یہ مضمون اسلام میں نوجوانوں کے مقام و مرتبے پر روشنی ڈالتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ دینِ اسلام نوجوانوں کو صرف عبادات تک محدود نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ انہیں علم، اخلاق، خدمت، قیادت اور ہر مثبت میدان میں امت کی رہنمائی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نوجوانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور امانت ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن بازپرس ہوگی۔
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
اسلام ایک عالمگیر اور ہمہ گیر دین ہے، جو نسل، زبان، قوم، رنگ اور جغرافیے کی ہر تقسیم سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کو خیر، عدل اور ہدایت کا پیغام دیتا ہے۔
اس کی تعلیمات زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتی ہیں اور ہر عمر کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
تاہم نوجوانی کو اسلام میں ایک خصوصی مقام حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ دور ہے جس میں انسان اپنی جسمانی قوت، ذہنی صلاحیت، عزم، جذبے اور تخلیقی توانائی کے عروج پر ہوتا ہے۔
جوانی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں؛ ایک اللہ کی اطاعت، علم، خدمت اور تعمیر کا، جبکہ دوسرا خواہشات، غفلت اور گمراہی کا۔
مزید پڑھیں
اسی لیے رسول اللہﷺ نے نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی پر خصوصی توجہ دی۔
صحیح بخاری و مسلم کی مشہور حدیث میں ان 7 خوش نصیب افراد کا ذکر ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا، ان میں ایک وہ نوجوان بھی ہے جس کی جوانی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزری ہو۔
یہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اسلام نوجوانوں کو اپنی سب سے قیمتی امانت سمجھتا ہے۔
رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
5 چیزوں کو 5 چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، ان میں بڑھاپے سے پہلے جوانی بھی شامل ہے۔
یہ حدیث اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جوانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔
یہی وہ وقت ہے جب علم حاصل کیا جا سکتا ہے، شخصیت کو نکھارا جا سکتا ہے، معاشرے کی خدمت کی جا سکتی ہے اور دین کی سربلندی کے لیے عملی کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح جامع ترمذی کی روایت میں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر انسان سے اس کی عمر اور اس کی جوانی کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنی نوجوانی کن کاموں میں صرف کی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانی صرف ایک نعمت نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے، جس کا حساب اللہ تعالیٰ کے حضور دینا ہوگا۔
اسلام کے مخالفین نے ہمیشہ نوجوانوں کو دین سے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
کبھی یہ تاثر دیا گیا کہ اسلام صرف بوڑھوں کا مذہب ہے اور عبادت کا تعلق صرف زندگی کے آخری حصے سے ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اسلام کی پوری تاریخ نوجوان قائدین، مجاہدین، علماء، مصلحین اور فاتحین سے بھری ہوئی ہے، جنہوں نے کم عمری میں ایسے کارنامے انجام دیے جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
آج بھی مختلف ذرائع ابلاغ، غیر اخلاقی تفریح، بے مقصد مشاغل اور مغربی تہذیبی یلغار نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت تعمیر کے بجائے خواہشات اور بے راہ روی کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کا مقصد نوجوان نسل کو اپنی دینی شناخت، اخلاقی اقدار اور فکری آزادی سے محروم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے۔
اسلام ایسے تمام فتنوں سے خبردار کرتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
یہ شعر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
دین کو صرف عبادات تک محدود کرنا یا اسے عملی زندگی سے الگ سمجھنا اسلامی فکر کے منافی ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اسلام نوجوانوں سے کیا چاہتا ہے تو اس کا جواب نہایت واضح ہے۔
اسلام نوجوانوں کو طاقت، علم، کردار، دیانت، قیادت، خود اعتمادی اور خدمتِ خلق کا پیکر دیکھنا چاہتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ مسلمان نوجوان تعلیم، تحقیق، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیا، دعوت، سیاست اور سماجی خدمت سمیت ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کریں اور اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
طاقتور مؤمن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مؤمن سے زیادہ محبوب اور بہتر ہے، اگرچہ دونوں میں خیر موجود ہے۔
اسی طرح قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے:
اور تم اپنی استطاعت کے مطابق ان کے مقابلے کے لیے ہر ممکن قوت تیار رکھو۔ (سورۃ الانفال)
یہ قوت صرف جسمانی طاقت تک محدود نہیں بلکہ اس میں علم، تحقیق، معیشت، اخلاق، ٹیکنالوجی، میڈیا، تنظیم، خود انحصاری اور ہر وہ صلاحیت شامل ہے جو امت کو مضبوط بنا سکتی ہے۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ امت کی عظمت نوجوانوں کی محنت، علم، قربانی اور اخلاص سے وابستہ رہی ہے۔
صحابۂ کرامؓ، تابعین اور بعد کے ائمہ نے اپنی جوانی ہی میں ایسے علمی، دعوتی اور اصلاحی کارنامے انجام دیے جو آج بھی پوری امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
آج کے نوجوان اگر قرآن و سنت کو اپنا رہنما، اسلاف کے کردار کو اپنا نمونہ اور علم و اخلاق کو اپنی پہچان بنا لیں تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوار سکتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی کھوئی ہوئی عظمت کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے اسی امید کو ان الفاظ میں سمیٹ دیا ہے:
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نوا کوئی
اسلام نوجوانوں سے یہی چاہتا ہے کہ وہ ایمان کی روشنی، علم کی قوت، کردار کی بلندی اور عمل کی استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں، کیونکہ قوموں کا مستقبل ہمیشہ ان کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔