براہ راست نشریات

’زخم کھانے والی مکھی‘: امریکہ میں لاروا تھراپی کا طبی استعمال شروع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نیا علاج آسٹریلیائی بھیڑوں کی مکھی سے کیا جاتا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے حال ہی میں ایک جدید طبی علاج کے طور پر خاص قسم کی مکھیوں کے لاروا کے استعمال کی منظوری دی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ طریقہ کار پرانے اور نہ بھرنے والے زخموں کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

لاروا تھراپی 

یہ طبی علاج آسٹریلوی بھیڑ کی مکھی کے لاروا پر مشتمل ہے، جسے اب ڈاکٹرز زخموں پر استعمال کر سکیں گے۔ 

یہ لاروا صحت مند ٹشوز کو نقصان پہنچائے بغیر صرف مردہ، سڑنے 

والے اور انفیکشن زدہ ٹشوز کو اپنی خوراک بناتے ہیں، جس سے زخم کی صفائی ممکن ہوتی ہے۔

قدرتی سرجن

یہ لاروا ایسے انزائمز خارج کرتے ہیں جو مردہ ٹشوز کو مائع میں تبدیل کر دیتے ہیں، جسے وہ جذب کر لیتے ہیں۔

یہ عمل زخم میں موجود بیکٹیریا کی مقدار کو کم کرتا ہے اور جراثیم کا خاتمہ کرتا ہے، اسی لیے انہیں ’مائیکرو نیچرل سرجنز‘ بھی کہا جاتا ہے۔

bee lawra for injury
یہ طریقہ کار پرانے اور نہ بھرنے والے زخموں کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

طبی تحفظ اور تیاری

یہ لاروا عام ماحول نہیں لیے جاتے بلکہ انہیں خصوصی لیبارٹریز میں جراثیم سے پاک ماحول میں تیار کیا جاتا ہے۔

یہ کسی بھی قسم کی بیماری یا جراثیم سے پاک ہوتے ہیں اور انہیں خاص پٹیوں یا تھیلیوں میں بند کر کے زخم پر لگایا جاتا ہے تاکہ یہ باہر نہ پھیل سکیں۔

یہ مکھیاں کون سا زخم کھاتی ہیں؟

یہ علاج ان زخموں کے لیے کارآمد ہے جو روایتی ادویات سے ٹھیک نہیں ہوتے۔

اِن زخموں میں ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے السر، بستر پر پڑے رہنے والے مریضوں کے زخم اور خون کی گردش میں کمی کے باعث بننے والے زخم شامل ہیں جن کا علاج مشکل ہوتا ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

علاج کا تاریخی پس منظر

لاروا تھراپی کوئی نئی ایجاد نہیں ہے، یہ 1940ء کی دہائی سے استعمال ہو رہی ہے۔

تاہم اینٹی بائیوٹکس کے بڑھتے ہوئے اثرات اور بیکٹیریا کی مزاحمت کے پیشِ نظر اب اس سستے اور مؤثر طبی طریقے کو دوبارہ عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔

احتیاط اور طبی نگرانی

اگرچہ یہ علاج مؤثر ہے، لیکن ہر مریض کے لیے موزوں نہیں۔ اس کا فیصلہ ڈاکٹر طبی حالات کو دیکھ کر کرتا ہے۔

کچھ مطالعات کے مطابق یہ زخموں کو صاف کرنے میں مفید ہے، تاہم زخم کے جلد بھرنے یا اعضا کو کٹنے سے بچانے کے بارے میں شواہد ابھی محدود ہیں۔

bee lawra for injury3
یہ لاروا ایسے انزائمز خارج کرتے ہیں جو مردہ ٹشوز کو مائع میں تبدیل کر دیتے ہیں، جسے وہ جذب کر لیتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

عوامی تاثر اور حقیقت

زخم پر لاروا کا ہونا نفسیاتی طور پر پریشان کن ہو سکتا ہے، لیکن طبی لحاظ سے یہ مکمل کنٹرول شدہ عمل ہے۔

یہ لاروا زخم کے اندر مکھیوں میں تبدیل نہیں ہوتے اور علاج کا دورانیہ ختم ہونے پر انہیں طبی نگرانی میں مکمل طور پر ہٹا دیا جاتا ہے۔

ایف ڈی اے کی جانب سے اس علاج کی منظوری اس بات کا اعتراف ہے کہ جدید طبی ٹیکنالوجی کے دور میں بھی روایتی اور قدرتی طریقہ علاج اپنی افادیت رکھتے ہیں۔ 

یہ ان مریضوں کے لیے امید کی کرن ہے جو طویل عرصے سے دائمی زخموں کے تکلیف دہ عمل سے گزر رہے ہیں۔