دنیا انسان کے لیے مستقل قیام گاہ نہیں بلکہ امتحان کی جگہ ہے۔
مال، شہرت اور دنیاوی کامیابیاں عارضی ہیں، جبکہ آخرت کی کامیابی ہمیشہ رہنے والی ہے۔
قرآن کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کا جائزہ لے، ایمان، اخلاص اور عملِ صالح کے ساتھ اپنی زندگی گزارے اور اپنی تمام کوششوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع بنائے۔
شہرت، اقتدار اور آسائشیں ان کی زندگی کا محور بن جاتی ہیں، حالانکہ یہ سب عارضی نعمتیں ہیں۔
انسان اگر صرف انہی چیزوں کو اپنی کامیابی سمجھے تو وہ ایک بڑے مغالطے کا شکار ہو جاتا ہے۔
جب انسان اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دنیا اس کی آخری منزل نہیں بلکہ ایک عارضی پڑاؤ ہے۔
اصل اور دائمی زندگی آخرت کی ہے، جہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔
یہی احساس انسان کے اہداف کو بدل دیتا ہے اور اسے دنیا کو مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ سمجھنے کی توفیق دیتا ہے۔
قرآنِ کریم اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرماتا ہے:
جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ (النحل: 96)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی ہر نعمت فنا ہونے والی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کے پاس موجود اجر ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔
اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان عارضی کامیابیوں کو ابدی کامیابی پر ترجیح نہ دے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کے اصل ہدف کو بھی واضح کر دیا ہے:
اور جس کا مقصد آخرت ہو، اور وہ اس کے لیے بھرپور کوشش کرے، جبکہ وہ ایمان والا بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش قبول کی جائے گی۔ (بنی اسرائیل: 19-21)
اس آیت میں کامیابی کا مکمل راستہ بیان کر دیا گیا ہے:
صحیح مقصد، مسلسل جدوجہد اور مضبوط ایمان۔
جب یہ تینوں صفات ایک انسان میں جمع ہو جائیں تو اس کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی
ہمارا دل و دماغ
بے وقعت اور
عظیم ہدف کے
درمیان فرق کو
محسوس کرے
اور زندگی کے
مقاصد پر
نظرِ ثانی کرے
اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے فضل سے سب کو نوازتا ہے، لیکن آخرت کی دائمی کامیابی انہی لوگوں کے لیے ہے جو ایمان، اخلاص اور عملِ صالح کے ساتھ اپنی زندگی گزارتے ہیں۔
اسی لیے قرآن کریم فرماتا ہے:
جو شخص نیک عمل کرے اور ایمان والا ہو، اس کی کوشش ہرگز ضائع نہیں کی جائے گی۔ (الانبیاء: 94)
قرآنِ کریم ایک اور مقام پر انسان کی محنت اور اس کے انجام کے بارے میں نہایت واضح انداز میں ارشاد فرماتا ہے:
انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی، اور اس کی کوشش ضرور دیکھی جائے گی، پھر اسے اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (سورۃ النجم: 39-41)
یہ آیات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہ کوئی مخلصانہ کوشش ضائع ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی نیک عمل بے اجر رہتا ہے۔
انسان کی نیت، اس کی جدوجہد اور اس کا کردار سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں، اور قیامت کے دن انہی کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔
یہ دنیا دراصل امتحان گاہ ہے، نہ کہ دائمی قیام گاہ۔
یہاں انسان کو مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اعمال، ترجیحات اور مقاصد کا انتخاب کرے۔
جو شخص دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھ کر نیک اعمال میں زندگی صرف کرتا ہے، وہی حقیقی کامیاب ہے، جبکہ صرف دنیاوی مفادات کے پیچھے دوڑنے والا انسان بظاہر کامیاب نظر آئے، لیکن اگر وہ آخرت کی تیاری سے غافل رہا تو اس کی کامیابی عارضی ثابت ہوگی۔
اسی حقیقت کو اہلِ علم نے نہایت مؤثر الفاظ میں یوں بیان کیا ہے:
کشتی کو مضبوط بنا لو، دریا بہت گہرا ہے۔ بوجھ ہلکا کر لو، راستہ دشوار ہے۔ زادِ سفر ساتھ لے لو، سفر بہت طویل ہے۔ اپنے عمل میں اخلاص پیدا کرو، کیونکہ پرکھنے والے کی نگاہ بہت تیز ہے۔
یہ چند جملے پوری زندگی کا خلاصہ ہیں۔
دنیا کا سفر مختصر ہے، لیکن آخرت کا سفر ہمیشہ رہنے والا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی توانائیاں ایسے کاموں میں صرف کرے جو اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب لے جائیں۔
رسول اللہﷺ کی تعلیمات اور قرآنِ کریم کی ہدایات آج بھی انسانیت کے لیے بہترین رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔
ابھی ہمارے پاس وقت ہے کہ ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں، اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں اور اپنے مقاصد کو کتابِ ہدایت کی روشنی میں ازسرِنو مرتب کریں۔
دنیاوی ترقی اور معاشی کامیابی یقیناً مطلوب ہیں، مگر انہیں آخرت کی کامیابی کے تابع ہونا چاہیے، نہ کہ اس کا متبادل۔
قرآنِ کریم خبردار کرتا ہے:
بے شک تمہاری کوششیں مختلف ہیں۔ (سورۃ اللیل: 4)
یہ آیت ہر انسان کو دعوتِ فکر دیتی ہے کہ وہ خود سے پوچھے:
میری محنت، میری صلاحیتیں اور میری زندگی کس مقصد کے لیے صرف ہو رہی ہیں؟
کیا میری دوڑ صرف دنیا کی چند روزہ آسائشوں تک محدود ہے، یا میں اس کامیابی کی تلاش میں ہوں جو کبھی ختم ہونے والی نہیں؟
حقیقت یہی ہے کہ جس نے آخرت کو اپنا اصل مقصد بنایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں جمع کر دیں۔
ایسے انسان کی دنیا بھی سنور جاتی ہے، کیونکہ وہ ہر معاملے میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے، اور اس کی آخرت بھی کامیاب ہو جاتی ہے، کیونکہ اس کی زندگی ایمان، اخلاص اور عملِ صالح سے مزین ہوتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذات کا غیر جانب دارانہ محاسبہ کریں، اپنے مقاصد کا ازسرِنو تعین کریں اور اپنے ہر عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع بنا دیں۔
اگر ہمارا دل و دماغ عارضی اور ابدی کامیابی کے فرق کو سمجھ لے تو ہماری ترجیحات بھی بدل جائیں گی اور ہماری زندگی کا رخ بھی۔
آخرکار ہر انسان کو اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے، جہاں نہ مال کام آئے گا، نہ شہرت اور نہ دنیاوی منصب؛ وہاں صرف ایمان، اخلاص اور نیک اعمال ہی نجات کا ذریعہ بنیں گے۔
اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم دنیا کو منزل نہیں بلکہ آخرت تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھیں، اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق ڈھالیں اور ہر قدم اس یقین کے ساتھ اٹھائیں کہ اصل کامیابی وہی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہو۔
آئیے، آج ہی اپنی زندگی کے اہداف کا جائزہ لیں، اپنی ترجیحات درست کریں اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اس مقصد کے لیے وقف کریں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا، دائمی فلاح اور ابدی کامیابی سے ہم کنار کر دے۔
یہی ایک مومن کی زندگی کا حقیقی نصب العین ہے۔
متعدد آراء
اللہ تعالی ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا کرے
اللہ تعالیٰ ہمیںحق کو پہچاننے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر ثابت قدم رہنے، اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔