براہ راست نشریات

امریکہ پر دفاعی انحصار ختم کرنے کا یورپی منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
یورپی سپرفائٹر منصوبہ اور فرانس جرمنی کا دفاعی تنازع
فرانس، جرمنی اور اسپین نے سکستھ جنریشن لڑاکا طیارے کا منصوبہ شروع کیا تھا (فوٹو: اے آئی)
OVERSEAS POST  |  PREMIUM STORY

یورپ برسوں سے یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ دفاع کے معاملے میں امریکہ پر انحصار کم کیا جائے اور ایسی جدید فوجی طاقت بنائی جائے جو عالمی سطح پر واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کا مقابلہ کرسکے۔

مزید پڑھیں

اسی سوچ کے تحت فرانس، جرمنی اور بعد میں اسپین نے ایک ایسے سکستھ جنریشن لڑاکا طیارے کی تیاری کا منصوبہ شروع کیا تھا جو آنے والی دہائیوں میں یورپی فضائی طاقت کی بنیاد بنتا۔

تاہم تقریباً ایک دہائی کی طویل منصوبہ بندی، اربوں یورو کے بھاری اخراجات اور بڑے بڑے دعووں کے بعد یہ منصوبہ فرانس اور جرمنی کے اختلافات کی نذر ہوگیا۔ 

یوں ایک جدید جنگی طیارے کی ناکامی نے یورپی دفاعی خودمختاری سے متعلق کئی بڑے سوال اٹھا دیے ہیں۔

🎯 یہ کیوں اہم ہے؟
✈️ یورپ کی مستقبل کی فضائی طاقت متاثر ہوئی ہے: FCAS محض ایک نیا لڑاکا طیارہ نہیں تھا بلکہ اسے آنے والی دہائیوں میں رافال اور یوروفائٹر ٹائیفون کا جانشین بننا تھا۔ اس کی ناکامی یورپ کے چھٹی نسل کی فضائی ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
🇫🇷 🇩🇪 فرانس اور جرمنی کے اختلافات یورپی اتحاد کے لیے بڑا امتحان ہیں: یورپی یونین کی دو سب سے بڑی دفاعی طاقتیں اگر ایک اہم مشترکہ منصوبے پر متفق نہیں ہوسکتیں تو مستقبل کے بڑے یورپی دفاعی پروگرام بھی اسی قسم کے مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔
🛡️ امریکا پر یورپ کا دفاعی انحصار برقرار رہ سکتا ہے: فرانس طویل عرصے سے یورپ کو امریکی دفاعی چھتری سے زیادہ آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔ مشترکہ لڑاکا طیارے کا منصوبہ ناکام ہونے سے یہ ہدف مزید مشکل ہوگیا ہے۔
💶 اربوں یورو کے دفاعی منصوبوں پر بھی سوال اٹھ گئے ہیں: منصوبے کی متوقع لاگت 100 ارب یورو سے بڑھ کر تقریباً 170 ارب یورو تک پہنچ گئی، جبکہ طیارے کی ممکنہ آمد 2040 سے کھسک کر 2055 تک چلی گئی۔ یہ یورپی دفاعی منصوبہ بندی کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
🤖 جدید جنگ صرف طیارے کی نہیں بلکہ پورے ڈیجیٹل نیٹ ورک کی جنگ ہے: مجوزہ فائٹر مصنوعی ذہانت، خودکار ڈرونز، جدید سینسرز اور کامبیٹ کلاؤڈ کے ذریعے میدان جنگ کو ایک مربوط نظام میں بدلنے والا تھا، اس لیے منصوبے کا خاتمہ کئی دوسری ٹیکنالوجیز کے مستقبل کو بھی متاثر کرتا ہے۔
🌍 یہ معاملہ عالمی طاقت کے توازن سے بھی جڑا ہے: امریکا، چین اور دیگر بڑی طاقتیں نئی نسل کے جنگی طیاروں پر تیزی سے کام کر رہی ہیں۔ ایسے وقت میں یورپ کا اندرونی اختلاف اس کی عالمی فوجی حیثیت اور اسٹریٹجک خودمختاری کو کمزور کرسکتا ہے۔

منصوبہ صرف لڑاکا طیارے تک محدود نہیں تھا

2017 میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اس وقت کی جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے مستقبل کے فضائی جنگی نظام، یعنی FCAS، پر کام شروع کیا۔ بعد میں اسپین بھی اس میں شامل ہوگیا۔

منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 100 ارب یورو رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد سکستھ جنریشن لڑاکا طیارہ تھا۔

لیکن اس کے ساتھ خودکار ڈرونز، جدید سینسرز، مصنوعی ذہانت، مشترکہ ڈیٹا نیٹ ورک اور ایسا کامبیٹ کلاؤڈ بھی تیار ہونا تھا جو میدان جنگ میں مختلف طیاروں اور نظاموں کو ایک دوسرے سے جوڑتا۔

اس جدید ترین طیارے کو رافال اور یوروفائٹر ٹائیفون کا جانشین بننا تھا۔ 

اصل منصوبہ یہ تھا کہ یہ طیارہ دشمن کے ریڈار سے بڑی حد تک چھپ سکے، اپنے ساتھ ڈرونز کے پورے گروپ کو کنٹرول کرے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے پائلٹ کو چند لمحوں میں فیصلہ کرنے کے قابل بنائے۔

اصل لڑائی طیارے سے زیادہ اختیار کی تھی

ظاہری طور پر تنازع تکنیکی معاملات پر تھا، مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ منصوبے کی قیادت کس کے پاس ہوگی۔

فرانسیسی کمپنی داسو، جو رافال اور میراج جیسے لڑاکا طیارے بنا چکی ہے، چاہتی تھی کہ نئے طیارے کے ڈیزائن اور حساس ٹیکنالوجی سے متعلق آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہو۔ 

Logo

یورپی سپر فائٹر منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟

فرانس اور جرمنی کے اختلافات نے دفاعی خواب توڑ دیا

دفاعی خودمختاری حاصل کرنے کا یورپی منصوبہ فرانس اور جرمنی کے درمیان شدید قیادت اور تکنیکی اختلافات کی نذر ہو گیا۔

💰 بجٹ کا بوجھ اور التوا 📈

170

ابتدائی 100 ارب یورو کا تخمینہ بڑھ کر 170 ارب یورو تک جا پہنچا، جبکہ طیارے کی تیاری 2040 کے بجائے 2055 تک مؤخر ہو گئی۔

⚔️ اختیارات اور تکنیک کی جنگ 🛡️

فرانسیسی کمپنی داسو ڈیزائن کا حتمی اختیار چاہتی تھی، جبکہ جرمن ایئربس مساوی شراکت داری پر بضد رہی۔

🎯 مختلف فوجی ترجیحات 🛩️

فرانس کو بحری جہاز سے اڑنے والا جوہری طیارہ چاہیے تھا، جبکہ جرمنی نیٹو کے ساتھ مربوط نظام کا خواہاں تھا۔

🌐 امریکی انحصار کا بڑا چیلنج 🌍

منصوبے کی ناکامی نے ثابت کر دیا کہ یورپی ممالک کے لیے اپنے قومی مفادات چھوڑ کر مشترکہ فوجی طاقت بننا انتہائی مشکل ہے۔

اس کمپنی کا مؤقف تھا کہ جدید لڑاکا طیارہ کسی ایسی مشترکہ انتظامیہ کے ذریعے نہیں بنایا جاسکتا جہاں ہر شریک کو برابر اختیارات حاصل ہوں۔

دوسری طرف جرمنی اور اسپین کی نمائندگی کرنے والی ایئربس مساوی حیثیت چاہتی تھی۔ 

اس سلسلے میں برلن اور میڈرڈ کا سوال سادہ تھا کہ اگر سرمایہ تقریباً برابر لگایا جارہا ہے تو ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور فیصلہ سازی میں حصہ بھی برابر ہونا چاہیے۔

داسو کو اپنی کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی دفاعی ٹیکنالوجی دوسروں کے ساتھ بانٹنے پر تحفظات تھے اور یہی اختلاف آہستہ آہستہ صنعتی مفادات اور قومی خودمختاری کا مسئلہ بن گیا۔

europe super fighter jet7

فرانس اور جرمنی کو ایک جیسا طیارہ بھی نہیں چاہیے تھا

منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک کی فوجی ضروریات بنیادی طور پر مختلف تھیں۔

فرانس جوہری طاقت ہے، اس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز بھی ہے اور وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں آزادانہ فوجی کارروائیوں کی صلاحیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ 

اس لیے پیرس ایسا طیارہ چاہتا تھا جو طیارہ بردار جہاز سے اُڑ سکے، جوہری ہتھیار لے جاسکے اور امریکہ یا نیٹو کی مدد کے بغیر طویل فاصلے کے مشن انجام دے سکے۔

📊 فیکٹ باکس
🚀 منصوبے کا آغاز 2017
🇫🇷 🇩🇪 🇪🇸 مرکزی شراکت دار فرانس، جرمنی، اسپین
✈️ مرکزی منصوبہ چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ
💶 ابتدائی تخمینی لاگت 100 ارب یورو
📈 بعد کی تخمینی لاگت 170 ارب یورو
🗓️ اصل ہدف 2040 تک سروس میں آمد
بعد کا متوقع ہدف 2055
🏭 اہم صنعتی کمپنیاں داسو اور ایئربس
🤖 نمایاں ٹیکنالوجیز AI، ڈرونز، جدید سینسرز
☁️ ڈیجیٹل جنگی نظام کامبیٹ کلاؤڈ
⚠️ بنیادی تنازع قیادت، ٹیکنالوجی اور اختیار
🛡️ بڑا اسٹریٹجک سوال یورپی دفاعی خودمختاری

جرمنی کی ترجیحات مختلف تھیں۔ اُس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز نہیں اور وہ پہلے ہی امریکی F-35 خرید چکا ہے۔ وہ ایسا نظام چاہتا تھا جو نیٹو اور موجودہ امریکی و یورپی دفاعی نیٹ ورک کے ساتھ کام کرسکے۔

یوکرین جنگ کے بعد روس سے متعلق خدشات بڑھے تو جرمنی کے لیے اپنی ضروریات پر سمجھوتا مشکل ہوگیا۔

لاگت بڑھی، وقت ہاتھ سے نکل گیا

اختلافات کے ساتھ منصوبے کی قیمت بھی مسلسل بڑھتی رہی۔ ابتدائی 100 ارب یورو کا تخمینہ بڑھ کر تقریباً 170 ارب یورو تک جا پہنچا۔

اس طرح طیارے کی سروس میں آمد کا متوقع وقت 2040 سے آگے بڑھتے بڑھتے 2055 تک چلا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جس تعاون کا مقصد اخراجات کم کرنا تھا، وہ خود مہنگا اور پیچیدہ بنتا گیا۔

یورپی سپرفائٹر منصوبہ اور فرانس جرمنی کا دفاعی تنازع
یورپ برسوں سے یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ دفاع کے معاملے میں امریکہ پر انحصار کم کیا جائے (فوٹو: اے آئی)

اب یورپ کے سامنے کیا راستہ ہے؟

فرانس کا کہنا ہے کہ وہ نئے لڑاکا طیارے کا منصوبہ جاری رکھ سکتا ہے، اگرچہ مالی بوجھ بڑا مسئلہ ہوگا۔

اسی طرح جرمنی کے پاس بھی کئی راستے ہیں، جن میں مکمل جرمن منصوبہ، برطانیہ، اٹلی اور جاپان کے مشترکہ پروگرام میں شمولیت، مزید F-35 طیاروں کی خریداری یا سویڈن کے ممکنہ منصوبے سے تعاون شامل ہیں۔

اسپین اس معاملے میں فی الحال جرمنی کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔

📌 اہم نکات
✈️ فرانس، جرمنی اور اسپین کا چھٹی نسل کا جدید لڑاکا طیارہ تیار کرنے کا مشترکہ منصوبہ شدید اختلافات کے بعد ناکامی سے دوچار ہوگیا۔
🤝 🇫🇷 🇩🇪 🇪🇸 منصوبہ 2017 میں فرانس اور جرمنی نے شروع کیا تھا، جبکہ بعد میں اسپین بھی اس بڑے یورپی دفاعی پروگرام کا حصہ بن گیا۔
🏭 فرانسیسی کمپنی داسو منصوبے کی قیادت اور حساس ٹیکنالوجی پر زیادہ اختیار چاہتی تھی، جبکہ ایئربس جرمنی اور اسپین کے لیے مساوی کردار کی خواہاں تھی۔
⚔️ فرانس اور جرمنی کی فوجی ضروریات بھی مختلف نکلیں؛ پیرس طیارہ بردار جہاز اور جوہری مشنز کے قابل فائٹر چاہتا تھا، جبکہ برلن کی ترجیح نیٹو اور امریکی نظاموں سے ہم آہنگ طیارہ تھا۔
💶 منصوبے کی ابتدائی تخمینی لاگت 100 ارب یورو تھی، جو بڑھتے بڑھتے تقریباً 170 ارب یورو تک پہنچ گئی۔
نئے لڑاکا طیارے کو ابتدا میں 2040 تک سروس میں لانے کا ہدف تھا، لیکن تاخیر کے باعث یہ مدت بڑھ کر تقریباً 2055 تک پہنچ گئی۔
🤖 مجوزہ فائٹر کو مصنوعی ذہانت، معاون ڈرونز، جدید سینسرز، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اور کامبیٹ کلاؤڈ جیسے جدید جنگی نظاموں سے لیس کیا جانا تھا۔
🛡️ منصوبے کی ناکامی نے یورپ کی دفاعی خودمختاری اور مستقبل میں امریکا پر فوجی انحصار کم کرنے کی کوششوں پر بھی بڑے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

ناکامی صرف ایک طیارے کی نہیں

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ FCAS کی ناکامی نے واضح کردیا ہے کہ یورپ کے لیے جدید ہتھیار بنانا شاید اتنا مشکل نہیں، جتنا مختلف قومی مفادات کو ایک میز پر لانا۔

فرانس یورپی دفاعی خودمختاری چاہتا ہے، جرمنی نیٹو کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دونوں اپنی اپنی دفاعی صنعت کو بھی محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔

اسی لیے یہ معاملہ ایک لڑاکا طیارے سے کہیں بڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یورپ واقعی مشترکہ طور پر ایک فوجی طاقت بن سکتا ہے یا دفاع کے معاملے میں مستقبل میں بھی امریکی چھتری کا محتاج رہے گا؟

🛰️ اصل ذرائع ORIGINAL SOURCES یورپ کے چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے، داسو ایئربس تنازع اور FCAS کی ناکامی کے بنیادی حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
✈️ FCAS، داسو اور ایئربس تنازع
الجزیرہ — یورپ کا جدید لڑاکا طیارہ کیوں ناکام ہوا؟ 🇫🇷 🇩🇪 🇪🇸 FCAS منصوبے کی ناکامی، فرانس اور جرمنی کی مختلف فوجی ضروریات، داسو اور ایئربس کے اختلافات، بڑھتی لاگت اور یورپی دفاعی خودمختاری پر جامع اصل رپورٹ۔ 📰 بنیادی تفصیلی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗ روئٹرز — فرانس اور جرمنی کا مشترکہ فائٹر منصوبہ ختم 🇫🇷 🇩🇪 فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے فیصلے، صنعتی اختلافات اور مشترکہ لڑاکا طیارے پر تعاون ختم ہونے سے متعلق بنیادی بین الاقوامی رپورٹ۔ 🌍 بین الاقوامی خبر اصل رپورٹ کھولیں ↗
🔎 دفاعی ماہرین اور تحقیقی اداروں کے تجزیے
IRIS فرانس — یورپی دفاعی تعاون کے لیے بڑی ناکامی 🇫🇷 فرانسیسی دفاعی ماہر ژاں پیئر مولنی کا تجزیہ، جس میں داسو اور ایئربس کے اختلاف، کام کی تقسیم اور فرانسیسی جرمن دفاعی تعاون کی بنیادی خامیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 🎯 فرانسیسی دفاعی تجزیہ تجزیہ کھولیں ↗ DGAP جرمنی — FCAS کی ناکامی سے یورپ کیا سیکھ سکتا ہے؟ 🇩🇪 جرمن کونسل آن فارن ریلیشنز کے ایمیل آرشامبو کی پالیسی اسٹڈی، جس میں سیاسی قیادت کی کمزوری، صنعتی مفادات اور منصوبے کی ممکنہ نئی ساخت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 🧠 جرمن پالیسی تجزیہ تحقیقی رپورٹ کھولیں ↗
🇫🇷 🇩🇪 🇪🇸
ادارتی نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں اصل بین الاقوامی رپورٹ، روئٹرز کی خبر اور فرانس و جرمنی کے معتبر دفاعی و خارجہ پالیسی تحقیقی اداروں کے تجزیوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ BY: overseaspost.net