خلیج میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ اور ایران امریکہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر سکتی ہیں۔
قیمتوں میں تیزی اور عالمی منڈی کا ردعمل
برینٹ کروڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے سے 85.31 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 0.4 فیصد اضافے سے 79.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اضافہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح کے بعد مسلسل تیسرے روز کی پیشرفت ہے۔
آبنائے ہرمز اور سیکیورٹی خدشات
امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے مبینہ ایرانی ٹھکانوں پر فضائی کارروائی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
امریکہ کے اس اقدام پر ایران نے بھی جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
توانائی کے انفرا اسٹرکچر پر حملوں کا خطرہ
اس کشیدہ صورت حال میں ایرانی فوج نے اُردن میں قائم امریکی بیس پر ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تنازع خلیج کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پھیل گیا تو قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، تاہم سفارتی کوششیں بحالی کا راستہ ہموار کر سکتی ہیں۔
ایران امریکہ کشیدگی اور تیل کا عالمی بحران
خلیج میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے معاشی اثرات اور خدشات
خلیج میں فوجی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات کے باعث خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
📈 متوقع قیمت
110کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں چوتھی سہ ماہی تک فی بیرل قیمت یہاں تک پہنچ سکتی ہے۔
📉 برآمدات میں کمی
50گولڈمین سیچز کے مطابق خلیجی تیل کی سپلائی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے۔
🚨 عسکری اقدامات اور جوابی کارروائی
امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اردن میں امریکی بیس پر ڈرون حملوں کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ حالات سازگار ہونے پر قیمتیں دوبارہ 60 ڈالر تک گرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
گولڈمین سیچز کا تجزیہ اور برآمدات میں کمی
گولڈمین سیچز کا کہنا ہے کہ خلیجی تیل کی برآمدات جنگ سے قبل کی سطح کے 50 فیصد تک گر چکی ہیں، جو تقریباً 11 ملین بیرل یومیہ ہے۔
امریکی ناکہ بندی کے بعد ایران کی برآمدات میں 1.5 سے 2 ملین بیرل یومیہ تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور معاشی اثرات
بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر کشیدگی یونہی برقرار رہی تو چوتھی سہ ماہی میں قیمتیں 110 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔
تاہم حالات معمول پر آنے کی صورت میں قیمتوں کے 60 ڈالر فی بیرل تک گرنے کی گنجائش بھی موجود ہے، لہٰذا عالمی مارکیٹ کی نظریں اب بھی خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر جمی ہیں۔