا تھا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں مسلمان ہونا زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔

اکثریت کا خیال تھا کہ حکومتی انسداد دہشت گردی پالیسیوں میں مسلمانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

نائن الیون سے غزہ تک، کیا کہانی ایک ہی ہے؟ ⚖️

سیاسی و تاریخی تناظر سے لاتعلقی

فرانسیسی مفکر فرانسوا بورگا کے مطابق 1945 کے سطیف واقعات، نائن الیون اور 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں مشترک بات یہ ہے کہ طاقتور بیانیے نے ردعمل کو طویل قبضے اور جبر کے تاریخی اسباب سے کاٹ کر دیکھا۔

مسئلے کے اسباب بمقابلہ تشدد کا جواز

تجزیہ کار واضح کرتے ہیں کہ تاریخی پس منظر کو سمجھنا شہریوں پر تشدد کو جائز قرار دینا نہیں، بلکہ یہ اس حقیقت کو ماننا ہے کہ تنازع کو اس کی جڑوں سے سمجھے بغیر مستقل امن ممکن نہیں۔

نچوڑ: جب تک ریاستی جبر، طویل تسلط اور حقِ خودارادیت کے بنیادی سوالات کو حل نہیں کیا جائے گا، محض عسکری طاقت کے ذریعے خطوں میں پائیدار سلامتی قائم نہیں ہو سکتی۔

اس طرح سے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ بیک وقت سرحدوں کے باہر فوجی اور سرحدوں کے اندر ایک بڑا سیاسی و سماجی مسئلہ بنا دی گئی تھی۔

سطیف، نائن الیون اور پھر غزہ

تجزیہ کار اس حوالے سے ایک غیر معمولی تاریخی لکیر بھی کھینچتے ہیں۔

وہ 1945ء کے الجزائر کے سطیف واقعات، 2001ء کے نائن الیون اور 7 اکتوبر 2023ء کے بعد غزہ کی جنگ کو ایک جیسا واقعہ قرار نہیں دیتے، بلکہ ایک مشترک سیاسی رویے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مبصرین کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ محکوم یا زیرقبضہ آبادی کے تشدد کو بعض اوقات اس تاریخی ماحول سے کاٹ کر دیکھا جاتا ہے جس میں وہ پیدا ہوا۔  یہی وجہ ہے کہ 7 اکتوبر کے حملے کو بھی فلسطین پر طویل اسرائیلی تسلط کے پس منظر سے الگ کرکے دیکھنے کا رجحان سامنے آیا۔

یہاں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ کسی سیاسی یا تاریخی پس منظر کی وضاحت شہریوں کے خلاف تشدد کو جائز قرار دینے کے مترادف نہیں۔ 

اصل بحث یہ ہے کہ کیا کسی تنازع کو اس کے اسباب سے الگ کرکے سمجھا جاسکتا ہے؟

ہم سے جڑے رہیں

جنگ ختم ہوئی، مگر بل ابھی باقی ہے

افغانستان سے امریکی افواج نکل چکی ہیں، لیکن ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا مالی بل آنے والی کئی دہائیوں تک ادا ہوتا رہے گا۔

براؤن یونیورسٹی کے محققین کا تخمینہ ہے کہ افغانستان اور عراق سمیت نائن الیون کے بعد کی جنگوں میں خدمات انجام دینے والے امریکی سابق فوجیوں کی طبی دیکھ بھال اور مراعات پر 2050 تک 2.2 سے 2.5 ٹریلین ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔

یہ اس پوری جنگ کا سب سے معنی خیز پہلو ہے۔ یعنی جنگیں ایک سرکاری اعلان سے شروع ہوسکتی ہیں، لیکن ان کا خاتمہ کسی ایک تاریخ پر نہیں ہوتا، بلکہ ان کے قرض، زخمی، بے گھر خاندان، سیاسی فیصلے اور معاشرتی اثرات کئی نسلوں کو برداشت کرنا ہوتے ہیں۔

🔭 دہشت گردی کی جنگ ختم ہوئی یا صرف شکل بدلی؟ 🔄

1۔ روایتی افواج کا انخلا بمقابلہ ریموٹ جنگ

بڑی افواج کے انخلا کے باوجود انسدادِ دہشت گردی کی جنگ ڈرون اسٹرائیکس، خفیہ آپریشنز اور ڈیجیٹل نگرانی کی صورت میں بدستور متحرک ہے۔

2۔ سیکیورٹی ریاست کا مستقل وجود

نائن الیون کے تحت نافذ کردہ غیر معمولی سیکیورٹی قوانین، سرحدی پابندیاں اور ڈیٹا مانیٹرنگ اب عالمی نظام کا مستقل حصہ بن چکی ہیں۔

3۔ نئی جغرافیائی صف بندیاں

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بعد افریقا کے خطے (ساحل ریجن) میں نئے سیکیورٹی محاذ کھل رہے ہیں جہاں عالمی طاقتیں مصروفِ عمل ہیں۔

4۔ معاشی و سماجی اثرات کا تسلسل

کھربوں ڈالر کے جنگی قرضے، خطوں میں سیاسی عدم استحکام اور تباہ حال معاشروں کی بحالی کا چیلنج آنے والی کئی نسلوں کے کندھوں پر ہے۔

25 سال بعد اصل سوال

نائن الیون کے 25 سال بعد بھی دنیا کے پاس ایک پیچیدہ موضوع موجود ہے کہ کھربوں ڈالر کے اخراجات، لاکھوں براہِ راست ہلاکتیں، کروڑوں بے گھر انسان اور آزادی و سلامتی کے درمیان مسلسل بحث۔

مبصرین اس پوری تاریخ کو ایک اور سوال کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ نے دنیا کو زیادہ محفوظ بنایا، یا اس نے خوف کو ایسی سیاسی طاقت میں تبدیل کردیا جس کے ذریعے جنگ، نگرانی اور مخالف آوازوں کے خلاف سخت اقدامات کو آسانی سے قبول کرایا جاسکا؟

نائن الیون کے 25 برس بعد بھی سب سے اہم بحث یہی ہے، کیونکہ ایک چوتھائی صدی بعد سوال صرف یہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کون جیتا؟، بلکہ اصل سوال یہ بھی ہے کہ اس جنگ کی قیمت کس نے ادا کی؟

📚 اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES نائن الیون، دہشت گردی کے خلاف جنگ، انسانی و مالی نقصانات اور مسلم امریکیوں سے متعلق بنیادی تحقیق اور اصل مضمون 4 معتبر ذرائع
📰 اصل مضمون اور بنیادی تجزیہ
الجزیرہ — دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 25 سال فرانسیسی مفکر فرانسوا بورگا کا اصل تجزیاتی مضمون، جس میں نائن الیون کے بعد مغرب، مسلم دنیا، شہری آزادیوں، مزاحمت، اسلاموفوبیا اور غزہ تک پھیلے سیاسی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 📝 اصل عربی مضمون اصل مضمون کھولیں ↗
💰 جنگ کی انسانی اور مالی قیمت
United States Brown University — Costs of War نائن الیون کے بعد کی جنگوں پر تقریباً 8 ٹریلین ڈالر کے اخراجات، کم از کم 45 سے 47 لاکھ براہِ راست و بالواسطہ اموات، 9 لاکھ 40 ہزار براہِ راست ہلاکتیں اور 3 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ بے گھر افراد سے متعلق بنیادی تحقیقی ڈیٹا۔ 📊 انسانی و مالی اعدادوشمار تحقیق دیکھیں ↗ United States Brown University — جنگ کا بل 2050 تک افغانستان اور عراق سمیت نائن الیون کے بعد کی جنگوں میں خدمات انجام دینے والے امریکی سابق فوجیوں کی طبی دیکھ بھال اور مراعات پر 2050 تک 2.2 سے 2.5 ٹریلین ڈالر کے ممکنہ اخراجات کی تحقیق۔ 🪖 سابق فوجیوں کے طویل مدتی اخراجات مکمل تحقیق کھولیں ↗
🕌 نائن الیون کے بعد مسلمان اور امریکا
United States Pew Research — نائن الیون کے بعد مسلم امریکی مسلم امریکیوں کے تجربات پر اہم سروے، جس میں 55 فیصد نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا میں مسلمان ہونا زیادہ مشکل ہوگیا، جبکہ 52 فیصد نے انسداد دہشت گردی پالیسیوں میں مسلمانوں کو خصوصی نگرانی کا نشانہ سمجھا۔ 🔎 مسلم امریکیوں کا سروے اصل سروے کھولیں ↗
📌 ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کی تیاری میں فرانسوا بورگا کے الجزیرہ پر شائع اصل مضمون کو بنیادی تجزیاتی ماخذ کے طور پر استعمال کیا گیا، جبکہ جنگ کے انسانی و مالی اثرات کے لیے Brown University کے Costs of War پراجیکٹ اور نائن الیون کے بعد مسلم امریکیوں کے تجربات کے لیے Pew Research Center کی تحقیق سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net