امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے حال ہی میں ایک جدید طبی علاج کے طور پر خاص قسم کی مکھیوں کے لاروا کے استعمال کی منظوری دی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ طریقہ کار پرانے اور نہ بھرنے والے زخموں کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لاروا تھراپی
یہ طبی علاج آسٹریلوی بھیڑ کی مکھی کے لاروا پر مشتمل ہے، جسے اب ڈاکٹرز زخموں پر استعمال کر سکیں گے۔
والے اور انفیکشن زدہ ٹشوز کو اپنی خوراک بناتے ہیں، جس سے زخم کی صفائی ممکن ہوتی ہے۔
قدرتی سرجن
یہ لاروا ایسے انزائمز خارج کرتے ہیں جو مردہ ٹشوز کو مائع میں تبدیل کر دیتے ہیں، جسے وہ جذب کر لیتے ہیں۔
یہ عمل زخم میں موجود بیکٹیریا کی مقدار کو کم کرتا ہے اور جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے، اسی لیے انہیں ’مائیکرو نیچرل سرجنز‘ بھی کہا جاتا ہے۔
طبی تحفظ اور تیاری
یہ لاروا عام ماحول نہیں لیے جاتے بلکہ انہیں خصوصی لیبارٹریز میں جراثیم سے پاک ماحول میں تیار کیا جاتا ہے۔
یہ کسی بھی قسم کی بیماری یا جراثیم سے پاک ہوتے ہیں اور انہیں خاص پٹیوں یا تھیلیوں میں بند کر کے زخم پر لگایا جاتا ہے تاکہ یہ باہر نہ پھیل سکیں۔
یہ مکھیاں کون سا زخم کھاتی ہیں؟
یہ علاج ان زخموں کے لیے کارآمد ہے جو روایتی ادویات سے ٹھیک نہیں ہوتے۔
اِن زخموں میں ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے السر، بستر پر پڑے رہنے والے مریضوں کے زخم اور خون کی گردش میں کمی کے باعث بننے والے زخم شامل ہیں جن کا علاج مشکل ہوتا ہے۔
علاج کا تاریخی پس منظر
لاروا تھراپی کوئی نئی ایجاد نہیں ہے، یہ 1940ء کی دہائی سے استعمال ہو رہی ہے۔
تاہم اینٹی بائیوٹکس کے بڑھتے ہوئے اثرات اور بیکٹیریا کی مزاحمت کے پیشِ نظر اب اس سستے اور مؤثر طبی طریقے کو دوبارہ عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔
احتیاط اور طبی نگرانی
اگرچہ یہ علاج مؤثر ہے، لیکن ہر مریض کے لیے موزوں نہیں۔ اس کا فیصلہ ڈاکٹر طبی حالات کو دیکھ کر کرتا ہے۔
کچھ مطالعات کے مطابق یہ زخموں کو صاف کرنے میں مفید ہے، تاہم زخم کے جلد بھرنے یا اعضا کو کٹنے سے بچانے کے بارے میں شواہد ابھی محدود ہیں۔
عوامی تاثر اور حقیقت
زخم پر لاروا کا ہونا نفسیاتی طور پر پریشان کن ہو سکتا ہے، لیکن طبی لحاظ سے یہ مکمل کنٹرول شدہ عمل ہے۔
یہ لاروا زخم کے اندر مکھیوں میں تبدیل نہیں ہوتے اور علاج کا دورانیہ ختم ہونے پر انہیں طبی نگرانی میں مکمل طور پر ہٹا دیا جاتا ہے۔
ایف ڈی اے کی جانب سے اس علاج کی منظوری اس بات کا اعتراف ہے کہ جدید طبی ٹیکنالوجی کے دور میں بھی روایتی اور قدرتی طریقہ علاج اپنی افادیت رکھتے ہیں۔
یہ ان مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے جو طویل عرصے سے دائمی زخموں کے تکلیف دہ عمل سے گزر رہے ہیں۔