اگست 2003 کی ایک شام پرتگال کے شہر شاویز میں قازقستان کے خلاف دوستانہ میچ سے شروع ہونے والا کرسٹیانو رونالڈو کا سفر اب ایک تاریخی موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
مزید پڑھیں
اُس وقت کے نوجوان کھلاڑی نے 2 دہائیوں پر محیط اپنے شاندار کیریئر میں پرتگال کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان عطا کی ہے۔
رونالڈو اب 2026 کے ورلڈ کپ میں اپنے چھٹے عالمی میلے میں شرکت کی تیاری کر رہے ہیں، جو فٹ بال کی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
ان کے ساتھ ارجنٹائن کے لیونل میسی اور میکسیکو کے گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی یہی تاریخی سنگ میل عبور کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔
عالمی سطح پر 143 گول اسکور کرنے والے رونالڈو نے پرتگال میں فٹبال کے کھیل کو ایک نئی جہت دی ہے۔
سابق کوچ جواؤ اروسو کے مطابق رونالڈو نے ایک چھوٹے سے ملک کو عالمی سطح پر وہ وقار اور نام دیا ہے جو شاید کسی اور شعبے سے کبھی ممکن نہیں ہو پاتا۔
تاہم حالیہ ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل لزبن میں رونالڈو کی ٹیم میں جگہ پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ وہ ٹیم کا حصہ ہوں گے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں ابتدائی الیون میں شامل ہونا چاہیے یا اب وہ متبادل کھلاڑی کے طور پر بہتر ہیں۔
پرتگال کے سابق اسٹار کھلاڑی انتونیو سیموئس نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رونالڈو اب ٹیم کے بجائے اپنی ذات کے لیے کھیلتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیم ان کی موجودگی میں مشکلات کا شکار ہوتی ہے اور وہ ایزیبیو کے برعکس صرف اسٹار بننا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب پرتگالی کوچ روبرٹو مارٹنیز ان تنقیدوں کو محض چہ میگوئیاں قرار دیتے ہیں۔
وہ رونالڈو کے حالیہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے آخری 31 میچوں میں 25 گول کیے ہیں، جو ان کی مسلسل بہترین کارکردگی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ پرتگال نے رونالڈو کی غیر موجودگی میں لکسمبرگ کے خلاف 0-9 اور آرمینیا کے خلاف 1-9 سے بڑی فتوحات حاصل کیں۔
تجزیہ کار صوفیہ اولیویرا کا خیال ہے کہ ٹیم کی اب رونالڈو کے ساتھ وہ ہم آہنگی نہیں پائی جاتی جو ٹائٹل جیتنے کے لیے ضروری ہے۔
پرتگالی فٹ بال فیڈریشن کے صدر پیڈرو بروئنسا نے ان تاثرات کو مسترد کیا ہے کہ رونالڈو کوچز کے انتخاب یا پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ فیڈریشن کے ادارے کسی بھی فرد سے بڑے ہیں اور تمام فیصلے مکمل میرٹ پر ہوتے ہیں۔
یاد رہے کہ عالمی اسٹار کھلاڑی کی کمپنی ’AVA CR7‘ کے ساتھ فیڈریشن کی تجارتی شراکت داری پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس میں مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے اور رونالڈو نے ان کاروباری مذاکرات میں کبھی براہ راست حصہ نہیں لیا اور نہ ہی اثر انداز ہوئے۔
سابق گول کیپر ریکارڈو کا کہنا ہے کہ اگرچہ عمر کے ساتھ رونالڈو کی رفتار میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن ان کی ذہنی اور تکنیکی مہارتیں اب بھی حریف ٹیموں کے لیے خطرہ ہیں۔
وہ آج بھی میدان میں ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔
دنیا بھر کی نظریں اب 17 جون پر جمی ہیں جب پرتگال جمہوریہ کانگو کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گا۔
یہ رونالڈو کا آخری عالمی کپ ہو سکتا ہے، جہاں وہ اپنی یادگار مسافت کو ورلڈ کپ ٹرافی کے ساتھ مکمل کرنے کی آخری کوشش کریں گے۔