یورپ برسوں سے یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ دفاع کے معاملے میں امریکہ پر انحصار کم کیا جائے اور ایسی جدید فوجی طاقت بنائی جائے جو عالمی سطح پر واشنگٹن، ماسکو اور بیجنگ کا مقابلہ کرسکے۔
مزید پڑھیں
اسی سوچ کے تحت فرانس، جرمنی اور بعد میں اسپین نے ایک ایسے سکستھ جنریشن لڑاکا طیارے کی تیاری کا منصوبہ شروع کیا تھا جو آنے والی دہائیوں میں یورپی فضائی طاقت کی بنیاد بنتا۔
تاہم تقریباً ایک دہائی کی طویل منصوبہ بندی، اربوں یورو کے بھاری اخراجات اور بڑے بڑے دعووں کے بعد یہ منصوبہ فرانس اور جرمنی کے اختلافات کی نذر ہوگیا۔
یوں ایک جدید جنگی طیارے کی ناکامی نے یورپی دفاعی خودمختاری سے متعلق کئی بڑے سوال اٹھا دیے ہیں۔
🎯 یہ کیوں اہم ہے؟
منصوبہ صرف لڑاکا طیارے تک محدود نہیں تھا
2017 میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور اس وقت کی جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے مستقبل کے فضائی جنگی نظام، یعنی FCAS، پر کام شروع کیا۔ بعد میں اسپین بھی اس میں شامل ہوگیا۔
منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 100 ارب یورو رکھی گئی تھی اور اس کا مقصد سکستھ جنریشن لڑاکا طیارہ تھا۔
لیکن اس کے ساتھ خودکار ڈرونز، جدید سینسرز، مصنوعی ذہانت، مشترکہ ڈیٹا نیٹ ورک اور ایسا کامبیٹ کلاؤڈ بھی تیار ہونا تھا جو میدان جنگ میں مختلف طیاروں اور نظاموں کو ایک دوسرے سے جوڑتا۔
اس جدید ترین طیارے کو رافال اور یوروفائٹر ٹائیفون کا جانشین بننا تھا۔
اصل منصوبہ یہ تھا کہ یہ طیارہ دشمن کے ریڈار سے بڑی حد تک چھپ سکے، اپنے ساتھ ڈرونز کے پورے گروپ کو کنٹرول کرے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے پائلٹ کو چند لمحوں میں فیصلہ کرنے کے قابل بنائے۔
اصل لڑائی طیارے سے زیادہ اختیار کی تھی
ظاہری طور پر تنازع تکنیکی معاملات پر تھا، مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ منصوبے کی قیادت کس کے پاس ہوگی۔
فرانسیسی کمپنی داسو، جو رافال اور میراج جیسے لڑاکا طیارے بنا چکی ہے، چاہتی تھی کہ نئے طیارے کے ڈیزائن اور حساس ٹیکنالوجی سے متعلق آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہو۔
یورپی سپر فائٹر منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟
فرانس اور جرمنی کے اختلافات نے دفاعی خواب توڑ دیا
💰 بجٹ کا بوجھ اور التوا 📈
170ابتدائی 100 ارب یورو کا تخمینہ بڑھ کر 170 ارب یورو تک جا پہنچا، جبکہ طیارے کی تیاری 2040 کے بجائے 2055 تک مؤخر ہو گئی۔
⚔️ اختیارات اور تکنیک کی جنگ 🛡️
فرانسیسی کمپنی داسو ڈیزائن کا حتمی اختیار چاہتی تھی، جبکہ جرمن ایئربس مساوی شراکت داری پر بضد رہی۔
🎯 مختلف فوجی ترجیحات 🛩️
فرانس کو بحری جہاز سے اڑنے والا جوہری طیارہ چاہیے تھا، جبکہ جرمنی نیٹو کے ساتھ مربوط نظام کا خواہاں تھا۔
🌐 امریکی انحصار کا بڑا چیلنج 🌍
منصوبے کی ناکامی نے ثابت کر دیا کہ یورپی ممالک کے لیے اپنے قومی مفادات چھوڑ کر مشترکہ فوجی طاقت بننا انتہائی مشکل ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس کمپنی کا مؤقف تھا کہ جدید لڑاکا طیارہ کسی ایسی مشترکہ انتظامیہ کے ذریعے نہیں بنایا جاسکتا جہاں ہر شریک کو برابر اختیارات حاصل ہوں۔
دوسری طرف جرمنی اور اسپین کی نمائندگی کرنے والی ایئربس مساوی حیثیت چاہتی تھی۔
اس سلسلے میں برلن اور میڈرڈ کا سوال سادہ تھا کہ اگر سرمایہ تقریباً برابر لگایا جارہا ہے تو ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور فیصلہ سازی میں حصہ بھی برابر ہونا چاہیے۔
داسو کو اپنی کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی دفاعی ٹیکنالوجی دوسروں کے ساتھ بانٹنے پر تحفظات تھے اور یہی اختلاف آہستہ آہستہ صنعتی مفادات اور قومی خودمختاری کا مسئلہ بن گیا۔
فرانس اور جرمنی کو ایک جیسا طیارہ بھی نہیں چاہیے تھا
منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک کی فوجی ضروریات بنیادی طور پر مختلف تھیں۔
فرانس جوہری طاقت ہے، اس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز بھی ہے اور وہ دنیا کے مختلف علاقوں میں آزادانہ فوجی کارروائیوں کی صلاحیت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اس لیے پیرس ایسا طیارہ چاہتا تھا جو طیارہ بردار جہاز سے اُڑ سکے، جوہری ہتھیار لے جاسکے اور امریکہ یا نیٹو کی مدد کے بغیر طویل فاصلے کے مشن انجام دے سکے۔
📊 فیکٹ باکس
جرمنی کی ترجیحات مختلف تھیں۔ اُس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز نہیں اور وہ پہلے ہی امریکی F-35 خرید چکا ہے۔ وہ ایسا نظام چاہتا تھا جو نیٹو اور موجودہ امریکی و یورپی دفاعی نیٹ ورک کے ساتھ کام کرسکے۔
یوکرین جنگ کے بعد روس سے متعلق خدشات بڑھے تو جرمنی کے لیے اپنی ضروریات پر سمجھوتا مشکل ہوگیا۔
لاگت بڑھی، وقت ہاتھ سے نکل گیا
اختلافات کے ساتھ منصوبے کی قیمت بھی مسلسل بڑھتی رہی۔ ابتدائی 100 ارب یورو کا تخمینہ بڑھ کر تقریباً 170 ارب یورو تک جا پہنچا۔
اس طرح طیارے کی سروس میں آمد کا متوقع وقت 2040 سے آگے بڑھتے بڑھتے 2055 تک چلا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ جس تعاون کا مقصد اخراجات کم کرنا تھا، وہ خود مہنگا اور پیچیدہ بنتا گیا۔
اب یورپ کے سامنے کیا راستہ ہے؟
فرانس کا کہنا ہے کہ وہ نئے لڑاکا طیارے کا منصوبہ جاری رکھ سکتا ہے، اگرچہ مالی بوجھ بڑا مسئلہ ہوگا۔
اسی طرح جرمنی کے پاس بھی کئی راستے ہیں، جن میں مکمل جرمن منصوبہ، برطانیہ، اٹلی اور جاپان کے مشترکہ پروگرام میں شمولیت، مزید F-35 طیاروں کی خریداری یا سویڈن کے ممکنہ منصوبے سے تعاون شامل ہیں۔
اسپین اس معاملے میں فی الحال جرمنی کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے۔
📌 اہم نکات
ناکامی صرف ایک طیارے کی نہیں
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ FCAS کی ناکامی نے واضح کردیا ہے کہ یورپ کے لیے جدید ہتھیار بنانا شاید اتنا مشکل نہیں، جتنا مختلف قومی مفادات کو ایک میز پر لانا۔
فرانس یورپی دفاعی خودمختاری چاہتا ہے، جرمنی نیٹو کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دونوں اپنی اپنی دفاعی صنعت کو بھی محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔
اسی لیے یہ معاملہ ایک لڑاکا طیارے سے کہیں بڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یورپ واقعی مشترکہ طور پر ایک فوجی طاقت بن سکتا ہے یا دفاع کے معاملے میں مستقبل میں بھی امریکی چھتری کا محتاج رہے گا؟