سعود ماجد الدویش
سعودی کالم نگار
کرسٹیانو رونالڈو صرف ایک عظیم فٹبالر نہیں بلکہ دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کی شخصیت، نظم و ضبط اور اسلامی اقدار کے احترام سے متعلق مختلف واقعات نے کئی بار یہ سوال پیدا کیا کہ اگر وہ کبھی اسلام قبول کریں تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟
یہ مضمون اسی سوال کا متوازن اور فکری جائزہ پیش کرتا ہے۔
قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ سے آنسوؤں کے ساتھ میدان چھوڑنے والے کرسٹیانو رونالڈو اور 2026 میں سعودی کلب النصر کے ساتھ لیگ ٹائٹل جیت کر خوشی سے جشن منانے والے رونالڈو کے درمیان واقعی زمین آسمان کا فرق ہے۔
اسی طرح مانچسٹر یونائیٹڈ میں بینچ پر بیٹھنے والے رونالڈو اور بعد میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ اعلیٰ سطح کی تقریبات میں شریک ہونے والے رونالڈو میں بھی بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔
یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے سعودی منصوبے پر جو اعتماد کیا، وہ وقت کے ساتھ ایک کامیاب فیصلہ ثابت ہوا۔
ابتدا میں بہت سے لوگوں نے اس فیصلے پر تنقید کی، لیکن بعد میں یہی قدم ان کے کھیل اور عالمی تشخص کا ایک اہم موڑ بن گیا۔
مزید پڑھیں
لیونیل میسی کی غیر معمولی صلاحیتوں سے شاید ہی کوئی انکار کرے، حتیٰ کہ رونالڈو کے مداح بھی۔
لیکن کرسٹیانو رونالڈو کو دوسروں سے ممتاز بنانے والی چیز صرف ان کے گول، ریکارڈز یا ٹرافیاں نہیں، بلکہ ان کی شخصیت، نظم و ضبط، خود اعتمادی اور ہر چیلنج کو قبول کرنے کا انداز بھی ہے۔
انہوں نے مختلف ممالک اور مختلف لیگز میں کھیل کر خود کو ہر ماحول
میں ثابت کیا، اور آج بھی وہ نئی کامیابیوں کی تلاش میں ہیں۔
گویا ان کے نزدیک کامیابی منزل نہیں بلکہ مسلسل سفر ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں رونالڈو نے کہا تھا کہ انسان کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہے کہ وہ ہر روز ایک ہی کام اسی جذبے اور شوق کے ساتھ جاری رکھے۔
یہ جملہ واقعی غور و فکر کا متقاضی ہے، خصوصاً ایسے دور میں جب بہت سے لوگ معمول کی زندگی کو اپنی ناکامیوں کا جواز بنا لیتے ہیں۔
یہ تحریر نہ تو ان کے فٹبالی ریکارڈز کے بارے میں ہے اور نہ ہی ان کی عالمی شہرت کے بارے میں، بلکہ اس اثر و رسوخ کے بارے میں ہے جو کھیل کی حدود سے بہت آگے جا چکا ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں افراد انہیں صرف ایک فٹبالر نہیں بلکہ محنت، نظم و ضبط اور استقامت کی علامت سمجھتے ہیں۔
سابق سعودی گول کیپر ولید عبداللہ کے مطابق کرسٹیانو رونالڈو اذان کے وقت کوچ سے ٹریننگ روکنے کی درخواست کرتے تھے اور نماز کے اوقات کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ اسی طرح وہ اپنے جسم پر ٹیٹو نہیں بنواتے، سافٹ ڈرنکس سمیت غیر صحت بخش مشروبات سے گریز کرتے ہیں، اپنی والدہ اور خاندان سے بے حد محبت کرتے ہیں، نظم و ضبط کو پسند کرتے ہیں اور اپنے نظریات کا اظہار بلا جھجھک کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی دن رونالڈو اسلام قبول کر لیں تو کیا ہوگا؟
یقیناً اسلام کسی شخصیت کا محتاج نہیں، بلکہ اسلام قبول کرنے والا خود سب سے بڑا فائدہ اٹھاتا ہے۔
تاہم دنیا بھر کے مسلمان ہر اس شخص کی ہدایت پر خوشی محسوس کرتے ہیں جو اسلام کی طرف آتا ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺ بھی لوگوں کی ہدایت پر خوش ہوتے تھے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے اللہ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔
رونالڈو دنیا کی سب سے زیادہ بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
اگر وہ کبھی اسلام قبول کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ دنیا بھر میں بے شمار لوگ اسلام کے بارے میں جاننے، اسے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔
تاہم یہ محض ایک امکان ہے، اس بارے میں کوئی دعویٰ یا پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
مسلمان اس یقین پر قائم ہیں کہ اسلام پوری دنیا تک پہنچے گا، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
یہ دین وہاں تک ضرور پہنچے گا جہاں تک رات اور دن پہنچتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کوئی کچا یا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اس دین کو ضرور داخل کرے گا، خواہ عزت کے ساتھ یا ذلت کے ساتھ۔
آخر میں، چاہے رونالڈو کبھی اسلام قبول کریں یا نہ کریں، ان کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ کامیابی ان لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو خود پر یقین رکھتے ہیں، مسلسل محنت کرتے ہیں، نظم و ضبط کو اپناتے ہیں اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہیں۔
یہی وہ اقدار ہیں جو ہر انسان کو اپنی کامیابی کی داستان لکھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔