آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا متنازع فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محض ایک دن کے اندر واپس لے لیا۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ کے اس یوٹرن نے عالمی سطح پر قانونی اور اقتصادی سوالات کو جنم دیا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان بحری جہازوں کی نقل و حمل کے مستقبل پر بھی نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
عالمی ردعمل اور اچانک یوٹرن
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز یہ اعلان کیا کہ وہ فیس وصول کرنے کا فیصلہ منسوخ کر رہے ہیں اور اس کے بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ
تجارتی و سرمایہ کاری کے معاہدوں پر توجہ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں سے رابطے کے بعد یہ نئی حکمت عملی زیادہ بہتر اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔
اس سے قبل ٹرمپ نے فیس عائد کرنے کے فیصلے کو ’انصاف کا معاملہ‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے بحری جہازوں کے تحفظ کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔
تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی گزرگاہوں پر ٹیکس نہیں لگانا چاہیے۔
اقتصادی اثرات اور صنعت کا تحفظ
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ نئی سرمایہ کاری سے لاکھوں امریکی ملازمتیں پیدا ہوں گی، لیکن دوسری جانب بحری صنعت کے ماہرین اس غیر یقینی صورتحال پر فکرمند ہیں۔
انٹرنیشنل شپنگ ایسوسی ایشن (BIMCO) کے جیکب لارسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی متنازع پالیسیاں عالمی شپنگ کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق اگر یہ فیس لاگو ہوتی ہے تو آئل ٹینکرز کو فی سفر 27 ملین ڈالر اور کنٹینر جہازوں کو 260 ملین ڈالر تک ادا کرنے پڑ سکتے تھے۔
یہ بھاری اخراجات بالآخر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے اور مہنگائی کی صورت میں عام صارفین پر منتقل ہوتے۔
آبنائے ہرمز اور بدلتا ہوا سکیورٹی منظرنامہ
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے دنیا بھر کی تیل اور گیس کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
جنگ سے قبل یہاں روزانہ 130 سے زائد جہاز گزرتے تھے، جن کی تعداد اب کم ہو کر صرف 10 رہ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل متضاد بیانات سے عالمی سطح پر امریکہ کا وقار متاثر ہوا ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس جیسے اہم عہدیدار پہلے ہی بین الاقوامی پانیوں میں فیس کے تصور کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔
سیاسی بحران اور مستقبل کے امکانات
واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار ڈیوڈ اگنیٹس کے مطابق ٹرمپ کی یہ پالیسی بغیر کسی واضح حکمت عملی کے ہے، جس سے وہ خود کو ایران اور دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کر رہے ہیں۔
یورپی لاجسٹک کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف عسکری تحفظ کافی نہیں ہے، کیونکہ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان تجارت کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
لہٰذا کمپنیاں اس وقت تک جہاز خلیج میں نہیں لائیں گی جب تک انہیں سیکیورٹی کی مکمل ضمانت نہ ملے۔
مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا تازہ ترین یوٹرن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سمندری قوانین کو چھیڑنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ کشیدگی اور اس طرح کے غیر متوقع اقدامات نے عالمی اقتصادی استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی کسی پائیدار اور متوازن حکمت عملی کے تحت ہی اس بحران کا حل تلاش کریں، تاکہ عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔