براہ راست نشریات

مکہ اور مدینہ میں زائرین کی رہائش کے لیے نئے ضوابط کا اجرا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
حج سیزن ضوابط
حج سے قبل رہائشی عمارتوں کا لازمی حفاظتی اور آپریشنل معائنہ ہوگا (فوٹو: ایکس)

سعودی وزارتِ سیاحت نے حج سیزن کے دوران مکہ اور مدینہ میں عازمین کی رہائش کے لیے نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جن میں حفاظتی معائنہ، منظور شدہ رہائشی معاہدے، کھانا پکانے پر پابندی اور خلاف ورزی پر سخت سزائیں شامل ہیں۔

سعودی وزارتِ سیاحت نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حج سیزن کے دوران عازمین کے لیے رہائشی مراکز کے آپریشن کے لیے نئے ضوابط جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

ان ہدایات کا مقصد عازمین حج کو معیاری رہائشی سہولیات فراہم کرنا، آپریشنل تیاری کو یقینی بنانا اور خلاف ورزیوں پر قانونی کارروائی کو مؤثر بنانا ہے۔

وزارت کے مطابق تمام لائسنس یافتہ رہائشی عمارتوں کو حج سیزن سے قبل وزارت کی مقررہ تاریخوں پر آپریشنل تیاری کے معائنے سے گزرنا ہوگا۔ 

مزید پڑھیں

اس کے علاوہ لفٹوں، ایئرکنڈیشننگ، بجلی، پلمبنگ، فائر سیفٹی، الارم سسٹم، عمارت کی صفائی، پانی کے ٹینکوں اور ایمرجنسی راستوں کی مکمل جانچ سے متعلق مجاز اداروں کے جاری کردہ سرٹیفکیٹس بھی پیش کرنا ہوں گے۔

نئے ضوابط کے تحت حجاج کی رہائش سے متعلق تمام معاہدے صرف وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے منظور شدہ اور دستاویزی طریقہ کار 

کے مطابق ہی کیے جا سکیں گے۔ 

اسی طرح متعلقہ حکام کی پیشگی اجازت کے بغیر رہائشی عمارت کے اندر کسی بھی قسم کی میڈیا یا تشہیری سرگرمی پر پابندی ہوگی۔

564564654
بغیر اجازت میڈیا اور تشہیری سرگرمیوں پر پابندی (فوٹو: ایکس)

وزارت نے عوامی آراء کے لیے ’سروے‘ پلیٹ فارم پر جاری کیے گئے مسودے میں یہ بھی لازمی قرار دیا ہے کہ پینے کے لیے صرف سرکاری ذرائع سے فراہم کردہ پانی استعمال کیا جائے، جبکہ حج سیزن سے قبل پانی کے ٹینکوں کی صفائی، جراثیم کشی اور معائنے کے مصدقہ سرٹیفکیٹس بھی جمع کرائے جائیں۔ 

اس کے علاوہ پورے حج سیزن کے دوران سرکاری بجلی کی مسلسل فراہمی بھی یقینی بنانا ہوگی۔

فکر و نفس کی تربیت، دین و دنیا کی رہنمائی، کلک کریں

ہدایات کے مطابق رہائشی عمارتوں کے مالکان کو مجاز کمپنیوں کے ساتھ لفٹوں، جنریٹروں، بیرونی و اندرونی ڈھانچے، ایئرکنڈیشننگ، بجلی، پلمبنگ، پانی کے ٹینکوں، ایمرجنسی راستوں، فائر الارم، نگرانی کے نظام، کیڑوں اور چوہوں کے خاتمے، صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے لیے باقاعدہ آپریشن اور مینٹیننس معاہدے کرنا ہوں گے، جبکہ ان تمام سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنا بھی لازمی ہوگا۔

وزارت نے عمارت کے اندر یا باہر، استقبالیہ، لفٹوں یا داخلی راستوں پر کسی بھی قسم کے اشتہارات یا پوسٹرز آویزاں کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ 

اسی طرح تمام مرمت اور تیاری کے کام مہمانوں کی آمد سے پہلے مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

564654564
رہائشی عمارت کے اندر کھانا پکانے کی سخت کی ممانعت (فوٹو: ایکس)

نئے ضوابط کے تحت رہائشی عمارت کے اندر عملے یا مہمانوں کی جانب سے کھانے اور مشروبات تیار کرنے یا پکانے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ باہر سے تیار شدہ کھانا مقررہ مقامات پر پیش کیا جا سکے گا۔

مزید برآں ہالز، کچن، تہہ خانوں، میزانین فلور اور چھتوں کو رہائش یا اسٹوریج کے لیے استعمال کرنے پر بھی پابندی ہوگی، جبکہ ان مقامات پر واضح ہدایتی بورڈ آویزاں کرنا لازمی ہوگا کہ ان کا استعمال صرف عملہ خدمات کی فراہمی کے لیے کر سکتا ہے۔

وزارتِ سیاحت نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں سعودی سیاحت کے قانون اور منظور شدہ ضابطۂ جرمانہ کے تحت سخت کارروائی اور سزائیں دی جائیں گی۔

حرمین شریفین، حج اور عمرہ کی مزید خبروں کے لئے کلک کریں