براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز پر فیس وصولی: ٹرمپ اپنے خطرناک پلان سے پسپا کیوں ہوئے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تہران کے منجمد اثاثے اور ایران امریکہ مذاکرات کی اہمیت
(فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا متنازع فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محض ایک دن کے اندر واپس لے لیا۔

مزید پڑھیں

ٹرمپ کے اس یوٹرن نے عالمی سطح پر قانونی اور اقتصادی سوالات کو جنم دیا ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان بحری جہازوں کی نقل و حمل کے مستقبل پر بھی نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

عالمی ردعمل اور اچانک یوٹرن

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز یہ اعلان کیا کہ وہ فیس وصول کرنے کا فیصلہ منسوخ کر رہے ہیں اور اس کے بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ 

تجارتی و سرمایہ کاری کے معاہدوں پر توجہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے رہنماؤں سے رابطے کے بعد یہ نئی حکمت عملی زیادہ بہتر اور نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

اس سے قبل ٹرمپ نے فیس عائد کرنے کے فیصلے کو ’انصاف کا معاملہ‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے بحری جہازوں کے تحفظ کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔

تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی گزرگاہوں پر ٹیکس نہیں لگانا چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات، وائٹ ہاؤس میں جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کی خارجہ پالیسی پر متضاد آرا کا گرافاتی خاکہ
ٹرمپ انتظامیہ میں وینس اور روبیو کے بیانات کا تضاد بظاہر ایک داخلی کشمکش کو ظاہر کررہا ہے (فوٹو: اے آئی)

اقتصادی اثرات اور صنعت کا تحفظ

نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ نئی سرمایہ کاری سے لاکھوں امریکی ملازمتیں پیدا ہوں گی، لیکن دوسری جانب بحری صنعت کے ماہرین اس غیر یقینی صورتحال پر فکرمند ہیں۔

انٹرنیشنل شپنگ ایسوسی ایشن (BIMCO) کے جیکب لارسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی متنازع پالیسیاں عالمی شپنگ کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ کر سکتی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اگر یہ فیس لاگو ہوتی ہے تو آئل ٹینکرز کو فی سفر 27 ملین ڈالر اور کنٹینر جہازوں کو 260 ملین ڈالر تک ادا کرنے پڑ سکتے تھے۔

یہ بھاری اخراجات بالآخر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے اور مہنگائی کی صورت میں عام صارفین پر منتقل ہوتے۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

آبنائے ہرمز اور بدلتا ہوا سکیورٹی منظرنامہ

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے دنیا بھر کی تیل اور گیس کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

جنگ سے قبل یہاں روزانہ 130 سے زائد جہاز گزرتے تھے، جن کی تعداد اب کم ہو کر صرف 10 رہ گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل متضاد بیانات سے عالمی سطح پر امریکہ کا وقار متاثر ہوا ہے۔ 

وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس جیسے اہم عہدیدار پہلے ہی بین الاقوامی پانیوں میں فیس کے تصور کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں۔

mines in hormuz3
عالمی آئل ٹینکر آپریٹرز کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عمل تک بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع نہیں کریں گے (فوٹو: الجزیرہ)

سیاسی بحران اور مستقبل کے امکانات

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار ڈیوڈ اگنیٹس کے مطابق ٹرمپ کی یہ پالیسی بغیر کسی واضح حکمت عملی کے ہے، جس سے وہ خود کو ایران اور دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کر رہے ہیں۔

یورپی لاجسٹک کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف عسکری تحفظ کافی نہیں ہے، کیونکہ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان تجارت کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

لہٰذا کمپنیاں اس وقت تک جہاز خلیج میں نہیں لائیں گی جب تک انہیں سیکیورٹی کی مکمل ضمانت نہ ملے۔

ہم سے جڑے رہیں

مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا تازہ ترین یوٹرن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سمندری قوانین کو چھیڑنا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 

ایران کے ساتھ کشیدگی اور اس طرح کے غیر متوقع اقدامات نے عالمی اقتصادی استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ 

ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی کسی پائیدار اور متوازن حکمت عملی کے تحت ہی اس بحران کا حل تلاش کریں، تاکہ عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔