براہ راست نشریات

دو آبنائیں اور اسمگل شدہ تیل، پاکستان کا ایندھن کتنا محفوظ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
پاکستان پٹرولیم ذخائر

پاکستان اپنی تیل اور مائع قدرتی گیس کی درآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر غیر معمولی انحصار رکھتا ہے، جبکہ باب المندب میں بڑھتے خطرات نے سعودی تیل کے متبادل راستے کو بھی طویل اور مہنگا بنا دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں استعمال ہونے والا اسمگل شدہ ایرانی ایندھن جنگ کے دوران ناقابلِ اعتماد ثابت ہوا۔
اب حکومت 45 دن کا اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرہ قائم کرکے اسے بعد میں 90 دن تک بڑھانا چاہتی ہے، مگر مالی وسائل، محدود بندرگاہی سہولتیں اور ذخیرہ کرنے کی ناکافی صلاحیت بڑی رکاوٹیں ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش براہِ راست رسد کے لیے خطرہ، باب المندب میں بدامنی متبادل سمندری سفر کو طویل اور مہنگا بنا رہی ہے، جبکہ اسمگل شدہ ایرانی ایندھن پر انحصار نے پاکستان کی توانائی سلامتی کی کمزوریاں بے نقاب کر دی ہیں

OVERSEAS POST  |  PREMIUM ECONOMIC REPORT

کوئٹہ کے مضافات میں واقع ایک چھوٹے سے پٹرول اسٹیشن پر اسمگل شدہ ایرانی پٹرول کی فی لیٹر قیمت چند ہی دنوں میں 160 روپے سے بڑھ کر 255 روپے ہوگئی، جبکہ کچھ وقت کے لیے یہ 300 روپے تک بھی جا پہنچی۔ 

یہ اضافہ پاکستانی حکومت کے کسی نئے ٹیکس کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایران میں جنگ، سرحدی بندش اور اس غیر قانونی نیٹ ورک میں تعطل کا اثر تھا، جو برسوں سے بلوچستان کی ایندھن کی ضروریات کا ایک حصہ پورا کرتا آیا ہے۔

دوسری جانب، سینکڑوں کلومیٹر دور ایشیائی منڈیوں کی طرف جانے والے تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز اور باب المندب کے خطرات سے بچنے کے لیے اپنے راستے تبدیل کر رہے تھے۔ 

یوں پاکستان کو بیک وقت 3 خطرات کا سامنا ہوگیا: 

ایک ایسا براہِ راست سمندری راستہ جو کسی بھی وقت بند ہوسکتا ہے، ایک متبادل راستہ جو اب طویل اور مہنگا ہوچکا ہے اور ایران سے آنے والا اسمگل شدہ ایندھن، جسے بحران کے وقت قابلِ اعتماد قومی سہارا نہیں سمجھا جاسکتا۔

مزید پڑھیں

اسی جھٹکے نے اسلام آباد کو ملک کا پہلا حقیقی اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرہ قائم کرنے کے منصوبے میں تیزی لانے پر مجبور کیا ہے۔ 

پاکستان اس معاملے میں تنہا نہیں، بھارت اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ترقی پذیر ممالک بھی آئندہ بحران سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔

پاکستان کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد 

آبنائے ہرمز سے گزر کر ملک تک پہنچتا ہے۔ 

اتنے بڑے انحصار کے باوجود پاکستان کے پاس ابھی تک کوئی الگ اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو موجود نہیں۔ 

ملک بنیادی طور پر آئل ریفائنریوں اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے تجارتی ذخائر پر انحصار کرتا ہے، جو معمول کے حالات میں مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رکھے جاتے ہیں۔

◆ اہم نکات +
  • پاکستان کی تیل اور ایل این جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
  • ملک کے پاس ابھی تک الگ اور مکمل اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرہ موجود نہیں۔
  • حکومت پہلے مرحلے میں 45 دن اور بعد میں 90 دن کا ذخیرہ قائم کرنا چاہتی ہے۔
  • کپلر کے مطابق تقریباً 36 فیصد پاکستانی خام تیل درآمدات باب المندب سے گزرتی ہیں۔
  • متبادل سمندری سفر 19 دن سے بڑھ کر 48 دن تک پہنچ سکتا ہے۔
  • جنگ کے دوران اسمگل شدہ ایرانی ایندھن کی رسد بھی ناقابلِ اعتماد ثابت ہوئی۔

تجارتی اور اسٹریٹجک ذخیرے میں بنیادی فرق ہے۔ 

تجارتی ذخیرہ روزمرہ کاروباری سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے اور تیزی سے کم ہوسکتا ہے، جبکہ اسٹریٹجک ذخیرہ ریاست کے کنٹرول میں رہتا ہے اور اسے جنگ، ناکہ بندی یا رسد میں شدید تعطل کے وقت ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

حکومت پہلے مرحلے میں 45 دن کی ضروریات پوری کرنے والا ذخیرہ قائم کرنا چاہتی ہے، جسے بعد میں بڑھا کر 90 دن تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ 

اس کے علاوہ جون 2028 تک ریفائنریوں کو 15 دن کے خام تیل اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 30 دن کی تیار پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ رکھنے کا پابند بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

باب المندب نے متبادل راستہ بھی خطرے میں ڈال دیا

اب مسئلہ صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا۔ 

خلیج میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا بڑا حصہ مشرقی علاقوں سے بحرِ احمر کے ساحلی شہر ینبع تک پہنچانے والی پائپ لائن کی طرف منتقل کیا۔ 

توقع تھی کہ یہ راستہ ہرمز سے گزرے بغیر پاکستان اور دیگر ایشیائی منڈیوں کو تیل فراہم کرنے کا محفوظ متبادل بن سکے گا۔

▦ فیکٹ باکس +
ابتدائی ذخیرہ45 دن
طویل مدتی ہدف90 دن
ہرمز سے وابستہ درآمدات90 فیصد تک
باب المندب سے خام تیلتقریباً 36 فیصد
ریفائنریوں کا مجوزہ ذخیرہ15 دن کا خام تیل
مارکیٹنگ کمپنیوں کا ذخیرہ30 دن کی مصنوعات
متبادل سمندری سفر19 سے 48 دن
مجوزہ سالانہ فنڈتقریباً 70 کروڑ ڈالر

تاہم حوثیوں کے حملوں اور سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے باب المندب کو بھی ایک خطرناک بحری گزرگاہ بنا دیا ہے۔ 

الجزیرہ کی جانب سے شائع کردہ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تقریباً 36 فیصد خام تیل کی درآمدات اس راستے سے گزرتی ہیں۔ 

اس کا مطلب ہے کہ پاکستان آبنائے ہرمز اور باب المندب، دونوں میں پیدا ہونے والے بحران سے براہِ راست متاثر ہوسکتا ہے۔

نقشے پر دستیاب متبادل راستہ تقریباً نصف دنیا کا الٹا چکر دکھائی دیتا ہے۔ 

تیل بردار جہاز ینبع سے شمال کی جانب نہر سویز پہنچتا ہے، پھر بحیرۂ روم اور آبنائے جبل الطارق عبور کرنے کے بعد افریقہ کے انتہائی جنوبی سرے رأس الرجاء الصالح کا چکر کاٹ کر دوبارہ مشرق کی جانب ایشیا کا رخ کرتا ہے۔

2222222222222222222222222222

ینبع سے باب المندب کے راستے ایشیا پہنچنے میں عام طور پر تقریباً 19 دن لگتے ہیں، مگر طویل متبادل راستے پر یہی سفر 48 دن تک بڑھ جاتا ہے۔ 

جہاز کے ایندھن کی لاگت بھی تقریباً دوگنا ہوکر 12 لاکھ 60 ہزار ڈالر سے 28 لاکھ 70 ہزار ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ نہر سویز سے گزرنے کے لیے مزید تقریباً 10 لاکھ ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔

آخرکار یہ اضافی اخراجات درآمدی بل میں شامل ہوتے ہیں اور پھر ان کا بوجھ پٹرول، ڈیزل، بجلی، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی صورت میں عام صارف کو اٹھانا پڑتا ہے۔

ایرانی ایندھن، سائے میں موجود غیر سرکاری ذخیرہ

سرکاری درآمدات کے ساتھ پاکستان میں ایک متوازی معیشت بھی قائم ہے، جس کا انحصار ایران سے زمینی راستوں کے ذریعے لائے جانے والے اسمگل شدہ پٹرول اور ڈیزل پر ہے۔ 

یہ ایندھن تقریباً 909 کلومیٹر طویل پاکستان ایران سرحد سے بلوچستان پہنچتا اور پھر صوبے کے مختلف علاقوں سمیت سندھ کے بعض حصوں میں فروخت ہوتا ہے۔

! یہ کیوں اہم ہے؟ +

تیل کی رسد میں تعطل صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات بجلی، نقل و حمل، صنعت، زراعت، خوراک اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز تک پہنچتے ہیں۔

محدود زرمبادلہ رکھنے والے پاکستان کے لیے مہنگا تیل درآمدی بل، مہنگائی، روپے کی قدر اور سرکاری بجٹ پر بیک وقت دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرہ اب محض ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ قومی معاشی سلامتی کی ضرورت ہے۔

اس غیر قانونی کاروبار کے حقیقی حجم کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں۔ 

2024 میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 50 سے 60 لاکھ لیٹر ایرانی ایندھن پاکستان میں داخل ہورہا تھا، جبکہ پرانے اندازوں میں یہ مقدار ڈیڑھ سے دو کروڑ لیٹر یومیہ تک بتائی گئی تھی۔

2023 میں پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں فروخت ہونے والے ڈیزل کا 35 فیصد تک حصہ ایران سے غیر قانونی طور پر آتا ہے۔ 

تاہم یہ شعبے سے وابستہ تنظیم کا اندازہ تھا، کوئی حتمی سرکاری شمار نہیں۔

سستے ایرانی ایندھن نے سرحدی علاقوں کے لاکھوں باشندوں کو روزگار فراہم کیا، لیکن اس کاروبار کے باعث حکومت کو محصولات کا نقصان، مقامی ریفائنریوں کو فروخت میں کمی اور قانونی پٹرول پمپوں کو غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔

PK پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟ +

پاکستان کو صرف عالمی منڈی سے تیل خریدنے کے بجائے اسے محفوظ رکھنے کی قومی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ اس کے لیے بڑے ذخیرہ مراکز، جدید بندرگاہی سہولتیں، پائپ لائنیں، بہتر ریفائنریاں اور واضح ہنگامی پالیسی درکار ہے۔

منصوبہ بروقت مکمل نہ ہونے کی صورت میں کسی نئے علاقائی بحران کے دوران پاکستان کو مہنگی فوری خریداری، ایندھن کی راشن بندی، صنعتی پیداوار میں کمی اور بجلی کی بندش کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایران میں جنگ شروع ہوئی تو اسمگلنگ کی رفتار کم ہوگئی، قیمتیں بڑھ گئیں اور ایندھن منتقل کرنے والے کئی افراد خالی ڈبے لیے روزگار کی تلاش میں رہ گئے۔ 

اس صورتِ حال نے ثابت کردیا کہ اسمگل شدہ ایرانی ایندھن معمول کے دنوں میں مقامی قلت کم کرسکتا ہے، لیکن اسے منظم قومی ذخیرے کا متبادل نہیں بنایا جاسکتا۔

اصل رکاوٹ پیسہ ہے

حکومت نے اسٹریٹجک ذخیرے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر پہلے سے عائد لیوی میں سے فی لیٹر 10 روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ 

اندازہ ہے کہ اس طریقے سے سالانہ تقریباً 70 کروڑ ڈالر جمع ہوسکتے ہیں۔

منصوبے کا مجوزہ خاکہ سعودی آرامکو، ادنوک، کویت پٹرولیم کارپوریشن، قطر انرجی، پیٹرو چائنا اور عالمی تجارت و ذخیرہ کاری کی بڑی کمپنیوں کو بھی فراہم کیا گیا ہے۔

₨ عام پاکستانی کیسے متاثر ہوگا؟ +
  • طویل سمندری راستے سے پٹرول اور ڈیزل کی درآمدی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
  • بسوں، ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
  • بجلی کی پیداوار اور صنعتی مصنوعات مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔
  • زرعی اجناس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا۔
  • ذخیرہ بنانے کی لاگت صارفین پر منتقل ہوئی تو پٹرولیم لیوی بڑھ سکتی ہے۔
  • شدید بحران میں ایندھن کی راشن بندی یا دستیابی میں کمی کا خدشہ ہوگا۔

تاہم وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک تسلیم کرچکے ہیں کہ ذخائر قائم کرنا ’کہنے میں آسان، کرنے میں مشکل‘ ہے۔ 

آئی ایم ایف پروگرام کی پابندیوں میں جکڑے ملک کو لاکھوں بیرل تیل خریدنے، نئے ذخیرہ مراکز، پائپ لائنیں اور بندرگاہی سہولتیں تعمیر کرنے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کا مالی بوجھ پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ صارفین پر نہ پڑے۔

موجودہ بحران نے ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کی توانائی سلامتی ایسے جہاز پر منحصر نہیں رہ سکتی جو آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوجائے، باب المندب میں حملے سے بچ نکلے یا ایران سے اسمگل شدہ ایندھن سرحد پار پہنچا دے۔

اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرے کی ضرورت ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسے اگلا بحران آنے سے پہلے تعمیر کرسکے گا، یا ایندھن کا راستہ اس کی معیشت کی برداشت سے زیادہ طویل ہوجائے گا؟

🛢️

اصل اور بنیادی ذرائع

پاکستان کے اسٹریٹجک تیل ذخائر، ہرمز و باب المندب کے خطرات، طویل بحری راستوں اور ایرانی ایندھن کی غیر قانونی تجارت سے متعلق بنیادی ذرائع

7 بنیادی ذرائع
پاکستان کا اسٹریٹجک تیل ذخیرہ
Reuters — پاکستان کا اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرہ قائم کرنے کا منصوبہ
پاکستان کی تیل و ایل این جی درآمدات کے آبنائے ہرمز پر شدید انحصار، اسٹریٹجک ذخیرے کی عدم موجودگی اور مجوزہ تقریباً 70 کروڑ ڈالر سالانہ فنڈ سے متعلق بنیادی رپورٹ۔
مرکزی بنیادی رپورٹ
اصل رپورٹ ↗
Financial Times — ہنگامی ایندھن ذخائر کی عالمی دوڑ
پاکستان، بھارت اور جنوبی افریقا سمیت ترقی پذیر معیشتوں کی جانب سے توانائی کے ہنگامی ذخائر قائم کرنے اور جغرافیائی خطرات سے تحفظ کی کوششوں کا وسیع جائزہ۔
عالمی معاشی پس منظر
اصل رپورٹ ↗
ہرمز، باب المندب اور مہنگا متبادل راستہ
Reuters — ہرمز اور باب المندب سے بچنے والے طویل راستے کی قیمت
متبادل راستے سے تیل بردار جہاز کا سفر تقریباً 19 دن سے بڑھ کر 48 دن تک ہوسکتا ہے، جبکہ ایندھن، انشورنس اور دیگر بحری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
شپنگ لاگت
اصل تجزیہ ↗
Reuters — سعودی تیل کے لیے متبادل بحری راستوں کی تلاش
حوثی خطرات کے بعد ایشیائی خریداروں کی جانب سے ینبع، نہر سویز، بحیرۂ روم اور افریقا کے گرد طویل راستوں کے ذریعے سعودی تیل حاصل کرنے کے امکانات کا جائزہ۔
متبادل سپلائی روٹ
اصل رپورٹ ↗
Al Jazeera — باب المندب کی بندش سے پاکستان کو لاحق خطرہ
Kpler کے اعدادوشمار کی بنیاد پر پاکستان کی خام تیل درآمدات کے ایک قابلِ ذکر حصے کے باب المندب سے وابستہ ہونے اور راستہ متاثر ہونے کی صورت میں ممکنہ خطرات کی وضاحت۔
تجارتی و علاقائی تجزیہ
اصل رپورٹ ↗
ایرانی ایندھن اور پاکستان کی غیر رسمی مارکیٹ
Arab News — بلوچستان میں ایرانی ایندھن کی غیر قانونی تجارت پر جنگ کے اثرات
کوئٹہ سے زمینی رپورٹنگ میں ایرانی ایندھن کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں روزگار اور مقامی معیشت پر پڑنے والے اثرات کی تفصیل۔
زمینی رپورٹ
اصل رپورٹ ↗
Reuters — پاکستان میں ایرانی ایندھن کی اسمگلنگ کا حجم
پٹرولیم ڈیلرز کے دعوؤں، سرکاری تخمینوں اور محصولات کے نقصان کی روشنی میں پاکستانی مارکیٹ میں غیر قانونی ایرانی ڈیزل اور پٹرول کے اثرات کا جائزہ۔
پس منظر اور مارکیٹ ڈیٹا
اصل رپورٹ ↗
90% پاکستان کی تیل و ایل این جی درآمدات کا ہرمز سے وابستہ ہونے کا رپورٹ شدہ تخمینہ
19 → 48 دن بعض متبادل بحری راستوں پر سفر کا ممکنہ دورانیہ
$700 ملین مجوزہ سالانہ اسٹریٹجک ذخیرہ فنڈ
اس رپورٹ کے سب سے اہم بنیادی ذرائع: Reuters پاکستان کے اسٹریٹجک تیل ذخیرے، ہرمز و باب المندب سے بچنے کے اضافی اخراجات، سعودی تیل کے متبادل راستوں اور ایرانی ایندھن کی غیر رسمی پاکستانی مارکیٹ کے بارے میں بنیادی حقائق زیادہ تر Reuters کی رپورٹنگ سے آتے ہیں۔ Financial Times، Al Jazeera اور Arab News عالمی، علاقائی اور زمینی پس منظر فراہم کرتے ہیں۔
اہم صحافتی احتیاط: باب المندب سے وابستہ پاکستانی خام تیل درآمدات کا تقریباً 36 فیصد تخمینہ Kpler کے ڈیٹا پر مبنی ثانوی رپورٹنگ سے آتا ہے، جبکہ ایرانی ایندھن کی اسمگلنگ کے حجم سے متعلق مختلف تخمینے سرکاری اعداد، صنعت اور پٹرولیم ڈیلرز کے دعوؤں میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ان اعداد کو قطعی حقیقت کے بجائے “تخمینے کے مطابق” لکھنا زیادہ درست ہوگا۔
ادارتی نوٹ: اس رپورٹ میں Reuters کو مرکزی بنیادی ماخذ بنایا گیا ہے، خصوصاً پاکستان کے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخیرے، ہرمز و باب المندب کے متبادل راستوں اور غیر قانونی ایرانی ایندھن سے متعلق دعوؤں کے لیے۔ Financial Times سے ہنگامی ذخائر کی عالمی دوڑ، Al Jazeera سے پاکستان پر باب المندب کے ممکنہ اثرات اور Arab News سے بلوچستان میں ایرانی ایندھن کی قلت کے زمینی اثرات کا پس منظر شامل کیا گیا ہے۔ SOURCES • overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے