ٹیکنالوجی دنیا کی بڑی کمپنی آئی بی ایم (IBM) کو رواں ہفتے شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس کے شیئرز کی قیمت میں 25.2 فیصد کی غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔
مزید پڑھیں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گراوٹ 1987 کے ’بلیک منڈے‘ کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے۔
آئی بی ایم کی مارکیٹ ویلیو میں 67 ارب ڈالر کی کمی
فوربز کی رپورٹ کے مطابق منگل کے روز کاروباری لین دین کے اختتام پر آئی بی ایم کے ایک شیئر کی قیمت گر کر 217 ڈالر رہ گئی ہے۔
کی کمی واقع ہوئی ہے، جو اب 205 ارب ڈالر تک محدود ہو گئی ہے۔
مصنوعی ذہانت اور بدلتے تجارتی رجحانات
فنانشل ٹائمز کے مطابق آئی بی ایم کی یہ صورتحال سرمایہ کاروں کے تیزی سے بدلتے رجحانات کا نتیجہ ہے۔
اب مارکیٹ کا فوکس ان کمپنیوں پر ہے جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) یا مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے تیار کر رہی ہیں۔ صارفین اب آئی بی ایم کی روایتی پروڈکٹس کے بجائے نئے ہارڈویئر کے متلاشی ہیں۔
آئی بی ایم کی تاریخ کا بدترین مالیاتی بحران
مصنوعی ذہانت کے بدلتے رجحانات اور مارکیٹ کا شدید دباؤ
ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ہارڈویئر اور مصنوعی ذہانت کی طلب بڑھنے سے آئی بی ایم کے شیئرز ریکارڈ حد تک گر گئے جس سے کمپنی کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
📉 مارکیٹ ویلیو کمی
کمپنی کی کل مالیت میں اربوں ڈالر کا بڑا نقصان، جس کے بعد مالیت 205 ارب ڈالر رہ گئی۔
📉 شیئرز میں گراوٹ
رواں ہفتے شیئرز کی قیمت میں غیر معمولی گراوٹ جو 1987 کے بلیک منڈے کے ریکارڈ سے بھی بڑھ گئی۔
🚨 اسٹرکچرل شفٹ اور مستقبل کا چیلنج
سرمایہ کار اب روایتی سافٹ ویئر کے بجائے مصنوعی ذہانت کے ہارڈویئر اور ڈیٹا سینٹرز پر بجٹ منتقل کر رہے ہیں۔ سی ای او ارونڈ کرشنا نے اعتراف کیا ہے کہ کمپنی مارکیٹ کی اس تیز رفتار تبدیلی کے ساتھ فوری مطابقت پیدا کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر سیکٹر کی آمدنی میں 7 فیصد کمی واقع ہوئی۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
سی ای او کا اعتراف اور سہ ماہی کارکردگی
کمپنی کے سی ای او ارونڈ کرشنا نے ان مشکلات کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران کمپنی مارکیٹ کی تبدیلیوں کے ساتھ فوری مطابقت پیدا کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے کئی اہم کاروباری معاہدے وقت پر مکمل نہ ہو سکے۔
مالیاتی اعداد و شمار اور ناکام تخمینے
کمپنی کے انفرا اسٹرکچر سیکٹر کی آمدنی میں 7 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ مجموعی ریونیو 17.2 ارب ڈالر رہا۔ یہ اعداد و شمار تجزیہ کاروں کے 17.8 ارب ڈالر کے تخمینے سے کم تھے۔
یاد رہے کہ 2025 میں آئی بی ایم کی آمدنی کا 43 فیصد حصہ سافٹ ویئر سیلز سے آیا تھا۔
ہارڈویئر کی طلب میں اضافہ
بزنس انسائیڈر کے مطابق آئی بی ایم کے صارفین اپنے بجٹ کو سافٹ ویئر سے ہٹا کر سرورز، اسٹوریج سسٹمز اور میموری کی خریداری پر خرچ کر رہے ہیں۔
خدشہ ہے کہ مستقبل میں ہارڈویئر کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، اسی لیے کمپنیاں ابھی سے ذخیرہ اندوزی میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔
عالمی سطح پر چپس کا قلت اور مارکیٹ کا دباؤ
مارکیٹ میں میموری چپس کی عالمی قلت کے باعث سام سنگ اور مائیکرون جیسی بڑی کمپنیاں اب اپنے وسائل مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے مخصوص کر رہی ہیں۔
اس شفٹ نے سافٹ ویئر کمپنیوں بشمول آئی بی ایم کے لیے اِن پُٹ لاگت میں اضافہ اور مانگ میں کمی پیدا کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی بی ایم کا حالیہ بحران صرف ایک کمپنی کی ناکامی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری ہارڈ ویئر بمقابلہ سافٹ ویئر کی جنگ کا عکاس ہے۔
جب تک آئی بی ایم مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال نہیں لیتی، تب تک سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ایک مشکل چیلنج رہے گا۔