بعض فزیکل خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ بحیرۂ احمر اور اہم سمندری گزرگاہوں میں خطرات نے تیل کی ترسیل کو مہنگا اور سست کر دیا ہے۔
سعودی عرب اپنی ایسٹ، ویسٹ پائپ لائن، ینبع، سومید اور سیدی کریر کے ذریعے متبادل راستے استعمال کر سکتا ہے، لیکن ایشیا جانے والی بعض کھیپوں کو تقریباً ایک ماہ اضافی سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب تیل کی منڈی میں سوال صرف یہ نہیں رہا کہ دنیا کتنا خام تیل پیدا کر رہی ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہوگیا ہے کہ ایک بیرل خریدار تک کیسے پہنچے گا اور اس پر کتنی اضافی لاگت آئے گی۔ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے خطرات کے درمیان سعودی عرب اپنی متبادل برآمدی راہداریوں کو زیادہ فعال انداز میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ بعض فزیکل خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
تیل کی عالمی تجارت میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خام تیل موجود ہو، ریفائنری اسے خریدنے کے لیے تیار ہو اور ٹینکر بھی دستیاب ہو، لیکن پھر بھی سودا مشکل اور مہنگا ہوجائے، صرف اس لیے کہ پیداوار کے مقام اور خریدار کے درمیان سمندری راستہ اب محفوظ یا سیدھا نہیں رہا۔
اس وقت عالمی توانائی منڈی میں یہی کہانی سامنے آرہی ہے۔
24 جولائی 2026 کو ڈیٹڈ برینٹ Dated Brent، جو فزیکل آئل مارکیٹ میں ایک اہم بینچ مارک سمجھا جاتا ہے، تقریباً 105.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ شمالی سمندر کے خام تیل فورٹیز Forties کی قیمت تقریباً 108.77 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اس طرح فوری ترسیل کے لیے فروخت ہونے والے بعض حقیقی خام تیل 110 ڈالر کے قریب پہنچ گئے۔
مزید پڑھیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز برینٹ کے فیوچر معاہدے 96.78 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، اگرچہ ہفتہ وار بنیاد پر قیمت اب بھی خاصی بلند رہی۔
دونوں قیمتوں کے درمیان یہ فرق ایک اہم حقیقت بیان کرتا ہے: منڈی صرف مستقبل میں تیل مہنگا ہونے کا خطرہ نہیں خرید رہی، بلکہ ایسے بیرل کے لیے زیادہ قیمت ادا کررہی ہے جو ابھی دستیاب ہو، صحیح مقام
پر موجود ہو اور غیرمعمولی تاخیر کے بغیر ریفائنری تک پہنچ سکے۔
پیداوار کا بحران نہیں، رسائی کا بحران
گزشتہ کئی دہائیوں میں تیل کی منڈی کے بڑے خدشات عموماً کنوؤں کی بندش، پابندیوں یا جنگ کے باعث پیداواری تنصیبات متاثر ہونے سے جڑے رہے ہیں۔
لیکن موجودہ بحران ایک مختلف قسم کا خطرہ سامنے لا رہا ہے۔
فیکٹ باکس +
سعودی تیل اب بھی پیدا کیا جاسکتا ہے اور اسے برآمد بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتے خطرات نے سعودی عرب کو مغربی ساحل کے استعمال پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کیا، جبکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بڑھتی کشیدگی نے اس متبادل راستے کو بھی زیادہ پیچیدہ بنادیا ہے۔
نتیجتاً سعودی تیل کی تجارت ایک غیرمعمولی صورت حال سے دوچار ہے:
مشرقی سمندری خطرات سے بچنے کے لیے تیل کو مغرب منتقل کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر اس کی آخری منزل ایشیا ہو تو اسے دوبارہ ایک بہت طویل راستے سے واپس مشرق کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
رائٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے بحری حسابات کے مطابق ینبع سے ایشیا تک باب المندب کے راستے سفر تقریباً 19 دن میں مکمل ہوسکتا ہے، لیکن متبادل راستے اختیار کرنے کی صورت میں، بحیرۂ روم، جبل الطارق اور پھر کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد سفر کرتے ہوئے یہ مدت تقریباً 48 دن تک پہنچ سکتی ہے۔
یعنی ایک شپمنٹ کی بحری مسافت میں تقریباً ایک پورا مہینہ مزید شامل ہوسکتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ، تیل کی قیمت کا حصہ بن جاتا ہے۔
خطرے سے بچنے کی قیمت لاکھوں ڈالر
اضافی مہینہ صرف وقت کا مسئلہ نہیں۔
ٹینکر کو مزید ایندھن درکار ہوتا ہے، عملے اور انشورنس کی لاگت بڑھتی ہے، سرمایہ زیادہ عرصے تک پھنسا رہتا ہے اور وہی ٹینکر اگلی شپمنٹ کے لیے بھی دیر سے دستیاب ہوتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
رائٹرز کے مطابق ایسے طویل سفر میں صرف ایندھن کی لاگت تقریباً 1.26 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2.87 ملین ڈالر تک جاسکتی ہے، جبکہ راستے، جہاز کے حجم، انشورنس اور دیگر فیسوں کے مطابق اضافی اخراجات الگ ہوتے ہیں۔
اس دباؤ کی ایک نمایاں مثال جنوبی کوریا کی SK Energy ہے، جس نے تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل مصر کے سیدی کریر بندرگاہ سے اولسان منتقل کرنے کے لیے ایک وی ایل سی سی ٹینکر تقریباً 18.5 ملین ڈالر میں چارٹر کیا۔
یہ 18.5 ملین ڈالر صرف اضافی لاگت نہیں، بلکہ پوری شپنگ ڈیل کی قیمت ہے، تاہم یہ واضح کرتا ہے کہ صرف ایک تیل کی کھیپ کو مطلوبہ مقام تک پہنچانے کے لیے اب کتنی بڑی رقم درکار ہوسکتی ہے۔
اگر یہی صورتحال درجنوں ٹینکروں پر لاگو ہوجائے تو مسئلہ ایک جہاز یا ایک شپمنٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری عالمی شپنگ مارکیٹ پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
کیونکہ جو ٹینکر 19 کے بجائے 48 دن مصروف رہے گا، وہ اسی دوران دوسری شپمنٹ نہیں کرسکے گا۔
یوں کسی ٹینکر کے ڈوبے یا تباہ ہوئے بغیر ہی عالمی مارکیٹ میں دستیاب بحری گنجائش عملی طور پر کم ہوجاتی ہے۔
آرامکو نے بحیرۂ روم کا راستہ فعال کردیا
اس پیچیدہ صورتحال میں سعودی عرب کی ایک بڑی طاقت نمایاں ہو رہی ہے:
متنوع برآمدی انفرااسٹرکچر اور متبادل راستے۔
رائٹرز نے 23 جولائی کو پانچ تجارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی آرامکو نے مصر کی سیدی کریر بندرگاہ سے اضافی خام تیل کی کھیپیں فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
یہ تیل پہلے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع عین السخنہ پہنچتا ہے، جہاں سے اسے سومید پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ روم کے ساحل پر سیدی کریر منتقل کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
اس لچک سے سپلائی جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے، تاہم متبادل راستوں کا استعمال زیادہ شپنگ اخراجات، انشورنس اور طویل ڈیلیوری کے باعث مہنگا پڑ سکتا ہے۔ یعنی سعودی عرب کے لیے بلند تیل قیمتیں فائدہ دے سکتی ہیں، مگر لاجسٹک لاگت میں اضافہ ایک نیا چیلنج ہے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ اضافی مقداریں اسپاٹ مارکیٹ میں بھی پیش کی گئیں، تاہم آرامکو نے اس پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا اور اضافی مقداروں یا ان کی قیمت کی مکمل تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے مستقل پالیسی میں تبدیلی نہیں کہا جاسکتا، لیکن یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ موجودہ انفرااسٹرکچر آرامکو کو خطرے کی سطح کے مطابق ڈیلیوری پوائنٹ تبدیل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
یہ نیٹ ورک بحران سے پہلے بنایا گیا تھا
سعودی عرب کی یہ برتری اچانک پیدا نہیں ہوئی۔
آرامکو کے مطابق ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن، جو سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کو مغربی ساحل سے جوڑتی ہے، تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ تک خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کو خلیج اور آبنائے ہرمز پر مکمل انحصار سے بچاتی ہے اور بڑی مقدار میں خام تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل تک منتقل کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
اسی طرح آرامکو سومید پائپ لائن میں 15 فیصد حصص رکھتی ہے، جو عین السخنہ کو سیدی کریر سے جوڑتی ہے اور خلیجی تیل کو بحیرۂ روم تک پہنچانے کا ایک اہم راستہ مہیا کرتی ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق سومید کی گنجائش تقریباً 25 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔
یوں ایک مکمل متبادل برآمدی زنجیر بنتی ہے:
سعودی عرب کا مشرقی علاقہ → ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن → ینبع → عین السخنہ → سومید → سیدی کریر → عالمی منڈیاں
یہ ہمیشہ سب سے سستا راستہ نہیں، لیکن بحران میں یہی راستہ برآمدات کو جاری رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
مگر اصل مسئلہ ایشیا ہے
یہاں سعودی برآمدی حکمت عملی کی سب سے بڑی پیچیدگی سامنے آتی ہے۔
ایشیا، خلیجی اور سعودی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
اگر کوئی شپمنٹ سیدی کریر کے ذریعے بحیرۂ روم تک پہنچ جائے تو وہ یورپی مارکیٹ کے نسبتاً قریب ہوجاتی ہے، مگر جاپان، جنوبی کوریا اور چین سے بہت دور چلی جاتی ہے۔
اگر وہی تیل دوبارہ ایشیا لے جانا ہو اور باب المندب کے خطرات سے بھی بچنا ہو تو ٹینکر کو بحیرۂ روم سے مغرب کی طرف جبل الطارق، پھر افریقہ کے جنوب میں کیپ آف گڈ ہوپ اور وہاں سے دوبارہ مشرقی سمت میں بحرہند کی طرف سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔
یعنی سعودی متبادل راستہ سپلائی رکنے سے تو بچا سکتا ہے، لیکن فاصلے کی لاگت ختم نہیں کرسکتا۔
یہی فرق ہے سپلائی سکیورٹی اور سپلائی ایفیشنسی کے درمیان۔
سعودی عرب تیل نکال اور برآمد کرسکتا ہے، مگر طویل راستے کی قیمت آخرکار مارکیٹ کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
فزیکل خام تیل کیوں زیادہ مہنگا ہوگیا؟
اس دباؤ کا سب سے واضح اظہار اسپاٹ اور فزیکل مارکیٹ میں ہورہا ہے۔
ڈیٹڈ برینٹ اور فورٹیز کے علاوہ دبئی، عمان اور اماراتی مربان خام کی فوری فراہمی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خریدار اب صرف خام تیل کی قیمت نہیں دے رہے۔
وہ دراصل یہ پورا مجموعہ خرید رہے ہیں:
خام تیل + ٹینکر + انشورنس + سفر کا وقت + محفوظ راستہ + تاخیر کا خطرہ
جتنا خطرہ بڑھے گا، اتنی ہی زیادہ قیمت ایسے خام تیل کی ہوگی جو خریدار کے قریب اور فوری طور پر دستیاب ہو۔
اسی وجہ سے شمالی سمندر اور مغربی افریقہ کے خام تیل کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ ایشیائی ریفائنریز خلیج سے مہنگے یا مشکل راستوں کے متبادل کے طور پر بحر اوقیانوس سے آنے والے تیل کی طرف زیادہ متوجہ ہوسکتی ہیں۔
آخر یہ بل کون ادا کرے گا؟
ابتدا میں شپنگ کمپنیاں اور ریفائنریز اضافی لاگت برداشت کرتی ہیں۔
لیکن یہ اخراجات سمندر میں ختم نہیں ہوجاتے۔
اگر کسی ریفائنری کو خام تیل زیادہ قیمت پر ملے اور اسے منتقل کرنے پر بھی زیادہ خرچ آئے، تو وہ اپنے منافع کو برقرار رکھنے کے لیے اس لاگت کا کچھ حصہ بعد میں پٹرول، ڈیزل، ایوی ایشن فیول اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں منتقل کرسکتی ہے۔
ایشیائی خریداروں کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
اس صورتحال میں ایشیائی ریفائنریز کو شمالی سمندر، مغربی افریقہ یا دیگر علاقوں سے متبادل خام تیل خریدنے، ذخائر بڑھانے اور ٹینکر پہلے سے بک کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اگر بحران طویل ہوگیا تو اثر صرف توانائی تک محدود نہیں رہے گا۔
ٹرانسپورٹ، صنعت، پیٹروکیمیکل، خوراک اور مجموعی افراط زر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ تیل صرف ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ہزاروں مصنوعات اور خدمات کی لاگت کا بنیادی جزو ہے۔
سعودی عرب: زیادہ قیمت، مگر زیادہ لاگت بھی
سعودی عرب کے لیے صورتحال کے دو رخ ہیں۔
ایک طرف تیل کی بلند قیمتیں برآمدی آمدنی بڑھا سکتی ہیں اور سرکاری مالیات کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
لیکن دوسری طرف شپنگ، انشورنس اور ڈیلیوری کی بڑھتی لاگت تیل کی تجارت کو زیادہ پیچیدہ بناتی ہے، جبکہ کچھ ایشیائی ریفائنریز وقتی طور پر ایسے خام تیل کو ترجیح دے سکتی ہیں جو ان کے جغرافیائی طور پر زیادہ قریب ہو۔
اس کے باوجود موجودہ بحران نے سعودی عرب کی ایک اہم اسٹریٹجک طاقت ثابت کی ہے: دنیا تک پہنچنے کے لیے صرف ایک دروازے پر انحصار نہ کرنا۔
ممکنہ اگلا منظرنامہ +
جہاں بعض خلیجی ممالک کے لیے آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ ایک بڑا وجودی برآمدی مسئلہ بن سکتی ہے، وہیں سعودی عرب مشرق سے خام تیل مغربی ساحل تک منتقل کرسکتا ہے، ینبع استعمال کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر مصر کے ذریعے بحیرۂ روم تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
اصل خطرہ: دو اہم آبناؤں میں بیک وقت بحران
اس وقت باب المندب مکمل طور پر بند نہیں ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے، اگرچہ خطرات معمول سے کہیں زیادہ ہیں، اور بعض آئل ٹینکر اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
لیکن عالمی مارکیٹ کے لیے زیادہ خطرناک سوال یہ ہے:
اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں ایک ساتھ طویل عرصے کے لیے شدید متاثر ہوجائیں تو کیا ہوگا؟
تب مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ دنیا کے پاس تیل نہیں۔
بلکہ یہ ہوگا کہ تیل ایک مقام پر موجود ہوگا، جبکہ خریدار اسے کسی دوسرے مقام پر فوری طور پر چاہتا ہوگا، اور دونوں کے درمیان فاصلہ، وقت اور لاگت کہیں زیادہ ہوچکی ہوگی۔
یہی خطرہ اس وقت فزیکل آئل مارکیٹ کی قیمتوں میں جھلک رہا ہے۔
اب صرف تیل کی قیمت نہیں لگ رہی
بعض فزیکل خام تیل کی قیمت کا 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ پوری عالمی مارکیٹ اسی سطح پر پہنچ جائے گی یا قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں گی۔
مگر یہ ایک بنیادی تبدیلی کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔
اب سوال صرف یہ نہیں:
دنیا کتنا تیل پیدا کرسکتی ہے؟
بلکہ اصل سوال یہ بنتا جارہا ہے:
کتنا تیل محفوظ طریقے سے، بروقت اور قابل قبول لاگت پر منتقل کیا جاسکتا ہے؟
اس نئی مساوات میں پائپ لائنیں، بندرگاہیں، ٹینکر اور سمندری راستے خود تیل کے ذخائر جتنی اہم اسٹریٹجک اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔
سعودی عرب کے پاس وسیع ذخائر، بڑی پیداواری صلاحیت اور ایسا انفرااسٹرکچر موجود ہے جو اسے غیرمعمولی لچک فراہم کرتا ہے، لیکن اس لچک کی بھی ایک قیمت ہے۔
جب معمول کا راستہ خطرناک ہوجائے تو متبادل راستہ ایک مہنگی انشورنس پالیسی بن جاتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ آج ایک بیرل تیل کی قیمت میں صرف خام تیل نہیں، بلکہ جغرافیہ، خطرہ، فاصلہ اور محفوظ رسائی کی قیمت بھی شامل ہوتی جارہی ہے۔
🛢️
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
فزیکل خام تیل کی قیمت، ہرمز و باب المندب کے متبادل راستے، سعودی سپلائی اور توانائی انفرااسٹرکچر سے متعلق معتبر ذرائع
6 بنیادی ذرائع
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
فزیکل خام تیل کی قیمت، ہرمز و باب المندب کے متبادل راستے، سعودی سپلائی اور توانائی انفرااسٹرکچر سے متعلق معتبر ذرائع