اسلامی سرمایہ کاری و برآمدی قرض انشورنس کارپوریشن اور ایگزم بینک پاکستان نے ری انشورنس معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد برآمدی خطرات کم کرنا، فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانا اور پاکستانی کمپنیوں خصوصاً چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو نئی عالمی منڈیوں میں داخل ہونے میں مدد دینا ہے۔
کسی پاکستانی کمپنی کے پاس عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل مصنوعات بھی ہوسکتی ہیں اور بیرون ملک خریدار بھی مل سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ برآمد کا راستہ خطرات سے پاک ہوگیا۔
اگر غیر ملکی خریدار ادائیگی نہ کرے تو کیا ہوگا؟
کسی سیاسی یا معاشی بحران سے سودا متاثر ہوجائے تو نقصان کون برداشت کرے گا؟
اور سب سے اہم یہ کہ برآمد کنندہ آرڈر مکمل کرنے کے لئے رقم کہاں سے حاصل کرے گا جبکہ اسے ادائیگی بعد میں ملنی ہو؟
پاکستانی برآمد کنندگان کو درپیش انہی خطرات کو کم کرنے کے لئے اسلامی سرمایہ کاری و برآمدی قرض انشورنس کارپوریشن (ICIEC)، جو اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کا رکن ادارہ ہے، اور ایگزم بینک پاکستان نے ایک اہم ری انشورنس معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTمعاہدہ — اہم نکات ⌄
- ✓ICIEC اور ایگزم بینک پاکستان نے ری انشورنس معاہدہ کیا ہے۔
- ✓اہل برآمدی معاملات کو اضافی انشورنس تحفظ مل سکے گا۔
- ✓مقصد عدم ادائیگی اور دیگر تجارتی خطرات کا بوجھ کم کرنا ہے۔
- ✓بہتر رسک شیئرنگ سے مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے۔
- ✓SMEs کے لیے فنانسنگ اور نئی منڈیوں تک رسائی بہتر ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اہل برآمدی معاملات کے لئے ری انشورنس سپورٹ فراہم کی جائے گی، جس سے ایگزم بینک پاکستان کی برآمدی قرضوں کے لئے انشورنس فراہم کرنے اور تجارتی خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔
سادہ الفاظ میں اس معاہدے کا مقصد ایک واضح معاشی سلسلہ قائم کرنا ہے: برآمد کنندہ کا خطرہ کم ہو، مالیاتی اداروں کا اعتماد بڑھے، فنانسنگ تک رسائی آسان ہو اور پاکستانی کمپنیوں کے لئے نئی عالمی منڈیوں میں داخل ہونا نسبتاً محفوظ ہوجائے۔
مزید پڑھیں
خریدار رقم ادا نہ کرے تو کیا ہوگا؟
عالمی تجارت میں ایک بڑا خطرہ سامان بھیجنے اور اس کی رقم وصول ہونے کے درمیان موجود ہوتا ہے۔
برآمد کنندہ کسی غیر ملکی خریدار کو ادھار یا مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر سامان فراہم کرسکتا ہے، لیکن اسے یہ خطرہ رہتا ہے کہ خریدار مقررہ وقت پر مکمل رقم ادا نہ کرے۔
اس کی وجہ خریدار کی مالی مشکلات بھی ہوسکتی ہیں اور متعلقہ ملک میں پیدا ہونے والا کوئی سیاسی، معاشی یا تجارتی بحران بھی۔
بڑی کمپنیاں بعض اوقات ایک سودے کا نقصان برداشت کرسکتی ہیں، لیکن چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لئے ایک بڑے خریدار کی عدم ادائیگی بھی سنگین مالی بحران پیدا کرسکتی ہے۔
یہیں ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس اہم ہوجاتی ہے۔
اس نظام کے ذریعے شرائط کے مطابق برآمدی سودے سے منسلک بعض خطرات کو انشورنس کے دائرے میں لایا جاسکتا ہے، تاکہ تمام خطرہ صرف برآمد کنندہ کے کندھوں پر نہ رہے۔
ری انشورنس کیوں اہم ہے؟
اس معاہدے کی اصل طاقت ری انشورنس میں ہے۔
ایگزم بینک پاکستان برآمد کنندگان کے لئے کریڈٹ اور انشورنس سہولتیں فراہم کرسکتا ہے، لیکن کسی بھی ادارے کی خطرات برداشت کرنے کی صلاحیت لامحدود نہیں ہوتی۔
نئے معاہدے کے تحت ICIEC اہل برآمدی معاملات کے لئے ری انشورنس سپورٹ فراہم کرے گا۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ معاہدہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ معاہدہ پاکستانی برآمدات کے لیے تین سطحوں پر اہم ہوسکتا ہے:
یوں خطرے کا ایک حصہ مزید تقسیم ہوجائے گا اور ایگزم بینک کو برآمدی سودوں کی معاونت کے لئے زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔
یعنی ایک طرف برآمد کنندہ کو انشورنس تحفظ ملتا ہے اور دوسری طرف اس خطرے کو قبول کرنے والے ادارے کو بھی ری انشورنس کی اضافی حفاظتی تہہ حاصل ہوجاتی ہے۔
اصل فائدہ فنانسنگ میں؟
معاہدے کا ایک اہم پہلو فنانسنگ تک رسائی ہے۔
برآمد کنندہ کو اکثر سودے کی رقم ملنے سے بہت پہلے سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ اسے خام مال خریدنا، پیداوار بڑھانا، ملازمین اور سپلائرز کو ادائیگی کرنا، پیکنگ اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا اور سامان بیرون ملک بھیجنا ہوتا ہے۔
اس کے بعد بھی خریدار سے رقم آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
خصوصاً چھوٹی کمپنیوں کے لئے یہ وقفہ کیش فلو کا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا طے ہوا، کیا ابھی نتیجہ نہیں؟ ⌄
جو طے ہوا
- ICIEC اور ایگزم بینک پاکستان کے درمیان ری انشورنس معاہدہ ہوا۔
- اہل برآمدی معاملات کے لیے ری انشورنس سپورٹ فراہم کی جائے گی۔
- ہدف رسک شیئرنگ اور فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
- SMEs سمیت پاکستانی کاروباروں کو نئی منڈیوں تک مدد دینا مقصود ہے۔
جو ابھی ثابت نہیں
- صرف معاہدہ ہونے سے برآمدات فوری طور پر نہیں بڑھ جاتیں۔
- اصل اثر نفاذ، اہلیت، لاگت اور کوریج پر منحصر ہوگا۔
- کتنے کاروبار مستفید ہوں گے، یہ عملی رسائی سے واضح ہوگا۔
- بینکوں کی شرکت اور برآمد کنندگان کی آگاہی بھی اہم ہوگی۔
اہم احتیاط: حقیقی کامیابی کا انحصار معاہدے کے مؤثر نفاذ پر ہوگا۔
اگر برآمدی سودے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کو مناسب انشورنس تحفظ حاصل ہو تو مالیاتی اداروں کے لئے اس سودے سے وابستہ خطرے کا انتظام نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ معاہدے میں خطرات کی تقسیم کے ساتھ فنانسنگ تک رسائی بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لئے بڑا موقع
اس معاہدے سے ممکنہ طور پر سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ہوسکتا ہے۔
بڑی کمپنی کے پاس متعدد ممالک، خریداروں اور مصنوعات میں اپنے خطرات تقسیم کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں چھوٹا برآمد کنندہ چند بڑے آرڈرز پر منحصر ہوسکتا ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
پاکستانی برآمد کنندہ کے لیے خطرہ صرف خریدار تلاش کرنا نہیں؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ اگر بیرونِ ملک خریدار رقم ادا نہ کرے تو کیا ہوگا۔
ICIEC اور ایگزم بینک پاکستان کا ری انشورنس معاہدہ اسی خطرے کو بانٹنے کے لیے ہے، تاکہ اہل سودوں کو اضافی تحفظ مل سکے۔
اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوا تو فنانسنگ آسان ہوسکتی ہے، SMEs بڑے آرڈرز لے سکتی ہیں اور نئی عالمی منڈیوں میں زیادہ اعتماد سے داخل ہوسکتی ہیں۔
ایسے میں ایک بڑی ادائیگی رک جانے سے صرف منافع نہیں بلکہ کمپنی کا پورا کیش فلو متاثر ہوسکتا ہے۔
مضبوط ایکسپورٹ کریڈٹ انشورنس چھوٹی کمپنیوں کو نئی منڈیوں میں جانے کا زیادہ اعتماد دے سکتی ہے۔
اس کا مقصد تجارتی خطرہ ختم کرنا نہیں بلکہ اسے قابل انتظام بنانا ہے۔
139 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاملات
ICIEC نے 1994 میں اسلامی ترقیاتی بینک گروپ کے رکن کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری کو شریعت سے ہم آہنگ انشورنس اور خطرات کم کرنے کے حل فراہم کرکے فروغ دینا ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTفنانسنگ کیسے آسان ہوسکتی ہے؟ ⌄
- 1برآمدی سودا انشورنس تحفظ کے دائرے میں آتا ہے۔
- 2ری انشورنس سے خطرے کا ایک حصہ مزید تقسیم ہوجاتا ہے۔
- 3مالیاتی ادارے کے لیے برآمدی وصولی کا خطرہ نسبتاً کم ہوسکتا ہے۔
- 4برآمد کنندہ کے لیے ورکنگ کیپیٹل اور تجارتی فنانسنگ تک رسائی بہتر ہوسکتی ہے۔
ادارے کے مطابق اس کی خدمات 51 رکن ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں جبکہ اب تک اس کے ذریعے بیمہ کئے گئے تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات کی مجموعی مالیت 139 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے۔
ICIEC نے مسلسل اٹھارہویں سال موڈیز سے Aa3 انشورنس فنانشل اسٹرینتھ ریٹنگ برقرار رکھی ہے، جبکہ اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے مسلسل تیسرے سال ادارے کی طویل مدتی کریڈٹ اور مالیاتی طاقت کی ریٹنگ AA- مستحکم آؤٹ لک کے ساتھ برقرار رکھی ہے۔
کیا پاکستانی برآمدات فوراً بڑھ جائیں گی؟
معاہدہ اہم ضرور ہے، لیکن صرف دستخط ہوجانے سے پاکستانی برآمدات میں فوری اضافہ یقینی نہیں۔
اصل کامیابی کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب یہ معاہدہ عملی مصنوعات اور سہولتوں میں تبدیل ہوگا اور پاکستانی برآمد کنندگان واقعی ان سے فائدہ اٹھائیں گے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXICIEC ایک نظر میں ⌄
- کام کا آغاز
- 1994
- گروپ
- اسلامی ترقیاتی بینک گروپ
- رکن ممالک
- 51
- خصوصیت
- اسلامی انشورنس و ری انشورنس
- Moody’s
- Aa3
- S&P
- AA-، مستحکم
- مجموعی بیمہ شدہ تجارت و سرمایہ کاری
- 139 ارب ڈالر سے زیادہ
یہ دیکھنا ہوگا کہ کن شعبوں اور برآمدی معاملات کو تحفظ دیا جاتا ہے، شرائط کیا ہوں گی، لاگت کتنی ہوگی اور خصوصاً چھوٹے کاروباروں کے لئے ان سہولتوں تک رسائی کتنی آسان بنائی جاتی ہے۔
تاہم اس معاہدے نے ایک اہم راستہ ضرور کھولا ہے۔
اس کی معاشی مساوات یوں سمجھی جاسکتی ہے:
مضبوط انشورنس → برآمدی رقم کو زیادہ تحفظ → فنانسنگ کا خطرہ کم → سرمائے تک بہتر رسائی → بڑے آرڈرز قبول کرنے اور نئی منڈیوں میں جانے کی زیادہ صلاحیت۔
اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہوا تو ری انشورنس محض ایک پیچیدہ مالی اصطلاح نہیں رہے گی بلکہ پاکستانی برآمد کنندہ کے لئے ایسا حفاظتی حصار بن سکتی ہے جو بیرون ملک سامان بھیجنے سے لے کر اس کی قیمت وصول ہونے تک اس کے تجارتی خطرات کو کم کرنے میں مدد دے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذریعہ ⌄
رپورٹ کی بنیادی معلومات ICIEC کی فراہم کردہ پریس ریلیز پر مبنی ہیں۔