ملائیشیا کی پارلیمنٹ نے ایک آسٹریلوی کمپنی اور امریکی محکمہ دفاع کے درمیان ہونے والے 96 ملین ڈالر کے معاہدے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس معاہدے کے تحت نایاب زمینی معدنیات کی فراہمی کی جانی تھی، جس پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ مواد غزہ پر استعمال کیے گئے ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے بین الاقوامی تعلقات و تجارت کے سربراہ وونگ چن نے اعلان کیا کہ 16 جولائی کو اس معاملے پر باقاعدہ سماعت ہوگی۔
اس اجلاس میں آسٹریلوی کمپنی لائیناس ریر ارتھس کے نمائندوں، حکومتی عہدیداروں، ماحولیاتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو طلب کیا گیا ہے تاکہ معاہدے کی تفصیلات اور ملکی پالیسیوں کی ممکنہ خلاف ورزی کا جائزہ لیا جا سکے۔
کمیٹی کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ آیا یہ معدنیات قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے تھیں یا ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوئیں۔
وونگ چن نے واضح کیا کہ اگر یہ مواد ہتھیاروں کے لیے استعمال ہوا تو ملائیشیا کو اس معاہدے کی مخالفت کرنی چاہیے۔ اس سماعت کے نتائج مستقبل میں ملائیشیا کی معدنیاتی پالیسی کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
یہ پیش رفت پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد سامنے آئی، جس میں گرین پیس اور بی ڈی ایس تحریک کے کارکنوں نے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ لائیناس کمپنی ملائیشیا میں دنیا کا سب سے بڑا پروسیسنگ پلانٹ چلاتی ہے، تاہم اسے 4 سالہ معاہدے کے حوالے سے شدید عوامی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا سامنا ہے۔
غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کمپنی کا فراہم کردہ مواد امریکی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوا، جو اسرائیلی کارروائیوں میں کام آئے۔
یاد رہے کہ اکتوبر کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1072 فلسطینی شہید اور 3463 زخمی ہو چکے ہیں۔
اس سے پہلے اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
اس طویل جنگ کے نتیجے میں غزہ کا 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔