پاکستان سعودی عرب کا دفاع، ایران سے مذاکرات، چین کی معاونت اور امریکا سے معاشی تعاون کی بازی کھیل رہا ہے
پاکستان ایک طرف دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی مضبوط بنا رہا ہے اور دوسری طرف ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین بحری تجارتی راستے کھلوانا چاہتا ہے، جبکہ اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ نئی معاشی شراکت داری کا خواہاں ہے۔
یہ سفارتی سرگرمی پاکستان کو غیرمعمولی علاقائی اہمیت دے سکتی ہے مگر ثالثی کی ناکامی اسے جنگ میں بھی کھینچ سکتی ہے۔
اسلام آباد، ریاض کے ساتھ دفاعی اتحاد، بیجنگ سے اسٹریٹجک شراکت، تہران سے رابطوں اور واشنگٹن کی نئی قربت کو علاقائی اثرورسوخ اور معاشی فوائد میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ کھیل پاکستان کی توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت سے بڑا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
10 اپریل کی شام، امریکا اور ایران کے درمیان اُس امن مذاکراتی دور سے صرف ایک روز قبل، جس کی میزبانی پاکستان کرنے والا تھا، سعودی وزیرِ خزانہ محمد الجدعان اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے۔
ایران کے حملوں کا سامنا کرنے والا سعودی عرب محض ایک اور اظہارِ یکجہتی نہیں چاہتا تھا، وہ اپنے پاکستانی اتحادی سے دفاعی عزم کا عملی مظاہرہ چاہتا تھا۔
فنانشل ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، جس نے معاملے سے باخبر دو افراد کا حوالہ دیا، پاکستانی قیادت کو ایک نہایت حساس فیصلہ کرنا تھا:
سعودی عرب کو فوجی مدد بھیج کر ایران کی ناراضی اور ثالث کی حیثیت کو خطرے میں ڈالا جائے، یا ریاض کا ساتھ دینے میں ہچکچاہٹ دکھا کر اُس تعلق کو نقصان پہنچایا جائے جس پر پاکستانی معیشت کئی دہائیوں سے انحصار کرتی آئی ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔
جنگی طیارے، فوجی عملہ اور چین میں تیار کردہ فضائی دفاعی نظام مملکت بھیج دیا گیا۔ لیکن اسی دوران اسلام آباد نے ایران اور امریکا سے رابطے بھی جاری رکھے، تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ کسی اتحادی کا دفاع، اس کے حریف سے مذاکرات کی راہ بند نہیں کرتا۔
مزید پڑھیں
یہی فیصلہ آج پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی بازی کا خلاصہ ہے:
سعودی عرب کا دفاع، چین کو مطمئن رکھنا، ایران سے بات چیت اور واشنگٹن کے ساتھ ایک نیا دروازہ کھولنا—اور یہ سب ایک ایسی معیشت کے سہارے، جسے مستحکم رہنے کے لیے اب بھی بیرونی قرضوں، ذخائر اور مالی تعاون کی ضرورت ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان کا تعاون اب محض تاریخی تعلقات، مذہبی
وابستگی، پاکستانی افرادی قوت یا ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں رہا۔
ستمبر 2025 میں دونوں ممالک نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دوسرے کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
روایتی اتحاد سے عملی دفاعی ذمہ داری تک
اس معاہدے نے کئی دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون کو باقاعدہ شکل دی، جس میں تربیت، تکنیکی معاونت اور سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی شامل رہی ہے۔
تاہم اس معاہدے کا حقیقی امتحان اُس وقت شروع ہوا جب سعودی عرب ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا براہِ راست ہدف بنا۔
اہم نکات +
- پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون مزید مضبوط کر رہا ہے۔
- ایران کے ساتھ مذاکراتی روابط اور سرحدی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش جاری ہے۔
- چین پاکستان کو علاقائی رابطہ کاری میں اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔
- امریکا کے ساتھ معاشی تعاون مالی استحکام کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔
- پاکستان کی حکمتِ عملی کسی ایک فریق کے انتخاب کے بجائے علاقائی توازن پر مبنی ہے۔
رائٹرز نے سکیورٹی اور حکومتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اسلام آباد نے جنگی طیاروں، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور اضافی فوجیوں کے ذریعے سعودی عرب میں اپنی دفاعی موجودگی مضبوط کی۔
یوں پاکستان تربیتی اور تکنیکی تعاون سے آگے بڑھ کر سعودی دفاع کو عملی طور پر مضبوط بنانے کے مرحلے میں داخل ہوگیا۔
اسی دوران اسلام آباد کو سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت ملی، جبکہ 5 ارب ڈالر کی سابقہ ڈپازٹ سہولت کی مدت بھی بڑھا دی گئی۔
یہ مدد ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کے ایک بڑے مالی مطالبے کا سامنا تھا، جو اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کے قابلِ ذکر حصے کے برابر تھا۔
تاہم دونوں پیش رفت کا ایک ہی وقت میں ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ فوجی تعاون کے بدلے مالی مدد کا کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوا تھا۔
سعودی عرب نے کہا کہ یہ رقم پاکستان کے توازنِ ادائیگی کو مضبوط بنانے کے لیے فراہم کی گئی، جبکہ ریاض یا اسلام آباد میں سے کسی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ مالی معاونت جنگی طیارے، فوجی یا دفاعی نظام بھیجنے سے مشروط تھی۔
اسی لیے فنانشل ٹائمز کی پیش کردہ تصویر کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے، اور مصدقہ حقائق کو سیاسی نتائج یا اخذ کردہ مفروضوں سے الگ رکھنا چاہیے۔
تاہم کسی براہِ راست سودے کی عدم موجودگی بھی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتی کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سلامتی اور معیشت گہرائی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ چکے ہیں۔ سعودی عرب کو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو سعودی مالی تعاون، توانائی، سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کی۔
فیکٹ باکس +
یہ باہمی انحصار کا تعلق ہے، لیکن مکمل طور پر برابر نہیں کیونکہ پاکستان ہر علاقائی بحران میں اپنی معاشی کمزوریوں کا بوجھ بھی ساتھ لے کر داخل ہوتا ہے۔
مذاکرات کے لیے چینی دباؤ
سعودی عرب پاکستان سے اپنے دفاعی وعدے پورے کرنے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ چین چاہتا ہے کہ اسلام آباد ایک مختلف کردار ادا کرے:
مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھولے اور اُس بحران کو روکنے میں مدد دے جو بیجنگ کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
رائٹرز کی خصوصی کے مطابق پاکستان، چینی کوشش کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے 10 روز کے دوران دو مرتبہ اسلام آباد کا دورہ کیا اور پاکستانی سیاسی قیادت کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔
وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران اس نئی کوشش پر چینی حکام سے بات چیت کی۔
چینی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ طور پر پاکستان اور دوسرے فریقوں کی ثالثی کی حمایت کا اعلان کیا۔
چین کے محرکات واضح ہیں۔
بیجنگ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس کے تیل کا بنیادی خریدار ہے۔
چینی تجارت کے اہم بحری راستے خلیج اور بحیرۂ احمر سے گزرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور افریقہ تک پہنچتے ہیں۔
اس لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بیک وقت بدامنی توانائی، انشورنس اور بحری نقل و حمل کی لاگت بڑھانے کے ساتھ چینی سپلائی چین کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔
صحافتی تجزیہ +
پاکستان کی موجودہ حکمتِ عملی کو محض روایتی سفارت کاری نہیں بلکہ دفاعی، معاشی اور علاقائی سلامتی کی مشترکہ پالیسی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سعودی عرب اہم دفاعی اور معاشی شراکت دار ہے، جبکہ ایران ایک طویل سرحد رکھنے والا ہمسایہ ہے۔
چین پاکستان کا تزویراتی شراکت دار ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ معاشی روابط مالی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے کسی ایک طاقت کے کیمپ میں مکمل طور پر جانا آسان نہیں۔
اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا فیصلہ بیانات سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ پاکستان اپنے دفاعی وعدوں، ایرانی رابطوں اور معاشی مفادات کے درمیان عملی تضاد پیدا ہونے سے کس حد تک بچتا ہے۔
بیجنگ اسلام آباد سے محض پیغامات پہنچانے کی توقع نہیں رکھتا، وہ چاہتا ہے کہ پاکستان ایران، سعودی عرب اور امریکا سے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اُن سمندری راستوں کو محفوظ بنائے جن پر چینی تجارت کا بڑا حصہ منحصر ہے۔
لیکن سعودی جہازوں اور تنصیبات پر حوثی حملوں نے اس مشن کو مزید مشکل بنادیا ہے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کا خاتمہ، مذاکرات کی بحالی کے لیے پیشگی شرط بن چکا ہے اور اسلام آباد نے یہ پیغام تہران تک پہنچا دیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی ثالثی کی نوعیت بدل دیتی ہے۔
اسلام آباد اب مکمل طور پر تمام فریقوں سے یکساں فاصلے پر کھڑا نہیں، بلکہ خلیج اور بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی وہ حد بن چکی ہے جسے پاکستان نظرانداز نہیں کرسکتا۔
اگر ایران حوثیوں پر دباؤ ڈالنے سے گریز کرتا ہے یا حملے جاری رہتے ہیں تو اسلام آباد کو ثالثی کے کردار پر اپنی دفاعی ذمہ داریوں کو ترجیح دینا پڑسکتی ہے۔
واشنگٹن اور معاشی فائدے کی تلاش
پاکستان نہیں چاہتا کہ اس کا کردار صرف جنگ بندی تک محدود رہے۔
وہ اپنی بڑھتی سفارتی اہمیت کو امریکا کے ساتھ گہرے معاشی تعلقات میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
واشنگٹن طویل عرصے تک پاکستان کو بنیادی طور پر افغانستان اور انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں دیکھتا رہا، مگر اب تعلقات کی نئی بنیاد بنانے کا موقع پیدا ہوا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے دورۂ واشنگٹن کے دوران پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت طلب کی، جس کی مدت 5 سال تک ہوسکتی ہے۔ یہ انکشاف بھی رائٹرز نے کیا۔
واشنگٹن کی منظوری کی صورت میں یہ سہولت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے، روپے پر دباؤ کم کرنے اور آئی ایم ایف، چین اور سعودی عرب پر مالی انحصار میں نسبتاً کمی لانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم یہ ایک غیرمعمولی اور بڑی درخواست ہے، جس کی امریکی وزارتِ خزانہ نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔
امریکی بیان میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور استحکام کی بحالی کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن ساتھ ہی اسلام آباد کو خودانحصاری بڑھانے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی کے لیے حالات بہتر بنانے کی ضرورت یاد دلائی گئی۔
دونوں ملکوں نے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ساتھ تعاون کا فریم ورک تیار کرنے پر بھی کام شروع کردیا ہے، جس پر ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط کیے جاسکتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے؟ +
مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی فوجی کشیدگی کے اثرات تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت، فضائی راستوں، ترسیلاتِ زر اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
اگر پاکستان سعودی سلامتی میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو اسے ایران کے ساتھ سرحدی امن بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔ اسی طرح امریکا کے ساتھ معاشی پیش رفت کرتے ہوئے چین کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری میں بداعتمادی پیدا ہونے سے بچنا ضروری ہوگا۔
اس پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سفارت کاری کو اسی طرح استعمال کر رہا ہے جس طرح دوسرے ممالک اپنی معاشی یا فوجی طاقت استعمال کرتے ہیں:
ایک اہم اسٹریٹجک خدمت کے بدلے شراکت داری، سرمایہ کاری اور مالی سہولت۔
لیکن ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ نیا قرض یا مالی مدد پاکستان کی بنیادی معاشی بیماریوں کا علاج نہیں کرے گی۔
پاکستان ماضی میں سرد جنگ، افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران بھی اپنے جغرافیائی اور فوجی کردار سے فائدہ اٹھا چکا ہے، مگر عالمی ترجیحات بدلنے کے بعد اس کی اہمیت کم ہوتی رہی۔
اگر امریکا کے ساتھ نئی قربت صرف ایران جنگ پر استوار کی گئی تو یہ پرانا نمونہ دوبارہ سامنے آسکتا ہے:
تیزی سے بڑھتی اہمیت اور بحران ختم ہوتے ہی تیزی سے کم ہوتا اثر و رسوخ۔
عاصم منیر اور ریاست کے کردار کی نئی تشکیل
فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس تبدیلی کے مرکز میں رکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ پاکستان کو ایک ایسی مضبوط ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو سلامتی قائم کرنے، سیاسی عدم استحکام ختم کرنے اور سرمایہ کاری لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
- دفاعی اہمیت: خلیجی ممالک سے تعاون پاکستان کی عسکری اور سفارتی اہمیت بڑھا سکتا ہے۔
- معاشی موقع: سعودی سرمایہ کاری اور امریکی تعاون مالی دباؤ کم کر سکتے ہیں۔
- سرحدی سلامتی: ایران کے ساتھ رابطہ بلوچستان اور سرحدی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
- سفارتی اثرورسوخ: کامیاب ثالثی پاکستان کو مسلم دنیا میں زیادہ مؤثر کردار دے سکتی ہے۔
- بنیادی خطرہ: کسی ایک فریق کے بہت قریب جانے سے دوسرے شراکت دار ناراض ہو سکتے ہیں۔
ان کا بیرونی اثرورسوخ اس حقیقت پر قائم ہے کہ پاکستان کی فوج کے پاس وہ چیزیں موجود ہیں جن کا ملک کے بہت سے سول اداروں کو فقدان ہے:
پالیسی کا تسلسل، عالمی فوجی تعلقات کا وسیع نیٹ ورک اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت۔
یہی عوامل عاصم منیر کو سعودی قیادت سے دفاعی رابطے، چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون، ایران سے بالواسطہ بات چیت اور واشنگٹن میں اعلیٰ سطح کی پذیرائی کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
لیکن فوج کے وسیع ہوتے کردار نے اندرونِ ملک ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
حزبِ اختلاف اور انسانی حقوق کے کارکن ریاست پر احتجاج، میڈیا اور عدلیہ کی گنجائش محدود کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، بالخصوص سیاسی کشیدگی اور بلوچستان کی صورتِ حال کے بعد۔
منیر کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مضبوط ریاست کی پالیسی وقتی خاموشی تو پیدا کرسکتی ہے، مگر سیاسی غصے، احساسِ محرومی اور معاشی عدم مساوات کی بنیادی وجوہ کو دور نہیں کرتی۔
دوسری جانب ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ پاکستان کو شدت پسند گروہوں، مغربی سرحد پر جنگ، بھارت کے ساتھ دائمی کشیدگی اور ایران سے بحیرۂ احمر تک پھیلے علاقائی بحران کا سامنا ہے، اس لیے ریاست مضبوط اور مرکزی قیادت کے بغیر اتنے بڑے خطرات کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ممکنہ اگلا منظرنامہ +
پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان مؤثر رابطہ بنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی آئے۔
دفاعی تعاون اور مذاکرات جاری رہیں، مگر کسی بڑے معاہدے کے بغیر حالات کو قابو میں رکھا جائے۔
سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی بڑھنے پر پاکستان سے واضح فریق منتخب کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب، چین اور امریکا کے ساتھ روابط نئی سرمایہ کاری اور مالی استحکام کا راستہ کھول سکتے ہیں۔
دونوں بیانیوں کے درمیان ایک حقیقت واضح ہے:
بیرونی محاذ پر کامیابی اس وقت تک کافی نہیں ہوگی جب تک وہ ملک کے اندر معاشی استحکام، روزگار اور بہتر عوامی خدمات میں تبدیل نہ ہو۔
کمزور معیشت پر کھڑی سفارتی طاقت
پاکستانی معیشت نے دیوالیہ ہونے کے خطرے والے برسوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔
مالی سال 2026 میں عبوری معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جبکہ اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ B- سے بڑھا کر B کردی۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 17 جولائی کو پاکستان کے مجموعی سیال زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 22.67 ارب ڈالر تھے، جن میں 17.26 ارب ڈالر مرکزی بینک کے پاس موجود تھے۔
لیکن یہ استحکام اب بھی مہنگا اور نازک ہے۔
اشیا کا تجارتی خسارہ بڑھ چکا ہے، جبکہ ملک بیرونی قرضوں، ڈپازٹس اور قرضوں کی مدت میں توسیع پر انحصار کرتا ہے۔
ایران جنگ نے تیل، انشورنس اور بحری نقل و حمل کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جبکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔
مالیاتی اشاریوں سے بھی زیادہ گہرا بحران انسانی ترقی کا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے ایک تہائی سے زیادہ بچے تعلیم سے باہر ہیں، جبکہ تقریباً 40 فیصد بچے پست قدی کا شکار ہیں۔
غیرمستحکم پالیسیوں، کمزور انسانی سرمائے اور معیشت میں ریاست کے بھاری کردار نے سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کو محدود کر رکھا ہے۔
مختصر تجزیہ +
یہی پاکستان کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے:
وہ خود کو خلیج کا دفاع کرنے اور ایک علاقائی جنگ ختم کرانے کی صلاحیت رکھنے والی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے، مگر ہر نئے بحران سے گزرنے کے لیے اس کی معیشت اب بھی بیرونی تعاون کی محتاج ہے۔
کامیابی نئی حیثیت دے سکتی ہے
اگر اسلام آباد ایران کو خلیجی ممالک پر حملے روکنے پر آمادہ کرنے، واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے، آبنائے ہرمز کھلوانے اور باب المندب کو محفوظ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ کئی برسوں میں پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
اس کے نتیجے میں امریکی مالی تعاون، خلیجی سرمایہ کاری اور پاکستانی معیشت میں وسیع تر چینی کردار کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
لیکن اگر ثالثی ناکام ہوگئی اور سعودی عرب پر حملے جاری رہے تو باہمی دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان پر اپنی فوجی شرکت بڑھانے کا دباؤ آسکتا ہے۔
ایسی صورت میں ایران کے ساتھ متوازن تعلق برقرار رکھنا مشکل ہوگا، اور پاکستان جنگ روکنے والے ثالث سے آہستہ آہستہ خود جنگ میں کھنچنے والے فریق میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی بازی کا اصل امتحان بیک وقت 4 دارالحکومتوں کو خوش رکھنا نہیں، بلکہ اپنی عارضی اہمیت کو مستقل طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔
جغرافیہ، فوج اور عالمی تعلقات پاکستان کو مذاکرات کی میز پر جگہ تو دلاتے ہیں، مگر مضبوط معیشت اور مستحکم ادارے ہی یہ یقینی بناسکتے ہیں کہ توپیں خاموش ہونے کے بعد بھی یہ نشست پاکستان کے پاس برقرار رہے۔
🌐
اصل اور بنیادی ذرائع
پاکستان، ایران، چین، امریکا اور سعودی عرب کے درمیان نئی سفارتی کوشش، معاشی تعاون اور دفاعی توازن سے متعلق بنیادی و تجزیاتی ذرائع
10 ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
پاکستان، ایران، چین، امریکا اور سعودی عرب کے درمیان نئی سفارتی کوشش، معاشی تعاون اور دفاعی توازن سے متعلق بنیادی و تجزیاتی ذرائع