آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول سے بہت کم رہنے کے باعث عراقی تیل کی برآمدات دباؤ میں ہیں۔
بغداد نے خریداروں کو متوجہ کرنے کے لئے خام تیل پر 30 ڈالر فی بیرل تک رعایت دی، مگر ٹینکر مالکان بلند جنگی خطرات اور انشورنس اخراجات کے باعث خلیج میں داخل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایک بڑے ٹینکر کا کرایہ 23 سے 25 ملین ڈالر تک پہنچنے نے واضح کر دیا ہے کہ اب سستے تیل سے زیادہ اہم سوال اسے محفوظ طریقے سے منزل تک پہنچانے کی لاگت ہے۔
عراق کی جانب سے ایشیائی خریداروں کو بڑی رعایتوں کے باوجود خام تیل کی تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ اب خریدار نہیں بلکہ آئل ٹینکر بن گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت شدید کم ہے، جبکہ جنگی خطرات، مہنگی انشورنس اور ریکارڈ بحری کرایوں نے سستا تیل بھی مہنگا بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کا بحران اب صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سے نہیں ناپا جا رہا، بلکہ اس بات سے بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کتنے جہاز اس راستے سے گزرنے کے لئے تیار ہیں اور ٹینکر مالکان اس خطرناک سفر کے عوض کتنی بھاری رقم طلب کر رہے ہیں۔
- عراق بعض خام تیل کی کھیپوں پر 25 سے 30 ڈالر فی بیرل تک رعایت دے رہا ہے۔
- پیر سے جمعرات تک آبنائے ہرمز سے صرف 33 جہاز گزرے۔
- جنگ سے پہلے ہفتہ وار آمدورفت تقریباً 130 سے 140 جہاز تھی۔
- ریلائنس نے تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل کے لیے ٹینکر بک کیا۔
- ٹینکر کا کرایہ تقریباً 23 سے 25 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔
رائٹرز کی 7 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ایک بار پھر نمایاں طور پر کم ہوئی، جبکہ عراق اپنے خام تیل کو فروخت کرنے کے لیے 30 ڈالر فی بیرل تک رعایت دے رہا ہے۔
لیکن اب اصل مسئلہ تیل خریدنے والا تلاش کرنا نہیں، بلکہ اسے خلیج سے باہر لے جانے والا ٹینکر حاصل کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
صرف 33 جہاز، ہرمز ابھی معمول سے دور
گزشتہ پیر سے جمعرات تک آبنائے ہرمز سے صرف 33 جہاز گزرے، جبکہ اس سے گزشتہ ہفتے اسی مدت میں یہ تعداد 50 تھی۔
صرف گزشتہ جمعرات کو 4 جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے۔
جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے تقریباً 130 سے 140 جہاز فی ہفتہ گزرتے تھے۔
موجودہ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ راستہ تکنیکی طور پر کھلا ہونے کے باوجود تجارتی جہاز رانی اب بھی معمول پر واپس نہیں آئی۔
یہ فرق اہم ہے۔
کسی آبی راستے کا کھلا ہونا اور جہاز مالکان و انشورنس کمپنیوں کا اسے محفوظ سمجھنا دو الگ چیزیں ہیں۔
جب تک بحری کمپنیوں کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کے جہاز محفوظ طریقے سے اندر جا کر تیل لوڈ کر سکتے ہیں اور واپس نکل سکتے ہیں، محض سیاسی اعلانات تجارت کو معمول پر نہیں لا سکتے۔
عراق نے قیمت کا ہتھیار استعمال کیا
بحران کے دوران عراق نے خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے قیمتوں میں غیر معمولی رعایت دی ہے۔
عراق کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی سومو SOMO نے اگست کی بعض کھیپوں کے لئے بصرہ میڈیم اور بصرہ ہیوی خام تیل کو دبئی کے بینچ مارک کے مقابلے میں تقریباً 25 سے 30 ڈالر فی بیرل رعایت پر پیش کیا۔
یہ رعایت خصوصاً چین اور بھارت کی بڑی ریفائنریوں کے لئے پرکشش ہے، کیونکہ دونوں ممالک عراقی خام تیل کے بڑے خریدار ہیں۔
مگر یہاں ایک بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے:
عراق تیل کی قیمت کم کر سکتا ہے، لیکن کسی ٹینکر مالک کو خطرناک سمندری علاقے میں داخل ہونے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اگر یہاں سے تیل کی ترسیل مہنگی یا غیر یقینی ہو جائے تو اثر صرف عراق یا خلیج تک محدود نہیں رہتا۔ ایشیائی ریفائنریوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، انشورنس مہنگی ہو سکتی ہے اور عالمی تیل قیمتوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے بعض ممکنہ سودے خریدار موجود ہونے کے باوجود صرف اس لئے آگے نہیں بڑھ سکے کیونکہ ٹینکر دستیاب نہیں تھے یا ان کے مالکان بہت زیادہ کرایہ طلب کر رہے تھے۔
25 ملین ڈالر کا ایک سفر
اس بحران کی سب سے نمایاں مثال بھارت کی ریلائنس انڈسٹریز کا سودا ہے۔
کمپنی نے تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لے جانے کے لئے ایک بہت بڑا آئل ٹینکر بک کیا، مگر اس کا کرایہ تقریباً 23 سے 25 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔
یہ لاگت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
اسی نوعیت کے سفر کا کرایہ پہلے تقریباً دو ملین ڈالر کے قریب تھا۔
ہرمز بحران نے ایک بار پھر متبادل تیل برآمدی راستوں کی اہمیت نمایاں کر دی ہے۔
یعنی آج تیل کا خریدار صرف خام تیل کی قیمت نہیں ادا کر رہا، بلکہ اسے جہاز کے کرائے، جنگی خطرات اور انشورنس کی بھاری لاگت بھی برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عراق کی جانب سے 25 یا 30 ڈالر فی بیرل رعایت کا بڑا حصہ صارف یا ریفائنری کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقل و حمل کے اخراجات میں ختم ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال نے عالمی تیل تجارت کا بنیادی حساب بدل دیا ہے۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ تیل کتنے ڈالر فی بیرل مل رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے ریفائنری تک پہنچانے میں مجموعی لاگت کتنی آئے گی۔
انشورنس بھی تیل کی قیمت کا حصہ بن گئی
ہرمز بحران کے بعد جنگی خطرات کی انشورنس لاگت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔
S&P Global کے مطابق بعض مراحل میں جنگی خطرات کے انشورنس پریمیم میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
بڑے آئل ٹینکر کی قیمت 100 سے 150 ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے، اس لئے ایک خطرناک سفر کے لئے انشورنس کی اضافی لاگت بھی کئی ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
عراق کے پاس تیل موجود ہے، خریدار بھی موجود ہیں اور قیمت پر 30 ڈالر فی بیرل تک رعایت بھی دی جا رہی ہے۔
پھر بھی خام تیل کی ترسیل مشکل ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں جنگی خطرات نے ٹینکر کم اور بحری کرائے کئی گنا مہنگے کر دیے ہیں۔
ایک بڑے آئل ٹینکر کا سفر تقریباً 23 سے 25 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ٹینکر مالک اب 3 باتیں دیکھتا ہے:
جہاز پر حملے کا خطرہ، انشورنس کی قیمت، اور یہ امکان کہ آیا جہاز تیل لوڈ کرنے کے بعد بحفاظت خلیج سے باہر نکل سکے گا۔
اگر خطرہ زیادہ ہو تو سستا ترین تیل بھی جہاز مالک کو سفر پر آمادہ نہیں کر سکتا۔
عراق زیادہ متاثر کیوں؟
عراق کی زیادہ تر جنوبی تیل برآمدات آبنائے ہرمز پر منحصر ہیں، اسی لئے بحران نے بغداد کو دیگر خلیجی تیل پیدا کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
اگر جہازوں کی کمی جاری رہی تو عراق کو یا تو مزید رعایت دینا پڑے گی یا برآمدات اور پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے۔
اس کا براہ راست اثر سرکاری آمدن پر پڑے گا، کیونکہ عراقی معیشت کا بڑا حصہ تیل کی آمدنی پر منحصر ہے۔
بغداد متبادل راستوں اور پائپ لائنوں پر بھی کام کر رہا ہے، لیکن فی الحال وہ جنوبی بندرگاہوں کی مکمل صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتے۔
چین اور بھارت کے لیے موقع بھی، خطرہ بھی
بھارت اور چین کے لئے عراقی تیل کی بڑی رعایت ایک اہم تجارتی موقع ہے۔
لیکن اگر بحری کرایہ، انشورنس اور جنگی خطرات کے اخراجات بڑھ جائیں تو سستا عراقی تیل آخرکار اتنا سستا نہیں رہتا۔
اسی لئے ایشیائی ریفائنریاں اب صرف فی بیرل قیمت نہیں دیکھ رہیں، بلکہ پورے سفر کی مجموعی لاگت کا حساب کر رہی ہیں۔
اس سے عالمی تیل تجارت کے روایتی راستوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
مستقبل میں خریدار یہ بھی دیکھیں گے کہ تیل کہاں سے آ رہا ہے اور اسے لانے والا راستہ کتنا محفوظ ہے۔
سعودی عرب اور امارات نسبتاً بہتر پوزیشن میں
ہرمز بحران نے ایسے متبادل توانائی راستوں کی اہمیت بھی نمایاں کر دی ہے جو آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے پاس مشرقی علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچانے کے لئے پائپ لائن نیٹ ورک موجود ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات فجیرہ کے ذریعے ہرمز کے باہر سے تیل برآمد کر سکتا ہے۔
یہ متبادل راستے دونوں ممالک کو مکمل طور پر بحران سے محفوظ نہیں بناتے، مگر عراق کے مقابلے میں انہیں زیادہ لچک فراہم کرتے ہیں۔
اصل اشارہ قیمت نہیں، جہاز ہیں
7 اگست کو خام برینٹ کی قیمت دوبارہ 83 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جبکہ بعض بینکوں نے آنے والی سہ ماہی کے لئے قیمتوں کے اندازے بھی بڑھائے ہیں۔
لیکن ہرمز بحران کے خاتمے کا اصل اشارہ شاید تیل کی قیمت نہیں بلکہ جہاز ہوں گے۔
جب آئل ٹینکر دوبارہ معمول کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے لگیں، انشورنس پریمیم کم ہوں اور بحری کرایوں میں نمایاں کمی آئے، تب کہا جا سکے گا کہ بحران واقعی ختم ہونے لگا ہے۔
فی الحال صورتحال اس کے برعکس ہے۔
عراق 30 ڈالر فی بیرل تک رعایت دے رہا ہے، خریدار موجود ہیں، مگر تیل لے جانے والے جہاز نایاب اور انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں۔
یہی وہ حقیقت ہے جو بتاتی ہے کہ ہرمز بحران نے عالمی تیل منڈی میں قیمت سے زیادہ نقل و حمل اور رسائی کو اہم بنا دیا ہے۔