امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے امریکی فارورڈ فولارین بالوگون کی سرخ کارڈ کے نتیجے میں عائد پابندی معطل کر دی، جس سے وہ بیلجیم کے خلاف پری کوارٹر فائنل کھیلنے کے اہل ہو گئے۔
فیصلے نے ورلڈ کپ میں قانونی اور اخلاقی تنازع کو جنم دے دیا۔
فیفا کے 2026 ورلڈ کپ میں امریکی قومی ٹیم کے فارورڈ فولارین بالوگون کو دوبارہ کھیلنے کی اجازت دینے کے فیصلے نے عالمی فٹبال میں بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کو فون کر کے بالوگون کی سرخ کارڈ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا، جو انہیں بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں دیا گیا تھا۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق اس فون کال کے چند روز بعد فیفا نے بالوگون کی معطلی ختم کرتے ہوئے انہیں بیلجیم کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں کھیلنے کی اجازت دے دی۔
اس غیر معمولی فیصلے نے کھیلوں اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی۔
مزید پڑھیں
فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر فیفا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا:
درست فیصلہ کرنے اور ایک بڑے ظلم کی اصلاح پر فیفا کا شکریہ۔
فیفا نے اپنے فیصلے کی بنیاد انضباطی ضابطوں کے آرٹیکل 27 پر رکھی، جسے بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ شق انضباطی کمیٹی کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ سزا کو مکمل طور
پر ختم کرنے کے بجائے ایک سال کی آزمائشی مدت کے لیے معطل کر سکتی ہے۔
اس فیصلے کے تحت بالوگون پر پابندی صرف اسی صورت میں نافذ ہوگی اگر وہ آزمائشی مدت کے دوران دوبارہ اسی نوعیت کی خلاف ورزی کریں۔
🚨🚨🚨🚨⚠️ فضيحة كروية ⚠️🚨🚨🚨🚨 https://t.co/soZd3fOUuT pic.twitter.com/6kcVWPhAAq
— حسن الناقور Mr.Nagoor (@hasanalnaqour) July 6, 2026
تاہم قانونی ماہرین نے اس تشریح پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ کے قواعد کے آرٹیکل 10.5 اور فیفا کے انضباطی ضابطوں کے آرٹیکل 66.4 کے مطابق براہِ راست سرخ کارت ملنے پر اگلے میچ میں خودکار معطلی لازمی ہوتی ہے، اس لیے آرٹیکل 27 کا استعمال قوانین سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
بیلجیم کا سخت ردعمل
بیلجیئم فٹبال فیڈریشن نے فیفا کے فیصلے پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام قانونی راستوں پر غور کر رہی ہے تاکہ مقابلے میں برابری اور فیئر پلے کے اصولوں کا تحفظ کیا جا سکے۔
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے تمام شریک ممالک کو واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ براہِ راست سرخ کارت کی صورت میں اگلے میچ کی معطلی لازمی ہوگی، اس لیے دورانِ ٹورنامنٹ اس اصول کو تبدیل کرنا مقابلے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
ذرائع کے مطابق بیلجیئم معاملہ کھیلوں کی ثالثی عدالت CAS میں لے جانے پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے ورلڈ کپ کے دوران ایک بڑے قانونی تنازع کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
رونالڈو کی مثال
فیفا نے وضاحت کی کہ ماضی میں کرسٹیانو رونالڈو کے معاملے میں بھی آرٹیکل 27 استعمال کیا گیا تھا، جب ورلڈ کپ سے قبل ان کی سزا کا ایک حصہ معطل کیا گیا تھا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوگون کا کیس بنیادی طور پر مختلف ہے، کیونکہ ان کی معطلی خود ورلڈ کپ کے دوران ہوئی تھی، جس کے باعث سزا ختم کرنے کا فیصلہ قانونی اور کھیلوں کے اعتبار سے کہیں زیادہ متنازع بن گیا۔
واضح رہے کہ بالوگون نے بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف امریکہ کی 2-0 کی فتح میں ایک گول بھی کیا تھا، تاہم بعد میں خطرناک ٹیکل کے باعث انہیں براہِ راست سرخ کارت دکھا دیا گیا۔
اب فیفا کے فیصلے کے بعد وہ بیلجیم کے خلاف پری کوارٹر فائنل کھیلنے کے اہل ہوں گے، مگر اس فیصلے پر تنازع تاحال برقرار ہے۔