براہ راست نشریات

خلیجی کشیدگی سے موٹر آئل کا عالمی بحران، قیمتیں 3 گنا بڑھ گئیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
100% LikesVS
0% Dislikes
موٹر آئل کا عالمی بحران

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، خلیجی توانائی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں کے باعث سنتھیٹک موٹر آئل میں استعمال ہونے والے گروپ تھری بیس آئل کی عالمی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
قیمتیں تقریباً 3 گنا بڑھ چکی ہیں، جبکہ بڑی کار ساز کمپنیاں نئے سپلائرز اور متبادل فارمولے تلاش کررہی ہیں۔

بنیادی تیل کے ذخائر ختم ہونے 

اور قیمت 4 ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچنے کے بعد 

ٹویوٹا، فولکس ویگن اور اسٹیلانٹس نے 

متبادل فارمولوں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے

OVERSEAS POST  |  PREMIUM STORY

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا مالی بوجھ اب گاڑیوں کا تیل تبدیل کروانے والے عام صارفین تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ 

ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بحری تجارت میں رکاوٹ کے بعد بحران کے اثرات اس بنیادی مادے تک پہنچ گئے ہیں جو ڈرائیور کو دکھائی تو نہیں دیتا لیکن گاڑی کے انجن کو محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹویوٹا، فولکس ویگن اور اسٹیلانٹس سمیت دنیا کی بڑی کار ساز کمپنیاں اعلیٰ معیار کے بنیادی تیل کی شدید قلت سے نمٹنے کے لیے نئے سپلائرز اور متبادل فارمولوں کی طرف منتقل ہورہی ہیں۔

اس بحران کا تعلق گروپ تھری بیس آئل سے ہے، جو جدید اور اعلیٰ کارکردگی والے سنتھیٹک موٹر آئل کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

دستیاب ذخائر کی وجہ سے کار ساز کمپنیاں جنگ کے ابتدائی مہینوں میں بحران کے اثرات سے محفوظ رہیں، لیکن اب یہ ذخائر ختم ہونے لگے ہیں۔ 

دوسری جانب متبادل سپلائرز سے ملنے والی مقدار محدود ہے اور ریفائنری، بندرگاہ یا بحری راستے میں کسی نئی رکاوٹ سے سپلائی دوبارہ شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

قیمت میں تین گنا اضافہ

یورپ اور امریکا میں گروپ تھری بیس آئل کی قیمت تقریباً 4 ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو جنگ سے پہلے کی قیمت کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔

یہ تیل براہِ راست گاڑیوں کے مالکان کو فروخت نہیں کیا جاتا بلکہ سنتھیٹک موٹر آئل کی تیاری کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ 

بعد میں اس میں ایسے کیمیائی اجزا شامل کیے جاتے ہیں جو انجن کو رگڑ، زنگ، کچرے اور نقصان دہ تہہ بننے سے محفوظ رکھتے ہیں اور مختلف درجۂ حرارت میں تیل کی کارکردگی برقرار رکھتے ہیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTموٹر آئل بحران — اہم نکات
  • گروپ تھری بیس آئل کی قیمت تقریباً تین گنا بڑھ کر چار ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
  • ٹویوٹا، فولکس ویگن اور اسٹیلانٹس نے نئے سپلائرز اور متبادل فارمولوں کا استعمال شروع کردیا ہے۔
  • قطر کا پرل جی ٹی ایل کمپلیکس روزانہ تقریباً 30 ہزار بیرل بیس آئل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • !قلت کا زیادہ خطرہ جدید گاڑیوں میں استعمال ہونے والے سنتھیٹک اور کم گاڑھے پن والے موٹر آئل کو ہے۔
  • سعودی عرب اور خلیج میں ابھی وسیع قلت ثابت نہیں، تاہم قیمتوں میں اضافے اور بعض گریڈز کی تاخیر کا امکان موجود ہے۔
overseaspost.net

گروپ تھری بیس آئل بالخصوص 0W-20، 0W-16 اور 0W-8 جیسے کم گاڑھے پن والے تیل کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ 

جدید اور ہائبرڈ گاڑیوں میں ایسے تیل کو ایندھن کی بچت، انجن کی رگڑ کم کرنے اور حساس پرزوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے تیل تیار کرنے والی کمپنیاں اسے کسی عام یا آسانی سے دستیاب تیل سے فوری طور پر تبدیل نہیں کرسکتیں۔ 

ہر نئے فارمولے کو انجن کی کارکردگی، ایندھن کے استعمال، اخراج اور گاڑی کی وارنٹی سے متعلق سخت آزمائشوں اور منظوری کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

عالمی سپلائی میں قطر کا اہم کردار

گروپ تھری بیس آئل کی عالمی پیداوار کا ایک اہم حصہ خلیجی ممالک، خصوصاً قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں تیار ہوتا ہے۔ 

ان ممالک کی توانائی تنصیبات متاثر ہونے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں کے باعث امریکا، یورپ اور ایشیا جانے والی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔

قطر کے راس لفان صنعتی شہر میں قائم پرل جی ٹی ایل کمپلیکس اس شعبے کی اہم ترین تنصیبات میں شامل ہے۔ 

شیل کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہ کمپلیکس روزانہ تقریباً 30 ہزار بیرل بیس آئل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مقدار سالانہ تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ گاڑیوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہوسکتی ہے۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXموٹر آئل بحران کا فیکٹ باکس
بحران کا بنیادی مادہ
گروپ تھری بیس آئل — جدید سنتھیٹک موٹر آئل کا اہم جزو
موجودہ عالمی قیمت
تقریباً 4,000 ڈالر فی ٹن
قیمت میں اضافہ
جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا
اہم کار ساز کمپنیاں
ٹویوٹا، فولکس ویگن، اسٹیلانٹس
اہم خلیجی تنصیب
پرل جی ٹی ایل، راس لفان، قطر
پرل جی ٹی ایل کی پیداواری صلاحیت
تقریباً 30 ہزار بیرل بیس آئل یومیہ
زیادہ متاثر ہونے والے گریڈز
0W-8، 0W-16 اور 0W-20 سمیت کم گاڑھے پن والے سنتھیٹک آئل
سعودی عرب اور خلیج کی موجودہ صورتِ حال
وسیع پیمانے پر قلت کی تصدیق نہیں؛ قیمت اور مخصوص گریڈز کی دستیابی پر دباؤ کا امکان
overseaspost.net

تاہم ایرانی حملوں میں کمپلیکس کو نقصان پہنچنے کے بعد اس کی پیداواری صلاحیت کا اہم حصہ بند ہوگیا۔ 

بحرین کی بابکو ریفائنری اور متحدہ عرب امارات کی الرویس ریفائنری سمیت خطے کی دوسری تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

صنعتی اندازوں کے مطابق خلیج میں موجود 3 بڑی تنصیبات امریکا کی گروپ تھری بیس آئل کی درآمدات کا تقریباً 44 فیصد فراہم کرتی تھیں۔

عام حالات میں امریکا اس کمی کو جنوبی کوریا سے تیل درآمد کرکے پورا کرسکتا تھا، لیکن جنوبی کوریائی ریفائنریوں کو بھی خام تیل کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 

اس کے علاوہ ڈیزل اور طیاروں کے ایندھن میں زیادہ منافع کے باعث ریفائنریاں بیس آئل کے بجائے ان مصنوعات کی تیاری کو ترجیح دے رہی ہیں۔

نئے فارمولوں کی تیاری کی دوڑ

کار ساز کمپنیوں کے سامنے اب دو بڑے چیلنج ہیں: 

مطلوبہ مقدار میں تیل حاصل کرنا اور یہ یقینی بنانا کہ متبادل مصنوعات انجن کے لیے مقررہ تکنیکی معیار پر پوری اترتی ہوں۔

ٹویوٹا اور اسٹیلانٹس بعض نئے فارمولوں کی فراہمی یقینی بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں، جبکہ فولکس ویگن سمیت دوسری کمپنیاں نئے سپلائرز کے ساتھ کام کررہی ہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ تجزیہ کیوں اہم ہے؟

یہ بحران ظاہر کرتا ہے کہ چند خلیجی تنصیبات اور بحری راستوں میں رکاوٹ کس طرح دنیا بھر میں گاڑیوں کی دیکھ بھال کو متاثر کرسکتی ہے:

عام صارفموٹر آئل کی عالمی قیمت میں اضافہ گاڑی کی سروس، تیل کی تبدیلی اور بعض برانڈز کی دستیابی کو متاثر کرسکتا ہے۔
سپلائی چینگروپ تھری بیس آئل کی پیداوار چند بڑی تنصیبات میں مرکوز ہے، جبکہ آبنائے ہرمز ایک اہم بحری راستہ ہے۔
خلیجی منڈیاںخلیج پیداوار کا مرکز ہونے کے باوجود عالمی قیمت، اضافی کیمیائی مواد اور تقسیم کے بین الاقوامی نظام سے الگ نہیں۔
بنیادی تجزیہ: اثر سب سے پہلے مکمل سنتھیٹک آئل اور کم استعمال ہونے والے خصوصی گریڈز میں ظاہر ہوسکتا ہے؛ اس کا مطلب تمام موٹر آئل کا بازار سے غائب ہونا نہیں۔
overseaspost.net

تاہم صنعت سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ متبادل سپلائرز کی پیداواری صلاحیت محدود ہے۔ 

کسی ریفائنری کی مزید بندش یا بحری راستے میں نئی رکاوٹ بحران کو زیادہ سنگین بنا سکتی ہے۔

ٹویوٹا نے پہلے ہی اپنے ڈیلرز کو خبردار کیا تھا کہ انتہائی کم گاڑھے پن والے بعض موٹر آئل کی فراہمی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ 

کمپنی نے ڈیلرز کو عارضی طور پر استعمال کیے جانے والے منظور شدہ متبادل تیل سے متعلق ہدایات بھی فراہم کی ہیں۔ 

کچھ دوسری کمپنیوں نے بھی سروس سینٹرز کو فراہم کیے جانے والے مخصوص تیل کی مقدار محدود کرنا شروع کردی ہے۔

مارچ میں انڈیپنڈنٹ لبریکینٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ہنگامی اقدامات کی درخواست کی تھی، تاکہ تیل تیار کرنے والی کمپنیوں کو کارکردگی کے معیار برقرار رکھتے ہوئے فارمولوں میں عارضی تبدیلی کی اجازت دی جاسکے۔

تاہم ان اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی سستے یا غیر منظور شدہ تیل کو سنتھیٹک موٹر آئل کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

گاڑیوں کے مالکان پر کیا اثر پڑے گا؟

اس بحران کا مطلب یہ نہیں کہ بازار سے ہر قسم کا موٹر آئل ختم ہوجائے گا۔ 

اس کے اثرات بتدریج ان صورتوں میں سامنے آنے کا امکان ہے:

  • سنتھیٹک موٹر آئل اور تیل تبدیل کروانے کی لاگت میں اضافہ۔
  • بعض مخصوص گریڈ اور برانڈز کی عارضی قلت۔
  • سروس سینٹرز کی جانب سے رعایتوں اور خصوصی پیشکشوں میں کمی۔
  • جدید اور ہائبرڈ گاڑیوں کے مخصوص تیل کی فراہمی میں تاخیر۔
  • غیر معیاری یا جعلی تیل کی فروخت میں اضافے کا خطرہ۔
✓?OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟

مصدقہ نکات

  • فنانشل ٹائمز کے مطابق بڑی کار ساز کمپنیاں متبادل فارمولے اور سپلائرز استعمال کررہی ہیں۔
  • گروپ تھری بیس آئل کی قیمت یورپ اور امریکا میں تقریباً 4,000 ڈالر فی ٹن تک پہنچ چکی ہے۔
  • شیل کے مطابق پرل جی ٹی ایل روزانہ تقریباً 30 ہزار بیرل بیس آئل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • صنعتی اداروں نے محدود سپلائی کے باعث فارمولوں میں عارضی لچک کے لیے ہنگامی اقدامات مانگے ہیں۔

تاحال غیر واضح

  • متاثرہ خلیجی تنصیبات کب اپنی مکمل پیداواری صلاحیت بحال کریں گی؟
  • سعودی عرب میں ریٹیل قیمتوں پر اضافہ کب اور کتنی شرح سے منتقل ہوگا؟
  • مقامی مارکیٹ میں کون سے گریڈ یا برانڈز سب سے پہلے متاثر ہوں گے؟
  • متبادل سپلائرز عالمی طلب کو کتنی مدت تک پورا کرسکیں گے؟

اہم احتیاط: عالمی سپلائی کا دباؤ سعودی عرب میں ہر قسم کے موٹر آئل کی فوری قلت کا ثبوت نہیں۔ غیر منظور شدہ تیل استعمال نہ کریں اور گھبراہٹ میں ضرورت سے زیادہ ذخیرہ نہ کریں۔

overseaspost.net

بعض عالمی منڈیوں میں تیل کی قلت نے گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ 

جاپان میں مخصوص اقسام کے تیل کی فراہمی میں تاخیر کے بعد ٹیکسیوں کے آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

کیا خلیج بھی متاثر ہوگا؟

سعودی عرب یا دیگر خلیجی ممالک میں فی الحال موٹر آئل کی وسیع پیمانے پر قلت کے واضح شواہد موجود نہیں۔ 

تاہم تیل پیدا کرنے والا خطہ ہونے کے باوجود خلیجی منڈیاں بحران کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتیں۔

موٹر آئل کی حتمی تیاری میں بین الاقوامی سطح پر تیار ہونے والے کیمیائی اجزا، پیکنگ، برانڈز اور تقسیم کا نظام شامل ہوتا ہے۔ 

عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد سپلائرز زیادہ قیمت دینے والی منڈیوں کو ترجیح بھی دے سکتے ہیں۔

امکان ہے کہ خلیج میں بحران کے ابتدائی اثرات مکمل سنتھیٹک موٹر آئل اور کم استعمال ہونے والے مخصوص گریڈز پر ظاہر ہوں، جبکہ عام اور روایتی تیل نسبتاً آسانی سے دستیاب رہیں۔

گاڑیوں کے مالکان کو بڑی مقدار میں تیل ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ تیل تبدیل کرنے کی مقررہ تاریخ کو مؤخر نہیں کرنا چاہئے۔ 

ہمیشہ گاڑی کے ہدایت نامے میں درج گریڈ اور تکنیکی معیار کے مطابق تیل استعمال کیا جائے۔

اگر معمول کا تیل دستیاب نہ ہو تو ڈیلر یا گاڑی بنانے والی کمپنی سے منظور شدہ متبادل کی تصدیق ضروری ہے۔ 

صرف کم قیمت یا ملتے جلتے نام کی بنیاد پر مختلف تیل کا انتخاب انجن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یہ بحران ظاہر کرتا ہے کہ عالمی آٹو انڈسٹری چند مخصوص تنصیبات اور بحری راستوں پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ 

خلیج میں کسی ایک پلانٹ پر حملہ یا بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ بالآخر ہزاروں کلومیٹر دور موجود ایک عام گاڑی کی دیکھ بھال کو زیادہ مہنگا اور مشکل بنا سکتی ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

قیمت، پیداواری صلاحیت اور صنعتی ردِعمل کو الگ الگ اصل ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے؛ مقامی قلت سے متعلق غیر مصدقہ دعوے شامل نہیں کیے گئے۔

SOURCES • overseaspost.net