امریکہ۔ایران کشیدگی نے عالمی منڈیوں کا منظرنامہ بدل دیا، گولڈ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہوگیا
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے گرد خطرات اور خام تیل کی مسلسل تیزی نے عالمی منڈیوں میں مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔
امریکی مہنگائی میں کمی کے باوجود سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مہنگا تیل فیڈرل ریزرو کو شرحِ سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سونا ایک بار پھر فروخت کے دباؤ میں آگیا۔
صرف 24 گھنٹے پہلے تک عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا اثاثہ تھا۔
امریکی مہنگائی میں توقعات سے زیادہ کمی کی خبر نے سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا کر دی تھی کہ فیڈرل ریزرو جلد شرحِ سود میں نرمی کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں نے کئی ہفتوں کی بلند ترین یومیہ چھلانگ لگائی۔
مگر آج بدھ کے روز منظرنامہ یکسر بدل گیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں کو مسلسل تیسرے روز اوپر دھکیل دیا، جس کے ساتھ ہی مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے۔
یہی خدشات سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر اس نتیجے پر لے آئے کہ اگر توانائی کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو امریکی مرکزی بینک شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
یہی وجہ تھی کہ سونا، جس نے ایک روز قبل شاندار ریکارڈ بنایا تھا، اگلے ہی دن فروخت کے دباؤ کا شکار ہوگیا۔
بدھ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4025.35 ڈالر فی اونس تک آ گئی، جبکہ اگست کی ترسیل کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.9 فیصد گر کر 4033.12 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب منگل کو سونے نے دو فیصد
سے زائد اضافہ کرتے ہوئے 4100.49 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھو لیا تھا۔
اس تیزی کی بنیادی وجہ امریکہ میں جون کے دوران افراطِ زر کے اعداد و شمار تھے، جنہوں نے ظاہر کیا کہ صارفین کی قیمتوں میں اضافہ مارکیٹ کی توقعات سے زیادہ سست رہا، جس سے سرمایہ کاروں نے شرحِ سود میں ممکنہ کمی کی امید باندھ لی تھی۔
لیکن عالمی منڈیاں صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں چلتی ہیں۔
جب جغرافیائی سیاست اور جنگی خطرات شدت اختیار کرتے ہیں تو سرمایہ کاروں کی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں، اور یہی بدھ کے روز دیکھنے میں آیا۔
مہنگائی سے جنگ تک... صرف ایک دن میں سب کچھ بدل گیا
منگل کو منظر نسبتاً واضح تھا۔
امریکی مہنگائی کی رفتار کم ہونے کا مطلب یہ تھا کہ فیڈرل ریزرو پر شرحِ سود مزید بڑھانے یا سخت پالیسی برقرار رکھنے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
چونکہ سونا ایسی سرمایہ کاری ہے جو کوئی منافع یا سود فراہم نہیں کرتی، اس لیے شرحِ سود میں کمی کی توقع ہمیشہ اس کے حق میں جاتی ہے۔
اسی سوچ کے تحت سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر سونے کی خریداری کی اور قیمتیں دو فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔
لیکن بدھ کی صبح عالمی منڈیوں کی توجہ ایک نئی حقیقت کی طرف منتقل ہو گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی توقعات پر دوبارہ غور کریں۔
یہاں سے کہانی کا رخ بدل گیا۔
کیونکہ اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو صرف پٹرول یا ڈیزل ہی مہنگے نہیں ہوتے بلکہ نقل و حمل، صنعت، بجلی، پیداوار اور سپلائی چین کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مہنگائی دوبارہ اوپر جا سکتی ہے۔
اور اگر مہنگائی بڑھنے لگے تو فیڈرل ریزرو کے لیے شرحِ سود کم کرنا آسان نہیں رہتا۔
یہی خدشہ بدھ کے روز سونے کی قیمتوں پر سب سے زیادہ بھاری پڑا۔
کیوں گر گیا سونا، حالانکہ جنگ جاری ہے؟
عام طور پر جنگ، سیاسی بحران یا عالمی بے یقینی کے ماحول میں سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کا رخ کرتے ہیں اور سونا ان میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے۔
لیکن موجودہ صورتحال کچھ مختلف ہے۔
اس وقت مارکیٹ دو متضاد قوتوں کے درمیان پھنس چکی ہے۔
ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سونے کی مانگ میں اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری تلاش کرتے ہیں۔
دوسری طرف یہی کشیدگی خام تیل کو مہنگا کر رہی ہے، جس سے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ اگر مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوتا ہے تو امریکی مرکزی بینک شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھ سکتا ہے، اور یہی عنصر سونے کے لیے منفی ثابت ہوتا ہے۔
یوں پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جنگ سونے کے لیے مکمل طور پر مثبت خبر نہیں رہی، بلکہ اس کے اثرات دو مختلف سمتوں میں بٹ گئے ہیں۔
اسی لیے بدھ کے روز سرمایہ کاروں نے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر سونے کی خریداری بڑھانے کے بجائے منافع وصول کرنے کو ترجیح دی، کیونکہ ان کے نزدیک بلند شرحِ سود کا خطرہ فی الحال زیادہ اہم بنتا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صرف ایک دن پہلے کی تیزی اگلے ہی روز نمایاں گراوٹ میں تبدیل ہوگئی، اور عالمی منڈیوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ آج کے دور میں سونے کی قیمت صرف مہنگائی کے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ توانائی، جنگ، جغرافیائی سیاست اور مرکزی بینکوں کی پالیسیوں کے امتزاج سے طے ہوتی ہے۔
تیل نے پوری مساوات بدل دی
اس مرتبہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کسی معاشی بحالی، صنعتی طلب یا پیداوار میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی اور عسکری صورتحال تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری دباؤ مزید سخت کرنے، مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی، اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سخت اقدامات نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی۔
دنیا کی سمندری تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ، حملے یا کشیدگی کا اثر چند گھنٹوں میں عالمی منڈیوں تک پہنچ جاتا ہے۔
اسی خدشے کے باعث خام تیل کی قیمتوں نے مسلسل تیسرے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا، جبکہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو توانائی مہنگی ہوگی، پیداواری لاگت بڑھے گی، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اوپر جائیں گی اور عالمی مہنگائی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
اسی خدشے نے سونے کے لیے بننے والا مثبت ماحول چند ہی گھنٹوں میں تبدیل کر دیا۔
فیڈرل ریزرو اب کس مخمصے میں ہے؟
امریکی مرکزی بینک گزشتہ دو برس سے مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
اگرچہ جون کے مہنگائی کے اعداد و شمار نے کچھ حد تک اطمینان ضرور دلایا، لیکن فیڈرل ریزرو کے حکام ابھی بھی مکمل طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے کانگریس میں اپنے بیان کے دوران واضح کیا کہ حالیہ اعداد و شمار کو حتمی کامیابی نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں تازہ اضافہ مستقبل میں مہنگائی کو دوبارہ اوپر لے جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کسی ایک ماہ کے اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی حکمتِ عملی تبدیل نہیں کرے گا، بلکہ آنے والے مہینوں میں مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لے گا۔
یہی بیان سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ثابت ہوا۔
کیونکہ اگر فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو زیادہ عرصے تک بلند رکھتا ہے تو سونے میں سرمایہ کاری نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے، جبکہ بانڈز اور دیگر مالیاتی اثاثے بہتر منافع فراہم کرتے ہیں۔
اسی امکان نے عالمی منڈیوں میں سونے پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، بدھ کے روز سرمایہ کاروں نے امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار سے زیادہ توجہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز رکھی۔
اوآنڈا OANDA کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اب گزشتہ روز کے مہنگائی کے اعداد و شمار سے آگے نکل چکی ہے اور اس وقت سب سے بڑی تشویش خام تیل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔
ان کے مطابق اگر تیل مزید مہنگا ہوتا ہے تو مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں شرحِ سود میں کمی کی امیدیں مزید کمزور پڑ جائیں گی۔
دوسری جانب گلوبل ایکس ای ٹی ایفز Global X ETFs کے تجزیہ کار جسٹن لن کا کہنا ہے کہ امریکی افراطِ زر کے تازہ اعداد و شمار نے اگرچہ سونے کے لیے 4000 ڈالر فی اونس کی سطح کو مضبوط سہارا فراہم کیا ہے، تاہم حالیہ جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ سرمایہ کاروں کی توجہ مستقبل کے خطرات کی جانب منتقل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں مارکیٹ صرف موجودہ مہنگائی نہیں بلکہ آئندہ مہینوں کے ممکنہ دباؤ کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر چکی ہے۔
ڈالر کمزور ہوا... پھر بھی سونا کیوں نہ سنبھل سکا؟
عام حالات میں امریکی ڈالر کی کمزوری سونے کے لیے اچھی خبر سمجھی جاتی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ جب ڈالر کی قدر کم ہوتی ہے تو دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کار نسبتاً کم قیمت پر سونا خرید سکتے ہیں، جس سے طلب بڑھتی ہے اور قیمتوں کو سہارا ملتا ہے۔
بدھ کے روز بھی ڈالر میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا۔
ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 162.2 پر مستحکم رہا، جبکہ یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا اور وہ بالترتیب 1.1431 اور 1.3416 ڈالر پر پہنچ گئے۔
اسی طرح نیوزی لینڈ ڈالر ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ آسٹریلوی ڈالر بھی تقریباً مستحکم رہا۔
دوسری جانب ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی طاقت کو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں جانچتا ہے، 100.8 پوائنٹس تک گر گیا، ایک روز قبل یہ تقریباً دو ہفتوں کی سب سے بڑی یومیہ کمی ریکارڈ کر چکا تھا۔
اس کے باوجود سونا فائدہ نہ اٹھا سکا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس مرتبہ سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر کی کمزوری سے زیادہ اہم سوال یہ تھا کہ کیا بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں فیڈرل ریزرو کو شرحِ سود میں کمی مؤخر کرنے پر مجبور کر دیں گی؟
اسی خدشے نے ڈالر کی کمزوری سے ملنے والی ممکنہ حمایت کو تقریباً بے اثر کر دیا اور سونا دباؤ میں رہا۔
دیگر قیمتی دھاتوں کی صورتحال
اگرچہ سب سے زیادہ توجہ سونے پر مرکوز رہی، تاہم دیگر قیمتی دھاتوں کی کارکردگی نسبتاً مختلف رہی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہر دھات پر ایک جیسے عوامل اثر انداز نہیں ہوتے۔
اسپاٹ سلور 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 58.48 ڈالر فی اونس پر آ گئی، جبکہ پلاٹینم 0.2 فیصد اضافے کے بعد 1635.56 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
اسی طرح پیلیڈیم بھی 0.2 فیصد بڑھ کر 1307.11 ڈالر فی اونس پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق سونے کے برعکس پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں پر صنعتی طلب زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ یہ دھاتیں گاڑیوں، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتی شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔
اس لیے اگرچہ جغرافیائی کشیدگی نے مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کی، تاہم صنعتی طلب کی توقعات نے ان دھاتوں کو نسبتاً سہارا فراہم کیا۔
سرمایہ کاروں کی نظر؟
مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن سونے کی سمت کے تعین میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلی نظر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر ہوگی۔ اگر فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کرتی ہیں یا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی مہنگائی پر نئے دباؤ پیدا ہوں گے۔
دوسرا اہم عنصر امریکہ سے جاری ہونے والے معاشی اعداد و شمار ہوں گے، خصوصاً روزگار، صارفین کے اخراجات اور آئندہ مہنگائی کے اشاریے۔ اگر یہ اعداد و شمار مضبوط رہے تو فیڈرل ریزرو کے لیے شرحِ سود میں کمی مؤخر کرنا آسان ہو جائے گا۔
تیسری اہم چیز فیڈرل ریزرو کے حکام کے بیانات ہوں گے۔ سرمایہ کار ہر اس اشارے پر گہری نظر رکھیں گے جو یہ واضح کرے کہ امریکی مرکزی بینک رواں سال شرحِ سود میں کمی کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟ تین ممکنہ منظرنامے
موجودہ صورتحال میں سونے کی آئندہ سمت کا انحصار 3 بنیادی امکانات پر ہے۔
پہلا منظرنامہ: اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی، آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا، تو مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان سونے پر دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے، اگرچہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب اس کی گراوٹ کو محدود بھی کر سکتی ہے۔
دوسرا منظرنامہ: اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے، تیل کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں اور امریکی مہنگائی مزید کم ہوتی ہے، تو سرمایہ کار دوبارہ شرحِ سود میں کمی کی توقعات بڑھا سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال سونے کے لیے ایک بار پھر مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔
تیسرا منظرنامہ: اگر جنگ محدود سطح پر جاری رہتی ہے، تیل نسبتاً بلند سطح پر برقرار رہتا ہے اور معاشی اعداد و شمار ملے جلے آتے ہیں، تو سونا آئندہ چند ہفتوں تک محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہ سکتا ہے، کیونکہ سرمایہ کار کسی واضح اشارے کے منتظر رہیں گے۔
نتیجہ
بدھ کی کاروباری سرگرمیوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ آج کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں صرف معاشی اعداد و شمار ہی قیمتوں کا تعین نہیں کرتے۔
ایک ہی دن میں امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، خام تیل کی قیمتیں، ڈالر کی نقل و حرکت اور فیڈرل ریزرو کی ممکنہ پالیسی—سب نے مل کر سرمایہ کاروں کے فیصلوں کا رخ بدل دیا۔
اسی لیے سونا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جنگ اور جغرافیائی خطرات اسے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سہارا دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اور بلند شرحِ سود کا امکان اس کی پیش قدمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عالمی منڈیاں دوبارہ معاشی اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کرتی ہیں یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر غالب رہتی ہے۔
فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سونے کی اگلی بڑی حرکت کا فیصلہ صرف واشنگٹن میں نہیں، بلکہ آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت بھی کرے گی۔