براہ راست نشریات

ایران امریکہ کشیدگی: تیل کی عالمی قیمتیں 110 ڈالر تک جانے کا خدشہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خلیج میں بحری ناکہ بندی، تیل کے کنویں اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا گراف
کشیدگی یونہی برقرار رہی تو چوتھی سہ ماہی میں قیمتیں 110 ڈالر تک جا سکتی ہیں (فوٹو: اے آئی)

خلیج میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ اور ایران امریکہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال برقرار رہی تو قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر سکتی ہیں۔

قیمتوں میں تیزی اور عالمی منڈی کا ردعمل

برینٹ کروڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے سے 85.31 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 0.4 فیصد اضافے سے 79.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ 

یہ اضافہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح کے بعد مسلسل تیسرے روز کی پیشرفت ہے۔

معیشت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ پر نظر رکھیں، کلک کریں

آبنائے ہرمز اور سیکیورٹی خدشات

امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے مبینہ ایرانی ٹھکانوں پر فضائی کارروائی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

امریکہ کے اس اقدام پر ایران نے بھی جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

mines in hormuz3
عالمی آئل ٹینکر آپریٹرز کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل تک بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع نہیں کریں گے (فوٹو: الجزیرہ)

توانائی کے انفرا اسٹرکچر پر حملوں کا خطرہ

اس کشیدہ صورت حال میں ایرانی فوج نے اُردن میں قائم امریکی بیس پر ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تنازع خلیج کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پھیل گیا تو قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں، تاہم سفارتی کوششیں بحالی کا راستہ ہموار کر سکتی ہیں۔

ایران امریکہ کشیدگی اور تیل کا عالمی بحران

خلیج میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے معاشی اثرات اور خدشات

خلیج میں فوجی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات کے باعث خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس سے عالمی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

📈 متوقع قیمت

110

کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں چوتھی سہ ماہی تک فی بیرل قیمت یہاں تک پہنچ سکتی ہے۔

📉 برآمدات میں کمی

50

گولڈمین سیچز کے مطابق خلیجی تیل کی سپلائی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں آدھی رہ گئی ہے۔

🚨 عسکری اقدامات اور جوابی کارروائی

امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اردن میں امریکی بیس پر ڈرون حملوں کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ حالات سازگار ہونے پر قیمتیں دوبارہ 60 ڈالر تک گرنے کا امکان بھی موجود ہے۔

اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم

گولڈمین سیچز کا تجزیہ اور برآمدات میں کمی

گولڈمین سیچز کا کہنا ہے کہ خلیجی تیل کی برآمدات جنگ سے قبل کی سطح کے 50 فیصد تک گر چکی ہیں، جو تقریباً 11 ملین بیرل یومیہ ہے۔

امریکی ناکہ بندی کے بعد ایران کی برآمدات میں 1.5 سے 2 ملین بیرل یومیہ تک کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

مستقبل کے امکانات اور معاشی اثرات

بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر کشیدگی یونہی برقرار رہی تو چوتھی سہ ماہی میں قیمتیں 110 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔

تاہم حالات معمول پر آنے کی صورت میں قیمتوں کے 60 ڈالر فی بیرل تک گرنے کی گنجائش بھی موجود ہے، لہٰذا عالمی مارکیٹ کی نظریں اب بھی خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر جمی ہیں۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️