ہم وطن کی جدائی میں تو تڑپتے ہیں، مگر اپنے اصل وطن، جنت، کو اکثر فراموش کر دیتے ہیں
محمد کبیر بٹ
ریاض
انسان اپنے آبائی وطن اور گھر سے فطری محبت رکھتا ہے، لیکن اس سے کہیں بڑھ کر اسے اپنے اصل وطن، یعنی جنت، کی فکر کرنی چاہیے۔
یہ تحریر قرآن و سنت کی روشنی میں یاد دلاتی ہے کہ دنیا امتحان گاہ ہے، شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے، صراطِ مستقیم ہی کامیابی کا راستہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہی انسان کی سب سے بڑی منزل ہے جس کے ذریعہ ہم اپنے آبائی وطن، جنت میں جا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں وطن اور گھر کی محبت اس طرح راسخ کر دی ہے جیسے آٹے میں نمک گھل مل جاتا ہے۔
پردیس میں رہنے والے اس حقیقت کو سب سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔
روزگار، تعلیم یا کسی اور مجبوری کے باعث وطن سے دور رہنے والا ہر شخص دن میں کئی بار اپنے گاؤں، اپنے شہر، اپنے گھر اور اپنے پیاروں کو یاد کرتا ہے۔
کبھی خوابوں میں اپنے آنگن کی سیر کرتا ہے اور کبھی کسی خوشبو، منظر یا آواز سے برسوں پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔
بعض لوگ تو اپنے شہر یا علاقے کا نام اپنی گاڑیوں پر لکھوا کر بھی اس تعلق کو زندہ رکھتے ہیں۔
یہ صرف ایک نام نہیں، بلکہ دل میں بسے وطن کی محبت کا اعلان ہوتا ہے۔
آج دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں انسان اپنے گھروں سے محروم ہیں۔
فلسطین، کشمیر، برما، شام، یمن اور لیبیا کے بے گھر خاندان اس درد کی زندہ مثال ہیں۔
ہم ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کی بے بسی پر افسردہ ہوتے ہیں، کیونکہ گھر اور وطن کی نعمت سے بڑھ کر دنیا میں بہت کم نعمتیں ہیں۔
لیکن یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا کا ہر گھر عارضی ہے۔
ایک دن انسان اسے چھوڑ دیتا ہے یا وہ اس سے چھن جاتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ انسان اپنے عارضی وطن کی یاد میں تو بے قرار رہتا ہے، مگر اپنے اصل اور دائمی وطن کو بھول بیٹھتا ہے۔
قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو جنت میں آباد فرمایا تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اور ہم نے کہا: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو فراوانی کے ساتھ کھاؤ۔ (البقرہ: 35)
اگر حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر نہ بھیجا جاتا تو آج پوری انسانیت اسی ابدی نعمتوں والی جنت میں زندگی گزار رہی ہوتی۔
لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت، انسان کی لغزش اور شیطان کے فریب نے انسان کو اس دنیا کی امتحان گاہ میں پہنچا دیا۔
زمین پر بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ وہ اپنی ہدایت انبیائے کرام علیہم السلام اور آسمانی کتابوں کے ذریعے بھیجتا رہے گا۔
جو اس ہدایت پر چلے گا، وہ دوبارہ جنت کا وارث بنے گا، اور جو اس سے منہ موڑے گا، وہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے کا شکار ہوگا۔
جنت صرف خواہش، جذبات یا دعووں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ ایمان، اطاعت، قربانی، صبر اور مسلسل جدوجہد اس کا راستہ ہیں۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اے اولادِ آدم! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں فتنے میں ڈال دے، جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا۔ (الاعراف: 27)
ابلیس نے قیامت تک مہلت پانے کے بعد اعلان کیا کہ وہ انسانوں کو ہر سمت سے بہکائے گا تاکہ وہ اللہ کے شکر گزار بندے نہ رہیں۔
یہ انسان اور شیطان کے درمیان ازل سے جاری ایک کھلی جنگ ہے۔
لیکن اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کو بشارت دی کہ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا، اور جو بندہ توبہ کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اس کی لغزشیں معاف فرماتا رہتا ہے۔
یہی حقیقت ہمیں سمجھنی چاہیے کہ دنیا آرام گاہ نہیں بلکہ امتحان گاہ ہے۔
یہاں ہمارا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو دکھائی نہیں دیتا، مگر دلوں میں وسوسے ڈال کر انسان کو راہِ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
اس خطرناک سفر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا بلکہ قرآن مجید اور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی کامل رہنمائی عطا فرمائی۔
اسی لیے ہم ہر نماز میں بار بار دعا کرتے ہیں:
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
یہ دعا ہمیں ہر روز یاد دلاتی ہے کہ ہمارا اصل مقصد دنیا میں کھو جانا نہیں بلکہ صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے اپنے حقیقی وطن، یعنی جنت، تک پہنچنا ہے۔
مرحوم ڈاکٹر نذیر شہیدؒ نے کیا خوب فرمایا:
’دعوت اور اقامتِ دین کی جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان اس سرسبز و شاداب جنت تک پہنچتا ہے جہاں کبھی خزاں نہیں آتی۔
جو اس کانٹوں بھرے راستے کو چھوڑ دیتا ہے، وہ نعمتوں بھری جنت تک نہیں پہنچ سکتا‘۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جنت کا راستہ آسان نہیں۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جنت کو ان چیزوں سے گھیر دیا گیا ہے جو نفس کو ناگوار ہیں، اور جہنم کو ان چیزوں سے جو نفس کو پسند ہیں۔
جو شخص خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلتا ہے، وہ آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف بڑھ جاتا ہے، جبکہ صراطِ مستقیم پر چلنے والا ہر لمحہ اپنے نفس، اپنے اعمال اور اپنی نیت کا محاسبہ کرتا رہتا ہے۔
یہ جدوجہد صرف اپنے نفس کے خلاف نہیں بلکہ شیطان، اس کے دھوکوں، باطل نظریات، شرکیہ اعمال، بدعات اور ہر اس قوت کے خلاف بھی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے سے ہٹانا چاہتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ هُوَ اجْتَبَاكُمْ
یعنی اللہ کی راہ میں ایسی جدوجہد کرو جیسی اس کا حق ہے، اسی نے تمہیں اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہے۔
اس راستے پر کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھے، ذکر و عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، قرآن و سنت میں غور و فکر کرے، شیطان کی چالوں سے باخبر رہے اور ہر روز اپنا احتساب کرے کہ کہیں اس کا قدم صراطِ مستقیم سے ہٹ تو نہیں گیا۔
آخرکار انسان کی سب سے بڑی کامیابی دنیا کی دولت، شہرت یا اقتدار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔
قرآن مجید اعلان کرتا ہے:
وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ
یعنی اللہ کی رضا ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔
لہٰذا ہمیں ہر لمحہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا چند روزہ قیام گاہ ہے۔
ہمارا اصل وطن جنت ہے، صراطِ مستقیم ہمارا سفر ہے، قرآن و سنت ہمارا رہنما ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہماری سب سے بڑی منزل۔
جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے، اس کے لیے دنیا کی آزمائشیں بھی آسان ہو جاتی ہیں اور آخرت کی کامیابی کا راستہ بھی روشن ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے ہر فریب سے محفوظ رکھے، صراطِ مستقیم پر استقامت عطا فرمائے اور اپنے فضل و کرم سے ہمیں جنت الفردوس کا وارث بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔