کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ میں منعقدہ ورلڈ کپ 2026 ایک بار پھر نئی صلاحیتوں کی دریافت کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
اس ایونٹ میں چند ہفتوں کے مقابلوں کے بعد اب یورپ کے بڑے کلبوں نے ان ابھرتے ہوئے ستاروں کو سائن کرنے کے لیے دوڑ شروع کر دی ہے۔
مراکش کے ایوب بوعدی اور میکسیکو کے گِلبرٹو مورا
مراکشی مڈفیلڈر ایوب بوعدی نے محض 18 سال کی عمر میں اپنی ٹیکٹیکل پختگی سے سب کو حیران کردیا ہے۔
دکھائی، جس کے بعد آرسنل، لیورپول اور مانچسٹر یونائیٹڈ ان کے حصول میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
دوسری جانب 17 سالہ میکسیکن ٹیلنٹ گِلبرٹو مورا ٹورنامنٹ کے کم عمر ترین مگر موثر کھلاڑی رہے۔
مانچسٹر سٹی، بارسلونا اور ریال میڈرڈ سمیت کئی کلب ان پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ اُن کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 40 ملین یورو (تقریباً 43.2 ملین ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔
ناروے کے انٹونیو نوسا اور برازیل کے برونو گیمارائش
ناروے کے انٹونیو نوسا نے اپنی رفتار اور مہارت سے ثابت کیا کہ وہ پریمیئر لیگ کے لیے تیار ہیں۔
ٹاٹنہیم اور آرسنل اس 21 سالہ ونگر کو ٹیم کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح برازیل کے برونو گیمارائش اپنی ٹیم کے جلد اخراج کے باوجود مڈفیلڈ میں ایک ستون رہے۔
یہی وجہ ہے کہ آرسنل انہیں سائن کرنے کا خواہشمند ہے، جبکہ نیو کیسل ان کی قیمت 80 ملین پاؤنڈ (تقریباً 101.6 ملین ڈالر) تک مانگ رہا ہے۔
آئیوری کوسٹ اور نیوزی لینڈ کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی
آئیوری کوسٹ کے ونگر یان دیوماندی نے اپنی ڈربلنگ سے یورپی کلبوں کو متاثر کیا ہے۔
لاپزِگ کے اس کھلاڑی کے لیے پیرس سینٹ جرمین (PSG) سنجیدہ ہے۔ اسی طرح، نیوزی لینڈ کے 21 سالہ ایلیجا جاست نے 3 گول اسکور کر کے اپنی مارکیٹ ویلیو بڑھائی ہے۔
سیلٹک اور تولوز انہیں 4 ملین پاؤنڈ (تقریباً 5.08 ملین ڈالر) میں خریدنے کے خواہاں ہیں۔
جنوبی افریقہ، بوسنیا اور ہالینڈ کے نمایاں پرفارمرز
جنوبی افریقہ کے 20 سالہ ڈیفینڈر مبيكيزيلي مبوكازي نے شکاگو فائر سے یورپ کا سفر کرنے کی راہ ہموار کر لی ہے، جس میں ناپولی اور نوٹنگھم فارسٹ دلچسپی رکھتے ہیں۔
بوسنیا کے طارق محاریموفیچ بھی انگلش کلبوں کی نظر میں ہیں۔ ہالینڈ کے کریسینسیو سامرفیل نے 4 گولوں میں شراکت کرکے اپنی ویلیو 50 ملین پاؤنڈ (تقریباً 63.5 ملین ڈالر) تک پہنچا دی ہے، جس پر لیورپول کی نظر ہے۔
خولیان کینیونیس اور ٹرانسفر مارکیٹ کا مستقبل
میکسیکو کے خولیان کینیونیس نے ورلڈ کپ کے 5 میں سے 4 میچوں میں اسکور کر کے اپنی اہلیت ثابت کی ہے۔
سعودی لیگ کے القادسیہ کے ساتھ معاہدہ ہونے کے باوجود وہ انگلش لیگ میں کھیلنے کے خواہشمند ہیں،تاہم ان کی منتقلی کا انحصار کلب کی جانب سے مقرر کردہ بھاری مالی مطالبات پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ 2026 محض ایک فٹ بال ایونٹ نہیں رہا، بلکہ یہ کھلاڑیوں کے کیریئر بدلنے کا ایک گیٹ وے بن چکا ہے۔
کارکردگی اور مارکیٹ ویلیو کا یہ نیا گیم اب یورپی فٹ بال کی نئی حقیقت ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ تمام کھلاڑی اپنی ٹرانسفر ڈیڈلائنز کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہیں گے۔